یہ بوٹ کس کی میز پر رکھا گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرد کامل کا قول ہے کہ جس کو حیا نہیں، وہ جو چاہے کرے۔  فیصل واوڈا بھی جو چاہتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی مرضی کرنے میں آزاد ہیں۔ اتنے آزاد کہ اپنی مرضی کرتے ہوئے وہ اپنی بھی نہیں سنتے۔ البتہ کسی کسی کی ضرور سنتے ہیں۔ اور وہ جس کی سنتے ہیں۔  اس کا صاحب حثیت ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے صاحبان اختیار کی سننے کی تربیت سکول جانے سے پہلے ہی حاصل کرلی تھی۔ سیاست میں عمران خان ان کا حوالہ ہیں لیکن فیصل واوڈا کا عمران خان سے تعلق بننے سے پہلے کا بھی ایک ماضی ہے۔ اور وہ جو کچھ آج ہیں، اپنے ماضی کی وجہ سے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ عمران خان سے ان کا تعلق بھی ان کے ماضی کے پس منظر کا ہی مرہون منت ہے۔ وہ صاحبان حیثیت سے تعلق بنانے کا فن جانتے ہیں۔ خصوصا وہ صاحبان جنہوں نے ستاروں پر کمند ڈال رکھی ہو، ان سے تعلق بنانا اور پھر تعلق بنائے رکھنا فیصل واوڈا کو اس ہنر میں ملکہ حاصل ہے۔ وہ تعلق بنائے رکھنے کے لئے کسی ٹی وی شو میں ” بوٹ ” تو کیا ٹینک بھی لے جا سکتے ہیں بلکہ ٹینک پر بیٹھ کر بھی جا سکتے ہیں۔

جو لوگ عمران خان کی طبعیت سے واقف ہیں ان کے لئے یہ اندازہ کرنا ہرگز مشکل نہیں کہ جب ” بوٹ ” میز پر رکھا گیا ہوگا تو عمران خان کی انا کو کتنی تسکین پہنچی ہو گی۔ فیصل واوڈا کے ” بوٹ ” مشن سے صرف انا کو تسکین ہی نہیں پہنچی بلکہ کسی کا رانجھا بھی راضی ہوا ہے۔ رانجھا ان کا راضی ہوا ہے جو اس ریاست میں چلنے والے نظام اور اس نظام کی برکت سے پھلنے پھولنے والی اشرافیہ کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں مگر اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان سیاہ بختوں کا کام پہلے ووٹ کو عزت دلوانے والوں اور جمہوریت کے لئے لاشیں اٹھانے والوں نے آسان کیا اور پھر رہی سہی کسر فیصل واوڈا نے پوری کر دی۔ فیصل واوڈا اور ہمنوا، پس پردہ صدا کار، سامنے پائے جانے والےسیاسی فنکار، تاجران افکار، فروشان یزداں، معاشی و دستوری گویے، قانونی رقاص اورتمام قہاری و جبروت عناصر مل جائیں تو ایک خاندان بنتا ہے، جس کو مقتدر اشرافیہ کہتے ہیں۔ یہ خاندان دو طبقات میں بٹا ہے، ایک قہاری طبقہ اوردوسرا جمالی طبقہ، قہاری طبقہ جبروت ہے مگر قدسی کہلانا پسند کرتا ہے، جمالی بھی جبروت ہی ہے مگر غفاری کا بھرم قائم رکھنے کی جدوجہد میں رہتا ہے۔

بوٹ میز پر رکھنے کا خیال فیصل واوڈا کے ذہن رسا کی پیداوار تھا یا کسی صاحب حکم کی دانش کا شہکار، اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ اقدام انتہائی بغض اور نفرت کی پیداوار تھا۔ ریاستی معاملات اتنے سیدھے سادے نہیں ہوتے کہ وہ صاحب جن کا سامنا کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہو، ان کے معاملات منشی درجے کی خط و کتابت کی غلطیوں میں الجھ کر رہ گئے ہوں۔ جنرل باجوہ کو یہ بہت پہلے سمجھ آچکا ہوگا کہ وہ جو ان کے ہم آہنگ اور سنگ سنگ ہونے کا دم بھرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہم ایک ہی پیج پر ہیں دراصل وہی دل سے ان کے ساتھ نہیں تھے۔ باجوہ صاحب کو منہ پہ انکار کرنے کے لئے جو دل گردہ چاہئے۔ اس دل گردے کی پرورش کے لئے اپنے دیس کا ماحول ساز گار نہیں لہذا تاخیری حربے ہی استعمال ہوسکتے تھے۔ سو کئے گئے۔ معاملے کو الجھایا ہی جا سکتا تھا۔ الجھا کے دیکھ لیا گیا مگر بے سود رہا۔ سیاسی ہنرمندوں کا خیال ہو گا کہ توسیع کو زبان زد عام کیا جائے اور اس قدر زیربحث لایا جائے کہ صاحب ضرب خود ہی کہیں کہ اتنی خاک اڑا کے اب دستار پہنی بھی تو کیا پہنی۔ لیکن ہنرمندوں کی کج فہمی کے ہاتھوں معاملہ عزت نفس کے مجروح ہونے کا تاثر دینے کے بجائے کسی کو بیوقوف بنانے کی شکل پکڑ گیا۔ ایسی صورت میں ضرورت سے چالاک بننے والوں کو سیدھا کیا جاتا ہے گھر کا راستہ نہیں ناپا جاتا۔

صاحب حرب زمانہ شناس تھے، اندر کی بھی سہہ گئے اور باہر والوں کو بھی سمجھ گئے۔ اس قیافہ نگاری پر اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ صاحب مسند کو اس کی ضرورت کیا پڑی تھی۔ وہ تو ایک صفحے پر اچھا بھلا اپنا کام چلا رہے تھے۔ اس سوال کا جواب امکان اور قیاس میں ہی ہے۔ اور قیاس یہ ہے کہ بادشاہ گری کے کھیل میں بادشاگروں کو بادشاہ بننے کے بعد پسند نہیں کیا جاتا۔ تخت نشیں تخت نشینی کا سرور لے یا احسان مندی کا بارگراں اٹھائے۔ مزید تین سال جھیلنا خاصا مشکل کام ہے۔ تحریک انصاف ہو، ن لیگ ہو یا پیپلزپارٹی سمیت دوسری کوئی بھی جماعت حکمران اشرافیہ کی ترکیب و ترتیب میں ایک دوسرے کی شریک ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے آرمی ایکٹ میں بلا چوں و چرا ووٹ دے کر دراصل تحریک انصاف سے شریکے بازی کی ہے۔ فیصل واوڈا نے “بوٹ” میز پر رکھ کے جو کچھ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا ہے وہ شریکے والوں کو بغض اور حسد سے بھرا ہوا جواب تھا۔

اس وقت کی اپوزیشن جماعتیں پچھلے اٹھارہ ماہ سے سیاست کی چکی میں پس رہی تھیں۔ نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے جرم میں سزا پانے کے بعد جیل میں تھے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بھی احتساب کی بھٹی میں “کندن” ہو رہی تھی کہ ضمانتوں کی ہوا چل پڑی۔ ۔ جیل کی ہوا خوری کرنے والوں میں جو اہم کھلاڑی بیمار تھے اب لندن کے کیفوں میں لطف اندوز ہورہے ہیں۔ اور جو ادھر ہیں ان پر بھی دست قدرت مہربان ہے۔ عمران خان کی سیاست لوٹ کھسوٹ اور چوری چکاری کے الزامات اور چوری کا مال برآمد کروانےکے دعوں پر چل رہی تھی۔ این آر او دینا ان کے ہاں پتھر پر لکیر تھی۔ لیکن ملنے والوں کو این آر او ملا۔ ملا، نہ ملا۔ لیکن ریلف ٹھوک بجا کے ملا۔ یہ آرمی ایکٹ میں ووٹ دینے کے وعدے کے ثمرات ہی تھے جو نظر تو سب کو آرہے تھے مگر سمجھ صرف عمران خان کو آرہے تھے۔

اب سوال دو ہیں کہ ریلف لینے والوں کے تیور کیا ہوں گے، دینے والوں کی رضا کیا ہو گی۔ عمران خان جن کے ہاتھ میں ایک مخلوط حکومت کی مہار ہے وہ اقتدار کے اس مست ہاتھی کو کس طرح قابو میں رکھیں گے؟ وہ جس ایک صفحے پر ایک تھے اس صفحے پر بدگمانی کی پھپھوندی اپنا رنگ جما چکی ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ کے کھلاڑی ہیں اور سیاست کی بچھی نئی بساط ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کے پاس چلنے کے لئے کون سی چال ہے اور اپوزیشن کے ترکش میں زہر بجھے تیر کتنے ہیں۔ اپوزیشن بھی وہ جس کی میز پرایک چمکتا ہوا بوٹ بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *