پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عیسوی تقویم کی اکیسویں صدی کا انیسواں سال اختتام کو پہنچا، اکیسویں صدی نے ٹین ایجز سے نکل کر بلوغت میں قدم رکھ دیا اور بیس سال کی ہوگئی۔ ہر طرف چراغاں کیا گیا، نئے سال کو خوش آمدید کہا گیا، تقریبات منعقد کی گئیں اور جشن منائے گئے مگر کہیں کوئی سنجیدہ مکالمہ نظر نہیں آیا کہ یہ سال کن متوقع تبدیلیوں کا سال ہوسکتا ہے یا اس سال میں کن باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک نئے سال کی آمد پر خوشیاں تو منا رہے ہیں مگر شاید ہم بھول رہے ہیں کہ ایک سےبڑا ایک  جن ہمیں دبوچنے کو تیار بیٹھا ہے۔

ایک طرف ماحولیاتی آلودگی کا عذاب ہماری زندگیوں کو مزید اجیرن کرنے کو بے چین ہے تو دوسری طرف دنیا کو توانائی کے بحران کا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف گلوبل وارمنگ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ رہی ہے اور اوسط درجہ حرارت بلندیوں کو چھو رہا ہے تو دوسری طرف زلزلوں اور آتش فشاں پھٹنے کا عمل تیز تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایک طرف اخلاقی قدریں زوال کی آخری حد پہ کھڑی ہیں تو دوسری طرف رشتے اپنی موت آپ مر رہے ہیں۔

کہیں افراطِ زر اور سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے تیسری دنیا کو جہنم بنائے ہوئے ہیں تو کہیں عالمی طاقتیں نشے کی جھونک میں دنیا کا سکون غارت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ الغرض یہ کہ ہر طرف مسائل کا انبار ہے جن کا بنی نوع انسان کو سامنا ہے مگر ہم اس بات سے قطع نظر اپنی ہی مستی میں مست ہیں اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے جشن منا رہے ہیں۔

کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے

کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے

مجھے نئے سال کی آمد کے جشن سے کوئی مسئلہ نہیں ہے نہ ہی میرا مطمعِ نظر لوگوں کے کسی عمل پر تنقید کرنا ہے۔ میں تو کچھ بنیادی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کی بات کررہی ہوں جن کی ہم پاسداری کریں تو ہم 2020 میں دنیا کو رہنے کے لیے ایک نسبتاً بہتر جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کی جو بحیثیت انسان ہم پر عائد ہوتی ہے اور جن کی پاسداری کرنا جہاں ہمارا اخلاقی، ملی و مذہبی فریضہ ہے وہی انسانیت کی فلاح کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہماری انفرادی کوششیں اجتماعیت کا روپ دھار کر ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ستے ہوئے چہروں پر خوشیاں لانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اور اگر ایسا ممکن ہے تو پھر دیر کس بات کی ہے۔ آئیے آج اور ابھی سے ایک نئے سال کے ساتھ ہی کچھ عہد کرتے ہیں جیسے ظفر اقبال نے کہا تھا کہ

چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں

دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے

آئیے مل کر یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر وہ عمل کریں گے جس سے دنیا پہلے کی نسبت بہتر ہوسکتی ہے اور جو انسانیت کی فلاح و بہبود کا باعث بن سکتا ہے۔ اور ہر اس عمل سے گریز کریں گے جو دلوں میں کدورتیں پیدا کرنے کا باعث بنے۔ ہم تعلیم، مذہب، سائنس، اخلاقیات، ٹیکنالوجی ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اور دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لئے ایسے اقدامات کریں گے جن سے ان کی بقا کو درپیش خطرات ٹل سکیں۔ ہم دنیا کی بہتری میں حتی المقدور اپنا حصہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کریں گے اور اس عمل میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ یقین مانیں اگر ہم یہ تہیہ کر لیتے ہیں اور پھر اس پر صدق دل سے عمل کرتے ہیں تو یہ دنیا آنے والے سالوں میں آج سے بہت بہتر جگہ ہوگی۔ آخر میں یہ دعا کہ

نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *