مجھے مرد چاہیے، نکھٹو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے قریب ہی سکھوں کی متروکہ ایک بہت بڑی پرانی حویلی ہے جس کا داخلی دروازہ بڑی سی کمان کی شکل کا اتنا اونچا ہے کہ اس میں سے ہاتھی باآسانی گزر جائے۔ چالیس سال پہلے جب پرائیویٹ سکولوں کو کاروبار کی دوبارہ اجازت ملی تو علاقے کی ایک معتبر خاتون خانم جہاں آرا نے اسے الاٹ کروا لیا اور مناسب تبدیلیاں کر کے اس میں سکول بنا لیا۔ اندر ایک بڑا سا صحن ہے جس میں کبھی لے پالک بچوں اور باندیوں کی لا تعداد اولاد گھوما کرتی ہوگی۔ اب اس میں علاقے کے غریب عوام کے بچے سکول کی چھٹی کے دوران کھیلتے نظر آتے ہیں۔ میڈم ایک پڑھی لکھی ماڈرن خاتون ہیں۔ خواتیں کے حقوق کی پہرے دار کہلواتی ہیں اور جدید کلچر کی مبلغ بھی۔ لیکن اندر سے ان کی فطرت پرانے دور کی جاگیر دارنی جیسی ہی ہے۔

یہ حویلی نما سکول اس دور کی نشانی ہے جب بہت بڑی بڑی حویلیاں ہو اکرتی تھیں۔ کمرے قطار اندر قطار، لا تعداد دروازے کھڑکیاں۔ بڑے بڑے، لمبے لمبے برآمدے جن میں جھاڑو دیتے لونڈیوں کا دم نکلتاتھا۔ ہاتھوں میں موٹے موٹے گٹھے پڑ جاتے۔ کمر دوہری ہو جاتی۔ کوئی سستانے کو رک جاتی، تو آواز آتی ”حرام خور، کمبخت، جل موئی کام کرتے موت پڑتی ہے۔ جدھر دیکھو! بیٹھی ہائے ہائے کرتی رہتی ہے۔ “ اب بھی اس کے درو دیوار اس کی گواہی دیتے ہیں اور اکثر میڈم خانم کی آ وازیں ایسے ہی گونجتی ہیں۔ جونہی کو ئی ملازمہ تھک کے بیٹھ گئی تو اس کی شامت آ گئی۔

ہمارے علاقے کے زیادہ تر لوگ غریب اور ناخوا ندہ ہونے کی وجہ سے برے بھلے کی تمیز نہیں کر پاتے۔ خانم حکومتی عہدہ داروں سے تعلقات کی حامل طاقتور خاتون ہے۔ اس نے غریب عورتوں کو زندگی کی ضروریات کی فراہمی کے نام پر دامے درمے و قلمے اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے اور ان کے توسل سے اپنا الو سیدھا کر لیتی ہے۔ اس سکول میں کام کرنے والی اور پڑھانے والی لڑکیوں کو اس نے ضابطہ اور نام نہاد قوانین کے اڑگڑے میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ باندیاں ایڑی سے چوٹی تک اپنا پسینہ بہا کر فرض ِمنصبی نبھاتی ہیں۔ وہ سارا مہینہ کام کرتی ہیں، باندیوں کی طرح جھاڑ پھٹکار بھی سہتی ہیں پھر ان کو تنخواہ کے نام پر معمو لی سا محنتانہ ملتا ہے۔

کہتے ہیں کہ اس حویلی میں ایک بہت بڑے نواب رہا کرتے تھے۔ ان کی لونڈیوں اور بیویوں میں سے بہت سی اولاد تھی اورخدمتگاروں کی ایک فوج ظفر موج بھی موجود تھی۔ حویلی کے تمام کام لونڈیوں کے ذمہ تھے۔ آئے گئے کی خدمت داری، بیگمات کی خاطرداری، نواب زادیوں کی کنگھی چوٹی کرنا، بچوں کو سنبھالنا، ان کی غلاظت سمیٹنا، اور نواب صاحب کی بے چین راتوں کو پر سکون بنانا بھی لونڈیوں کی ذمہ داری ہی ہو تا تھا۔ صفائیاں کرتے کرتے اور نوابوں کا کوڑا اٹھاتے اٹھاتے ان کی اپنی زندگی بھی گھورا ہی بن جاتی۔

اور اگر کبھی نواب صاحب کے خاندان پر کوئی مشکل آ جاتی، خاندان کے افراد کے درمیان باہم ناچاقی ہو جاتی یا پھر ازدواجی مسائل ابھر آتے تو یہ دباؤ بھی ان کو ہی برداشت کرنا پڑتا۔ غرض تمام قسم کی غلاظت، نجاست، میل، گوہ اسی گڑھیا میں پھینک دیا جاتا کوئی نہ دیکھتا کہ ان پر کیا بیت رہی ہے۔ کسی کو خبر ہی نہ ہوتی کہ ان کے گندے مندے میلے کچیلے سریروں کے اندر کتنے افسانے دفن ہیں۔

میڈم جہاں آرا خود کو اسی خاندان کی چشم و چراغ کہتی ہیں۔ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہو نے کی حیثیت سے انہوں نے زیادہ تر عورتوں کو ہی اس سکول میں ملازم رکھا ہوا ہے۔ مرد خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ معلمی ایک نیک و صالح پیشہ ہے اور ملک کو اچھے اور مخلص اساتذہ کی سخت ضرورت ہے۔ عورتوں کو چاہیے وہ اپنے خاندانوں کو یہ باور کرائیں اور زیادہ سے زیادہ عورتیں کام کریں تاکہ کمائی میں وہ اپنا حصہ ڈال کر خاندان کی ترقی کی بنیاد رکھ سکیں۔

وہ ہمیشہ اپنی مثال دے کر کہتی ہیں ”دیکھو میں نے ایک مہا خلّاق کی طرح اکیلے اس چمن کی تعمیر کی ہے۔ اپنے خون پانی سے اسے سینچ کر رائی سے پربت بنایا ہے۔ “

میڈم اکیلی عورت ہی نے اس جاگیر کو سنوارا ہے۔ وہ تو مدھو رانی کی طرح اس جاگیر پر تریا راج جمائے بیٹھی ہیں۔ ان کا خاوند سارا دن گھر میں ہی پڑا رہتا ہے۔ اس نے زندگی بھر کوئی کام نہیں کیا اور نوابوں والے سارے شوق بھی پال رکھے ہیں۔ اب وہ بوڑھا ہو چکا ہے لیکن بگڑے ہوئے رئیس کی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ میڈم کا ایک بیٹا بھی ہے جو کہ صورت و کردار میں باپ کی ہو بہو تصویر ہے۔ خوبصورت اور باتوں میں بہت تیز۔ دونوں باپ بیٹا لیپنے کے نہ پوتنے کے۔ غل غپاڑے اور ڈنڈ مچانے کے سوا وہ کوڑی کام کے نہیں۔ شہد کے چھتے کے نکھٹو، دن رات اینڈتے اور سڑاپے لگاتے ہیں۔

میڈم کی ایک بھتیجی بھی ہے جو نئی نئی ان کے پاس آئی ہے۔ وہی ان کی عدم موجودگی میں سکول کے معاملات دیکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایک نظرمیڈم کے لڑکے پر بھی رکھی ہوئی ہے۔ لیکن میڈم کا لڑکا سکول میں کام کرنے والی ایک ٹیچر نرمان کا دیوانہ ہے۔ نرمان جو کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ پڑھی لکھی، نڈر، دلیر اور بہادر، جدید اور مثبت خیالات کی حامل۔ منافقت، مکاری اور دہرا پن سے کوسوں دور۔ پیار بھرے دل کی مالک۔

اچھے لوگوں کی ان کمزوریوں سے کچھ لوگ نا جائز فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔ وہ بھی عزیر کے چنگل میں پھنس گئی اور دونوں نے خفیہ طور پر شادی بھی کر لی۔ عزیر ایسا بھنورا ہے جس نے کلی کلی کا رس چوسا ہوا ہے۔ اور دلہن ایسی بند کلی جس کی بو باس بھی کسی مرد کے نھتنوں تک نہیں پہنچی۔ کچھ ماہ پہلے ہی وہ ان کے سکول میں جاب کرنے آئی تھی۔ سادہ سی لیکن انتہائی خوبصورت۔ اس کی سادگی میں بھی ایک پر کاری تھی۔ جتنی وہ خوبصورت تھی اس سے کہیں زیادہ اس کے حسن کی شہرت تھی۔

سکول میں ہر طرف اس کے ہی چرچے تھے۔ عزیر نے ایسا حسن پہلی بار دیکھا اور دیکھتے ہی دیوانہ ہو گیا۔ جلد ہی وہ دونوں قریب ہو گئے۔ اب عزیر کو پہلی با ر اَن بِدھا سچا موتی ملا تھا، وہ پاگل ہو گیا۔ حسین تو وہ بہت ہے، تجربہ کار بھی لیکن تیلیا کمیت بھی تنگ میدان میں دوڑ دوڑ کر تھک جاتا ہے اور دلکی، شاہ گام، سرپٹ، اڑان سب بھول کر لنگڑانا شروع کر دیتا ہے۔ نڈھال پڑے، لبوں سے آب حیات کے پیالے لگائے، زندگی میں پہلی بار شراب طہور پیتے ہوئے کہنے لگا ”اب ہمیں کوئی بھی جدا نہیں کرسکتا۔ “ منہ بند کلی بھی لب اظہار ہوئی ”مجھے تو سب نے منع کیا، ڈرایا بھی کہ تم اپنی ماں کے سامنے گنگ ہو جاتے ہو۔ میں اُس سے خوف زدہ ہوں۔ “

جب محبت کی بارش سے آب نیساں کے قطرے موتی میں ڈھل جائیں گے تو کسی میں ہمت نہیں ہوگی کہ ہمارے راستے کی دیوار بن سکے۔ پھر میں کھل کر بات کروں گا۔ میں اس گھر کا اکلوتا وارث ہوں۔ ”

پھر اسے اپنے ساتھ لگا کر کہنے لگا ”میری ماں جدید خیالا ت کی حامل انتہائی سمجھدار عورت ہے۔ اتنا بڑا ادارہ چلا رہی ہے۔ اس نے مجھے آزاد مرد کے طور پر پالا پوسا ہے۔ فکر والی بات نہیں۔ “

لیکن شاید اس کو بھی پتا نہیں کہ اس کی ماں کتر بیونت اور اکھاڑ پچھاڑ کی ماہر ہے۔ اگر کوئی بات اس کے مزاج کو خلاف ہو جائے تو وہ ناتے، قرابتیں بھول کر سارے کٹم کو تباہ بھی کر سکتی ہے۔ اور وہی ہوا جس بات کا خطرہ تھا۔ جونہی نرمان کی چال بدلی، پاؤں بھاری ہوا اور اس دیوی میں ماں بننے کا حسن جلوے دکھانے لگا، وہ سب جان پہچان گئی۔ دفتر میں اسے بلا کر بولی ”میں نے سنا ہے کہ تم امید سے ہو؟ “

کمرے میں اس وقت میڈم کی بھتیجی، خاوند اور عزیر بھی موجود تھا۔

”اور یہ بھی پتا چلا ہے کہ تم میری ساری عمر کی کمائی پر نظریں جمائے بیٹھی ہو۔ “

نرمان نے عزیر کی طرف دیکھا وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میڈم غصے میں کہنے لگی ”اگر چاہتی ہو تو طلاق لے سکتی ہو۔ ویسے تم علیحدگی نہیں بھی چاہتی تو کوئی بات نہیں، ہم نوابوں میں باندیاں اور داشتائیں رکھنے کا رواج رہا ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی بھتیجی سے کرنی ہے۔ تمہیں یہ بچہ ضائع کرنا ہوگا۔ شادی سے پہلے میں نہیں چاہتی کہ میرا بیٹا تمہارے بچے کا باپ کہلوائے۔

اور یہ بھی یاد رکھنا کہ میرے بعد میری بھتیجی ہی اس سارے سکول اور دوسری جائداد کی مالک ہو گی۔ ”

نرمان نے عزیر کی طرف دیکھا۔ وہ ابھی بھی ویسے ہی نیچے دیکھتے ہوئے پیر کے انگو ٹھے سے زمین پر شاید اپنی ہی مورت لکیر رہا تھا۔ بولی،

”مجھے تمہاری جائداد کی کوئی پرواہ نہیں۔ تم اور تمہاری یہ چہیتی بھتیجی اپنی پیڑھی درپیڑھی گدی نشینی قائم رکھو۔ تم تو خود کو خواتین کے حقوق کی پہرے دار کہلواتی ہو اور جدید دور کی مبلغ بھی۔ لیکن یہ فرسودہ خیالات تمہارے دوغلے پن کو ظاہر کر رہے ہیں۔ تم مساوی حقوق نہیں تریا راج کی خواہش مند ہو۔

تمہارے جیسی عورتیں مرد نہیں، خود کو سیراب کرنے کے لیے صرف تناسلی رطوبت کی ضرورت مند ہوتی ہیں۔ تمہارا خاوند اور بیٹا مرد نہیں، نکھٹو ہیں نکھٹو۔ شہد کی مکھیوں کے نکھٹو، آدھے کروموسوم رکھنے والے، جو رانی کے پیچھے صرف ہوس پوری کرنے کو اڑان بھرتے ہیں۔ جن کی زندگی کامقصد صرف رانی کو بارآور کر کے مرجانا ہو تا ہے۔ یہ لکھ لٹ بغلول نکھٹو، میرے لئے بھی مر گیا۔ میں اپنے بچے کو ایسے نامرد کا نام بھی نہیں دینا چاہتی۔ یہ بچہ صرف میرا ہے۔ صرف میرا۔

میں بچہ نہیں گراؤں گی۔ ”

(مرکزی خیال واجدہ تبسم کے افسانے ناگن سے ما خوذ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *