مکافات عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری ملاقات اس سے ایک سال پہلے ہوئی تھی۔ وہ ایک نہایت ہی ذہین اور سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ ہر وقت مسکراتا رہتا اور بھولی بھالی باتوں سے ہمیں ہنساتا رہتا تھا۔ ایک دن یونہی کلاس میں ٹیچر نے اس سے ریڈنگ کرنے کو کہا تو وہ ریڈنگ نہ کر پایا۔ سب حیران تھے یار اسے کیا ہوگیا، یہ تو اچھا بھلا تھا cgpa بھی اتنا اچھا ہے اور اتنی گندی ریڈنگ۔ اللہ اللہ کر کے وہ دن گزر کیا۔ دوسرے دن ٹیچر کلاس میں آئی تو وہ بہت خوفزدہ تھا۔ ٹیچر نے اس کی جانب دیکھا، پھر کچھ سوچ کر کہنے لگی کے آج ہم کلاس کی بجائے کوئی ایکٹیویٹی کرتے ہیں۔ آج تمام سٹوڈنٹس کوئی نہ کوئی کہانی بیان کریں، اپنی زندگی کا کوئی واقعہ، کوئی تحریر کسی فلم کا سکرپٹ۔

ہم سب باری باری آئے اور محبت، فلم، ڈراموں اور ناولز کی سمری پر مبنی اپنی اپنی کہانیاں پیش کی۔ اب اس کی باری تھی وہ کانپتا ہوا ڈائس پر آیا اور اپنے حواس درست کرتے ہوئے ایک گہرا سانس لے کر بولا۔

احباب میں آپ سے ایک ایسی بات شیئر کرنا چاہتا ہوں جو کبھی میں خود سے سے نہ کہہ پایا۔ وہ بات جس کو کرتے ہوئے میری آنکھیں سمندر بن جاتی ہیں۔ وہ بات جو مجھے احساس دلاتی ہے کہ تم دنیا کے جاہل اور ناکام شخص ہو۔

آج سے کوئی پانچ برس پہلے کی بات ہے جب میں نے ہوش سنبھالا تو میرے اوپر بھوت سوار ہو گیا کہ میں نے اول آنا ہے، اس کے لئے چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ادھر ماں جی کی بھی یہی خواہش تھی کہ میں اچھا پڑھ جاؤں تاکہ آنے والے دنوں میں ان کا سہارا بن پاؤں۔

میں سارا دن باہر رہتا، سکول ٹیوشن واپسی پر مغرب ہو جایا کرتی تھی۔ رات کو جب میں پڑ ھنے بیٹھتا تو ماں جی میرے ساتھ بیٹھ جاتیں۔ چونکہ دنیا میں ہم دونوں کے سوا ہماری فیملی میں اور تھا ہی کون؟ نہ باپ نہ بھائی نہ بہن!

دوران مطالعہ اگر امی جان کوئی بات کرتیں تو میں ان کو خاموش کروا دیتا اور خود پڑھتا یا کتاب میں موبائل رکھ کر گیمز کھیلتا رہتا، لیکن وہ خاموش بیٹھی دیکھتی رہتیں۔ اسی طرح خاموش رہتے دو سال گزر گئے۔ پھر میں کالج چلا گیا اور بدقسمتی سے کالج کے پہلے ہی دن ان کا انتقال ہو گیا۔ میں احساس کمتری کا شکار ہو گیا اور آج تک ہوں۔

آج وہ میرے ساتھ تھیں لیکن خاموش، میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ مجھ سے بات کریں لیکن نہیں، وہ مجھ سے بات کیوں کرتیں ان کو میں نے جو خاموش کروایا تھا۔

اس کا کرنا یہ ہوا کہ خدا نے مجھ سے روانی زبان چھین لی۔ آج میں اچھا لکھ سکتا ہوں لیکن اپنا لکھا ہوا بیان نہیں کر سکتا۔ لوگ مجھے خاموش کرواتے ہیں، میں گھنٹوں بیٹھا ان کا منہ تکتا رہتا ہوں لیکن بولنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔

پوری کلاس خاموش و آبدیدہ تھی۔ ٹیچر کمر تھپکاتے ہوئے تسلی دی کہ اللّٰہ پاک ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے وہ سب ٹھیک کر دے گا! آنسو پونجھتے ہوئے بولا ؛ میم وہ میری ماں سے بھی اتنا ہی پیار کرتا تھا۔ اس جملے نے مجھے خیالوں میں گم کر دیا۔ مجھے بڑوں کی وہ نصیحتیں یاد آنے لگی، ادب کرو گے تو پاؤ گے! ، با ادب بانصیب بے ادب بدنصیب! ۔ میں ان نصیحتوں سے ہوتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہوا اور دیکھا کہ تمام کزن کسی نہ کسی کی غیبتیں کر رہے ہیں۔

کوئی کہہ رہا تھا کہ آج اس نے چچی کو کھری کھری سنا دیں تو کوئی امی سے اور کوئی بھابی سے تنگ نظر آیا۔ مجھے یہاں گھٹن محسوس ہونے لگی تو میں باہر گلی میں آ گیا میں نے دیکھا کہ یہاں گالم گلوچ کا بازار گرم تھا، دکانوں کے سامنے بنچوں پر بوڑھوں کو کھڑے اور نوجوانوں کو بیٹھے پایا۔ یہاں بھی دل نہ لگا تو میں سفر کرنے لگا، یہاں بھی میں نے نوجوانوں کو بیھٹے عورتوں اور بزگوں کو کھڑے پایا۔ عورتوں کو یہاں ایسی نظروں اور القابات سے نوازا جا رہا تھا جن گھروں میں مکروہ اور واہیات قرار دیا جاتا ہے۔

تب سے اب تک میں مسلسل اس سوچ میں گرفتار ہوں کہ اگر ہمارے ساتھ بھی اُس کی طرح ہوگیا تو ہمارے پاس بچے گا کیا، کیونکہ یہ دنیا تو مکافات عمل ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد رضا، فیصل آباد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply