جینی کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنا بھاری بھرکم بیگ سنبھالے جب میں ایجنسی میں داخل ہوئی تو ایک آواز میرا پیچھا کر رہی تھی۔ ”مسز امام کیا تمھارے کیس لوڈمیں مزید کسی کلاینٹ کی گنجائش ہوگی؟ “ میں نے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی۔ ایک یوریپین نژادلڑکی، جٹ سیاہ لمبے بالوں کی عین کانوں کے اوپر کس کے بندھی، سینے پہ جھولتی دو چوٹیاں، چشمہ کے اندر سے جھانکتی زندگی سے بھر پور ذہین آنکھیں جن میں سچائی اور معصومیت عیاں تھی۔ اور عمر یہی کوئی تیس بتیس سال۔ جانے کیوں پہلی ہی نظر میں مجھے یقین سا آگیا کہ وہ پوری دیانت داری سے اپنے نشہ کے علاج کی متمنی ہے۔

میں منشیات کے علاج کے لیے قائم ادارے ”برائٹ ہاؤس سینٹر“ میں تھرپسٹ کی حیثیت سے کام کرتی ہوں۔ یہاں اپنے نشہ کے علاج کی غرض سے آنے والے کلاینٹس کہلاتے ہیں۔ جو کبھی عدالتی فیصلوں کی وجہ سے طوعاً و کراعاً تو کبھی گھروالوں اور ملازمتی اداروں کی زور زبردستی سے مجبور ہوکر علاج کے لیے داخل ہوجاتے ہیں۔ ایک قلیل تعداد ان کی بھی ہوتی ہے جواپنی مرضی سے نشہ کو خیرآباد کہنا چاہتے ہیں۔ جینیفر عرف جینی کا تعلق ان میں ہی سے تھا۔

جب اپنا اسکیڈیول دیکھ کر میں نے جینی کو بتایا کہ اس کا انفرادی سیشن اگلے ہفتہ سے شروع ہوسکتا ہے تو اس کے چہرے کی بے چینی مطمئین ہنسی میں تبدیل ہوگئی۔ وہی نقرئی قہقہہ جو اگلے کئی ماہ ہفتہ وار سیشن میں گونجتا رہا۔ جینی جو کوکین اور الکحول کے نشہ کی علت کا شکار تھی ہر جمعرات کی دوپہر تین بجے سے کچھ پہلے ہی میرے آفس کے باہر صوفے پہ میری منتظر ہوتی تو کبھی ایجینسی کے باہر کھلے آسمان تلے سگریٹ کے گہرے کش لگا رہی ہوتی۔

منشیات کے علاج کا طریقہ کار اس طرح ہوتا ہے کہ ابتدا میں کلاینٹ تھریپسٹ کی مدد سے اپنے گولز یا حدف کا انتخاب کرکے ایک مکمل لائحہ عمل تشکیل دیتا ہے۔ تاکہ ایک متعین مدت میں کم از کم تین یا چارگولز پورے ہوسکیں۔ جینی نے نشہ سے مکمل پرہیزکے علاوہ ملازمت کا حصول اور ایک گھر میں منتقلی کے گولزکا انتخاب کیا۔ ایک گھر جسے وہ اپنا کہہ سکے اور جس کی گود میں سکون سے سو سکے۔ تمام عمر اپنے حالات کی عسرت اور نشہ کی عادت کی وجہ سے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹھکانے بدلتی رہی۔ کبھی ماں کاتو کبھی باپ کی گرل فرینڈ کا گھر، کبھی بواے فرینڈ کا بد شکل فلیٹ تو کبھی خود اپنا۔ ان عارضی ٹھکانوں کے مقابلے میں سڑکیں اورپھر کسی پارکنگ لاٹ پہ اپنی گاڑی شاید زیادہ مستقل ٹھکانہ تھے۔ کبھی مجھے لگتا جیسے اس کے روئیں روئیں میں پکار ہے کہ ”مجھے اپنا گھرچاہیے۔ “۔

تھراپی سیشنز میں جینی نے اپنے الکحولک ماں اور کوکین کے عادی باپ کی کہانی سنائی جنہوں نے اپنے غیر مستحکم ازدواجی تعلقات کے نتیجہ میں بڑی استقامت سے چار بچے پیدا کیے تین اوپر تلے کی لڑکیاں اور پھر ایک بیٹا۔ ایک ایسا گھر جہاں والدین کواولاد کی ضروریات سے زیادہ منشیات کی فکر تھی وہاں جینی جیسی حساس اور محبتی فطرت کی اولاد ایک تحفہ ہی تو تھی جو گویا ہر ایک کی فکر پہ معمور تھی۔ ”آخر تم ہی میں یہ مسیحائی کیوں؟ “ میں پوچھتی تو جوابا صرف وہ ہنس پڑتی۔ اس کی مخصوص بے ساختہ ہنسی کی جلترنگ ہمیشہ ہی کمرے کی بوجھل فضا کو سبک کرتی رہی۔

ابتدائی سیشنز کے بعد اس کی زندگی کے واقعات کے بیان میں گہرائی آنے لگی۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ آج وہ اپنی زندگی کاشرمناک سچ بتانے والی ہے۔ وہ حقیقت جس کی تلخی اس کے وجود کو گدھ کی طرح نوچ رہی ہے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح اپنے باپ کے ہاتھوں وہ پانچ برس کی عمر سے جنسی تشدد کا شکار رہی۔ جینی جو نجانے کتنے مردوں سے ہمبستری کرتی رہی ہوگی اپنے باپ کے ہاتھوں اس جنسی تشدد کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یوں شرمسار ہو رہی تھی کہ جیسے وہ اس جرم میں برابر کی شریک تھی۔

بیان کرتی ہوئے اس کا لہجہ بوجھل تھا جیسے برکھا سے قبل بادلوں کا بطن پانی کے قطروں سے بھاری ہو جاتا ہے۔ پھر اچانک ہی اس کے آنسووں کا ریلا بہہ نکلاموسلا دھار بارش کی طرح۔ اس لمحہ اس کا جسم سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔ جیسے وہ اُس جسمانی اور جذباتی اذیت سے ایک بار پھر گزر رہی ہو۔ جب وہ کچھ بڑی ہوئی تو اسے پتہ چلا کہ اس کی بہنیں بھی اسی تجربہ سے گزری ہیں۔ اس کا باپ یہ عمل اس وقت کرتا تھا جب وہ بچیوں کو ویک اینڈ پہ اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ اس وقت جینی کے والدین علیحدگی اختیار کر چکے تھے۔ مجھے لگا کہ جیسے وہ اس کریہہ تجربہ کی الٹی کرکے ہمیشہ کے لیے صاف ہونا جاہتی ہو۔ اس دن پورے سیشن کے دوران ایک بار بھی اس کی نقرئی ہنسی نہ گونجی۔

پھر اگلے کسی سیشن میں اس نے اپنے ”جرم“ کا انکشاف کیا کہ وہ اپنی ماں کی قاتل ہے۔ یہ بتاتے ہوئے اس کے گلابی ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ ایک دن کس طرح وہ اپنی ماں کے ساتھ رات کے وقت کسی بار سے آرہی تھی اور ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ جینی ہمیشہ اپنی ماں کے ساتھ اس لیے جاتی تھی کہ واپسی میں وہ گاڑی چلائے اور نشہ میں دھت ماں کو گھر چھوڑ سکے۔ یہ اتفاق ہی توتھا کہ اس دن ماں کے ساتھ جینی نے بھی پی لی تھی اوروہ بھی معمول سے کچھ زیادہ ہی، پر رات کے ایک بجے گاڑی کون چلائے؟

نسبتا بہتر حالت کی وجہ سے اسٹیرنگ ویل جینی نے سنبھالا۔ جینی کو اپنی ماں سے بہت پیار تھا جو اگر نشہ میں نہ ہو تو اچھی ماں اورجینی کی چھ سالہ بیٹی کے لیے محبتی نانی تھی۔ لیکن جینی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ آج کے بعد یہ رشتہ ہمیشہ کے لیے موت کی وادی میں گم ہو جائے گا۔ اس رات جینی کی گاڑی کسی مضبوط درخت سے ٹکرائی اور گہری کھائی میں گرگئی۔ ”جب ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی مگر ماں دنیا چھوڑ چکی تھی۔

اس واقعہ کو دس سال بیت چکے ہیں میں آج بھی سوچتی ہوں کہ میں ماں کی قاتل ہوں۔ اوراس حادثہ نے میری بچی بھی مجھ سے چھین لی۔ میں کیسے بھول جاؤں جب ماں کی موت کے کچھ دنوں بعد چائلڈ پروٹیکٹیو سروسزوالے میرے ہاتھوں سے میری چھ سالہ بچی کو چھین کے لے گئے۔ میری بچی کی معصوم نگاہوں میں سوالات، بے بسی، حیرانی اور بلا کی پریشانی تھی۔ جاتے وقت اس کی فلک شگاف چیخیں آج بھی میرے کانو ں میں گونجتی ہیں۔ میری عمر بائیس سال کی تھی مگرآج دس سال بعد بھی زخم تازہ ہے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی اور اس دن مجھے لگا جیسے کمرہ کے درودیوار پہ آنسووں سے جھلملاتی سوالیہ نگاہیں چسپاں ہیں۔ اور اس کی چیخیں دل و دماغ میں حشر برپا کررہی ہیں۔ اس پوری رات میںبے کل رہی۔

ایک دن جینی نے اپنے والٹ میں لگی چار بچوں کی تصویریں دکھائیں ایک گوری رنگت اور تین افریقی نژاد گھونگھریالے بالوں والے شریر سے بچے۔ یہ اس کے دو مختلف بواے فرینڈز سے تھے۔ ان بچوں کو پیدائش کے بعد ہسپتال میں ہی جینی کی گرم گودکی بجائے سسٹم (نظام) کی سرد گود میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ اس کے زرخیز بطن پہ اگنے والی کونپلوں میں بویا جانے والا بیج پوری توانائی سے اگا لیکن مگر اس کو نوچ کر کسی اور مٹی میں پھلنے پھولنے کو دے دیا گیا۔ ”ان بچوں کو بھلا کیا معلوم کہ مشی گن میں کوئی جینی، ان کی ماں، کس طرح ان کی تصویروں کو دیوانہ وارچومتی ہے۔ “

”آخر کیوں اٹھاتی ہو اتنی تکلیف۔ مت پیدا کیا کرو یہ بچے؟ “ اس نے کہاَ ”جانے کیوں ایک امید سی ہوتی ہے کہ شاید کوئی بچہ کبھی میرے پاس بھی رہ سکے“۔ پھر وہ مسکرائی۔ ”ویسے یہ کتنی اچھی بات ہے کہ یہ بچے اچھے گھروں میں پل رہے ہیں۔ پڑھ لکھ رہے ہیں“۔ اس نے المیہ میں بھی خوشی کا جواز ڈھونڈ لیا تھا۔ ایک مستحکم گھرمیں بچوں کا ہونا۔ جس کی خواہش میں جینی آج بھی بے چین تھی اور تعلیم کا حصول بھی جینی کا خواب تھا۔ ”میں نرس بننا چاہتی ہوں“ اس نے اس خواہش کو مسقبل قریب کے لیے اٹھا رکھا تھا۔

جینی نے بتایا کہ اس کا بوائے فرینڈ اسے بہت چاہتا ہے اور نہ صرف وہ بلکہ اس کے والدین بھی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ”وہ چاہتے ہیں کہ ہم دونوں نشہ سے پاک زندگی گزاریں اور اپنا گھر بسائیں۔ اور ہم دونوں نے بھی سوچ لیا ہے کہ بس یہ ہماراآخری ٹریٹمنٹ سینٹر ہے۔ “ جینی کا بوائے فرینڈ اپنے نشہ کی عادت پہ قابو کے لیے کسی اورجگہ زیر علاج تھا۔ کیونکہ ایجنسی کی قواعدکی رو سے محبت کرنے والے جوڑے ایک ایجنسی میں نہیں رہ سکتے تھے۔ رومانی تعلقات کی خاص کر ابتدائی علاج میں حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

ریاست کی جانب سے ملنے والی فنڈنگ کی وجہ سے جینی ادارہ کے طرف سے ملنے والے اپارٹمنٹس میں ایک سال رہ سکتی تھی۔ لیکن اس کا ارادہ جلد ہی اپنا گھر لینا تھا تاکہ دسمبر میں کرسمس ٹری اپنے ہاتھوں سے سجا سکے اپنے محبوب کے ساتھ۔ وہ اپنے گولزپہ دیوانہ وار کام کر رہی تھی۔ ایک گیس اسٹیشن پہ نوکری کرنے کی وجہ سے اس نے اتنے پیسے جمع کر لیے تھے کہ اپنے بنیادی اخراجات پورے کر سکے۔

ابھی کرسمس میں ڈیڑھ ماہ باقی تھا۔ وہ تن دہی سے نہ صرف اپارٹمنٹ کے ڈاؤن پے منٹ کے بلکہ سیکنڈ ہینڈ سامان اور کرسمس ٹری کے لیے بھی رقم جمع کر رہی تھی۔ غرض خوابوں کا ایک سلسلہ تھا اور ان کے حصول کی دیوانگی۔ میرے دل میں اس کے ”اپنے گھر“ کی خواہش کا احترام ہونے کے باوجود کچھ سوال تھے جو پریشان کر رہے تھے۔ مثلاً کیا اس کا بوائے فرینڈ بھی (فکری) تبدیلی کے اسی مقام پہ ہے؟ کیا وہ بھی نشہ کی علت پہ اس حد تک قابو پا چکاہے جتنا جینی؟

وہ گھر کی کس حدتک ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیارہے؟ میری سمجھ کے مطابق ابھی جینی کو انتظار کرنا چاہیے کم ازکم ریاست کی فنڈنگ تک۔ مگر جینی کا اصرار مصلوب مسیحا کی سالگرہ نشہ سے پاک فضا میں منانے کا تھا۔ اپنا گھر کہ جس کے کونے میں سجے جھلملاتے کرسمس ٹری کی روشنی میں وہ اپنے وجود کے اندھیروں کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ سکے۔

جینی نے پہلی دسمبر کی دوپہر اپنا فیملی سیشن میرے ساتھ رکھا تاکہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ میری موجودگی میں مستقبل کی بابت کچھ فیصلہ کرسکے۔ مگر وہ پہلی بار تھا کہ جینی اپنے سیشن میں نہ آسکی۔ کہیں اس کے بوائے فرینڈ نے اس کی مہینوں کی محنت کواکارت تو نہیں کردیا؟ تاہم مجھے اطمینان تھا کہ میرا نمبر اس کے پاس ہے اور میری اجازت تھی کہ وہ کسی بھی ایمرجینسی میں مجھے فون کرسکتی ہے۔ پھر یہی ہوا۔ رات کے گیارہ بجے اس کا زاروقطار روتا فون آیا۔

اس نے بتایا کہ اس کے بواے فرینڈ نے دوبارہ نشہ شروع کردیا ہے۔ ”جینی relapse تو اس قسم کے علاج میں بالکل ممکن ہے“۔ میں نے تسلی دی مگر جینی نے بتایا اپارٹمنٹ کی چابی اس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کسی طور ایجنسی کے اپارٹمنٹ میں جانے کو تیار نہ تھی۔ ”کرسمس میں اپنے گھر مناؤں گی“۔ وہ بلکنے لگی۔ جینی یہ سب ہوگا کچھ اور صبر کر لو۔ میں نے کہا مگر میری آواز ہوا برد ہوگئی۔

پھر اگلے کئی ہفتے سیشن میں اس کی غیر موجودگی کے سبب ایجنسی کی پالیسی کے تحت مجھے اسے ڈس چارج کرنا پڑا۔ مجھے پتہ چلا کہ اب جینی نے بھی ایک بار پھر کوکین کا سہارا ڈھونڈ لیا ہے۔ میرے دل میں ہوک سی اٹھتی۔ اس کا اپنے گھر، تعلیم اور نرسنگ ذریعہ معاش کے خواب، میرے دل کے کسی ویران کونے میں منہ اندھائے سسک رہے تھے۔ پھر دوسرے کلاینٹس سے ملنے والی جینی کی خبریں بھی آنی ختم ہوگئیں۔ میں نے بھی اس سے نامعلوم سے تعلق کے باب پہ نہ چاہتے ہوئے بھی قفل سا لگا لیا۔

”نشہ ایسا ہی بے بس کر دیتا ہے۔ خواب کرچی کرچی ہو جاتے ہیں اور تباہی کے دبانے پہ پہنچ کے بھی ہوش نہیں آتا“۔ اب تو میرے کانوں میں اس کی ہنسی کی کھنک بھی نہیں گونجتی اور میں اسے یونہی بھولے رہتی کہ ایک دن میرے کانوں میں وہی مانوس سی آواز گونجی جسے میں پچھلے کسی موڑ پہ چھوڑ آئی تھی۔ ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ۔ یہ جینی تھی اس نے بتایا کہ اب وہ دوبارہ علاج کے لئے داخل ہوگئی ہے۔ اس کی اسٹیٹ کی جانب سے دوبارہ فنڈنگ ہو گئی ہے اور وہ سال بھر کے لئے یہاں کے اپارٹمنٹ میں رہ سکتی ہے یعنی یہ کہ سپنوں کی جوت کا سلسلہ وہیں سے جڑے گا جہاں سے ٹوٹا تھا۔

میں نے سوچا۔ اس نے گویا میری آواز سن لی۔ ”میرا بوائے فرینڈ نشہ چھوڑنے پہ راضی نہیں۔ اب کی بار میرا سفر تنہا ہی شروع ہوگا۔ اور مجھے اپنے آپ پہ پورا بھروسا ہے۔ اور ہاں اس دفعہ مجھے اپنے گھر جانے کی جلدی بھی نہیں۔ چیزیں اپنے وقت پر ہی ہونا چاہئیں“۔ اس نے سمجھداری سے کہا اور پھر اچانک ہی ہنس پڑی۔ وہی نقرئی قہقہہ کی گونج جو کچھ وقت کے لیے کہیں کھو گئی تھی۔ پھر اس نے کہا ”مسز امام کیا تمھارے کیس لوڈ میں ایک کلاینٹ کی گنجائش ہوگی۔ مجھے یاد آیا یہی تو سوال تھا جو جینی نے پہلی بار مجھ سے پوچھا تھا۔ پھر میں نے سوچا۔ “ یقیناً سوال پرانا ہے مگر اس بار جینی نئی ہے ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply