سیاسی ماہرین کے بارے میں ایک ولایتی لطیفہ اور دیسی سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت ہے کہ سات سمندر پار امریکہ میں ایک مردک کہ نام اس کا جیک تھا، اپنی گاڑی میں ایک دور دراز کے دیہاتی علاقے سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے ارد گرد بڑے بڑے فارم کہ امریکہ میں رانچ کہلاتے ہیں، دکھائی دے رہے تھے مگر دور دور تک آدم تھا نہ آدم زاد۔ اچانک گاڑی نے چند جھٹکے کھائے اور بند ہو گئی۔ جیک اپنی قسمت کو کوستا ہوا باہر نکلا۔ پھر جیسا کہ مرد ذات کا طور ہے، گاڑی کا بونٹ کھول کر انجن کو اس طرح گھورنے لگا جیسے اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کر متاثرہ پرزہ خود پکار اٹھے گا کہ ہاں میں ہوں مجرم۔

ابھی وہ انجن کو گھور ہی رہا تھا کہ ایک آواز آئی ”میرا خیال ہے کہ سپارک پلگز میں کچرا آ گیا ہے۔ کھول کر صاف کرو تو گاڑی سٹارٹ ہو جائے گی“۔
جیک نے بونٹ سے سر نکال کر دیکھا تو ارد گرد کوئی شخص دکھائی نہیں دیا۔ اس نے سوچا کہ اسے وہم ہوا ہو گا اور دوبارہ انجن میں سر ڈال کر غور کرنے لگا۔

اتنی دیر میں پھر آواز آئی، اور اس مرتبہ وہ پہلے سے زیادہ بلند تھی ”یہ پلگ میں کچرے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ “

جیک نے پھرتی سے سر باہر نکالا، کوئی آدمی دکھائی نہ دیا۔ اس نے گاڑی کے گرد چکر لگایا، اس کے اوپر دیکھا، نیچے دیکھا مگر کوئی نہیں تھا۔ جاندار کے نام پر ادھر صرف دو گھوڑے کھڑے تھے جو باڑ سے سر باہر نکالے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ جیک نے مایوس ہو کر دوبارہ انجن کا رخ کیا ہی تھا کہ ایک غصیلی آواز سنائی دی ”تم میری بات کیوں نہیں سنتے۔ پلگ کا کچرا صاف کرو، گاڑی سٹارٹ ہو جائے گی“۔

اس مرتبہ جیک کو یقین ہو گیا کہ آواز گھوڑوں کی سمت سے آئی ہے۔ ”شاید کوئی کم بخت ان گھوڑوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور میرا مذاق اڑا رہا ہے“، جیک نے یہ سوچتے ہوئے گھوڑوں کے پیچھے چھپے ہوئے آدمی کی تلاش میں نگاہیں دوڑائی ہی تھیں کہ کالا گھوڑا اپنی اگلی ٹانگیں اٹھا کر زور سے بولا ”تم ایک نہایت نکمے انسان ہو، جب میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ مسئلہ سپارک پلگز میں ہے تو تم میری بات کیوں نہیں سنتے؟ “ یہ کہتے ہی کالا گھوڑا چھلانگ لگا کر باڑ ٹپ گیا اور جیک کی طرف چلنے لگا۔

جیک کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس نے ایسے جی جان سے دوڑ لگائی کہ گھوڑا اس کا پیچھا کرتا تو دوسرے نمبر پر آتا۔ دو کلومیٹر دوڑنے کے بعد ایک گاؤں کے آثار دکھائی دیے۔ سب سے پہلی دکان موٹر مکینک کی تھی، جیک نے اسے اپنی گاڑی ٹھیک کر کے لانے کے لئے دگنی اجرت دی اور پھر اپنے اوسان بحال کرنے کی خاطر بازار میں موجود شراب خانے کا رخ کیا۔

ادھر جاتے ہی اس نے دو جام چڑھا لیے مگر خوف سے اس کی بری حالت تھی۔ شراب خانے کے افسر نے کہ بارٹینڈر کہلاتا تھا، اسے تیسرا جام تھماتے ہوئے کہا ”کیا بات ہے میرے دوست، تمہاری حالت سے لگ رہا ہے جیسے تم نے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو“۔

جیک کچھ دیر غور کرتا رہا کہ اسے بولنے والے شیطانی گھوڑے کے متعلق بتائے تو بارٹینڈر اسے کتنا احمق سمجھے گا۔ مگر پھر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر اس نے سچ بولنے کا فیصلہ کر لیا اور کہنے لگا ”ادھر کچھ فاصلے پر میری گاڑی خراب ہو گئی تھی، پاس صرف دو گھوڑے تھے، ان میں سے ایک نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میری گاڑی کے سپارک پلگز میں کچرا آ گیا ہے۔ تم یقین نہیں کرو گے مگر اس نے بالکل واضح الفاظ میں یہ کہا تھا“۔

بارٹینڈر نے نہایت توجہ سے جیک کی بات سنی اور پھر حیرت آمیز لہجے میں کہنے لگا ”تم نے کہا کہ ادھر دو گھوڑے تھے اور ایک گھوڑے نے تمہیں گاڑی کی خرابی کے بارے میں بتایا؟ “
جیک نے خوفزدہ انداز میں کہا ”ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ شاید گھوڑے کے روپ میں کوئی جن بھوت تھا۔ میں تو اس کی بات سن کر خوف سے مر ہی گیا تھا“۔

”دو گھوڑے، کیا ایک کالا تھا اور دوسرا سفید؟ “ بارٹینڈر نے نہایت دلچسپی سے پوچھا۔
جیک نے سوچا کہ یہ تو واقعی آسیبی معاملہ ہے۔ بارٹینڈر کو بھی علم ہے کہ اس ویران سڑک پر جنات گھوڑے کی شکل میں گھومتے ہیں۔ اس نے تصدیق کی ”ہاں کالا اور سفید گھوڑا تھا“۔

”اور کالے گھوڑے نے تمہیں سپارک پلگز کے بارے میں بتایا تھا؟ “ بارٹینڈر نے پوچھا۔
”ہاں کالے نے ہی مجھ سے بات کی تھی“۔ جیک نے جواب دیا اور سوچا کہ اب بارٹینڈر اسے اس آسیب کے بارے میں اصل کہانی سنائے گا۔

”اوہ، پھر ٹھیک ہے، میں تو پریشان ہی ہو گیا تھا“ بارٹینڈر نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے بے نیازی سے ایک گلاس اٹھایا اور اسے چمکانے لگا۔ ”سفید گھوڑے کو گاڑیوں کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔ “

تو صاحبو، معاملہ یہ ہے کہ اگر آپ کو کوئی تجزیہ نگار آج کل کے سیاسی حالات کے بارے میں کوئی بات بتا دے تو آپ کے لئے حیرت کی بات یہ نہیں کہ وہ حالات سے باخبر ہے، آپ کے لئے حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ بولتا کیوں ہے، سفید گھوڑے کی طرح چپ کیوں نہیں رہتا۔ اور افسر کے لئے اطمینان کی بات یہ ہے کہ درست والا گھوڑا بولتا ہے۔
ایک قدیم ولایتی لطیفے سے کشید کردہ سبق۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1239 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *