سائیں جی ایم سید: جنم دن کی بدھائی ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے جسمانی قد کاٹھ کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ سید غلام مرتضیٰ شاہ جسے آگے چل کر پورا جنوبی ایشیا ”جی ایم سید“ کے نام سے جاننے لگا تھا، وہ پتلا اور چھوٹا تھا۔ لیکن شاہ بلوط جیسے قداور لیڈران کے سامنے اس کے دماغ کی اگر ناپ تول آج اس کی کتابیں پڑھ کر کی جائے تو وہ بلا کا مفکر، سلجھا ہوا اور جدید دور کا حقیقی صوفی لگتا ہے۔

پاکستان کی تخلیق کا اگر پہلا آفیشل رکارڈ دیکھا جائے تو یہ جی ایم سید ہی تھے، جس نے اس وقت سندھ اسمبلی میں پاکستان بننے کے لیے پہلی قرارداد 3 مارچ 1943 کو پیش کی۔ مانا کہ اس وقت اسے حر تحریک کے امام پیر صبغت اللہ شاہ کے لاکھوں حروں کی مخالفت کو بھی منہ دینا تھا جس نے اسے کھلے الفاظ میں منع کیا تھا کہ ”بھول کر بھی مسلم لیگ میں شامل ہوکر زیرک لیڈروں کی باتوں میں مت آنا، بلکہ آؤ تو آزاد سندھ کی بات کریں۔ “ لیکن جی ایم سید نے اس کی ایک بھی نہ سنی، لابیاں بنائی، خوش امیدی کی انتہا پر پہنچ کر، مسلم لیگ کے لیے اپنی کشتیاں جلا دی۔

یہ جدا بات ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہ سمجھ گیا کہ بادِ منزل کسی اور سمت چلنا شروع ہوگئی ہے، سو اس نے سیاسی برت رکھنا شروع کردیے۔ لیکن تاریخ کے پنوں پر ایسی کوئی بات نہیں دیکھی جا سکی ہے کہ جس میں یہ پتہ لگایا جاسکے کہ جی ایم سید، سندھو تہذیب کے حقوق کے لیے خاموش ہو گئے ہوں۔

یہ بات انتہائی کم لوگ جانتے ہیں کہ جب 71 کی جنگ کے بعد، پاکستان کے 93 ہزار فوجی بھائی جب بھارت کے پاس جنگی قیدی ہوگئے، اور 15 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ ہوگیا تب یہی جی ایم سید تھے جس نے شملہ معاہدہ ہونے کے لیے پس پردہ بڑا کام کیا۔ جناب زیڈ اے بھٹو اور اندار گاندھی کے درمیاں ہونے والے مکالمے اور خصوصی طور پر کمرہ مکالمات سے نکل کر باہر لان میں وہ قصہ قرطاس پر چپساں ہونے والا جملہ ”مس گاندھی صاحبہ، مت سمجھئیے کہ ذوالفقار علی بھٹو اندرا گاندھی کے پاس آیا ہوا ہے، بلکہ یوں سمجھئیے کہ ہزاروں برس پرانی سندھو تہذیب اجنتا کی تہذیب کے پاس آئی ہے، سو ایسا کیجئیے کہ ہزاروں برس تک ہمارا فیصلہ یاد رہے“ کا خالق یہی جی ایم سید ہی تھا۔

لیکن یہ جی ایم سید جو اپنی بات پر پتھر کی طرح پکا رہنا جانتا تھا وہ سیاسی چالبازیوں کے سامنے معصوم بچے کی طرح رہنے والا جی ایم سید جسے پوری سندھ احترام کے ساتھ ”سائیں“ پکارتی ہے وہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ: ”کیسا سانحہ ہے، کہ جنگ کے بعد فتح کے تمغے ان کے سینوں پر سجائے جاتے ہیں جو دور محاذ سے بہت دور بغلیں بجاتے ہیں، بجائے ان کے جن کے سینے چھلنی ہو چکے ہوتے ہیں۔ “

یاد پڑتا ہے کہ جب سائیں جی ایم سید سے سن 86 میں لاہوری صحافیوں نے انٹرویو کیا تھا۔ بقول ہمارے دوست اور افیئرز میگزین کے روحِ رواں ڈاکٹر علی رند صاحب کے اس جیسا انٹرویو کم دیکھنے کو ملا ہے۔

خیر تو ایک صحافی نے سائیں سے سوال کیا کہ: ”آپ کی نظر میں مولانا مودودی صاحب کیسے لگتے ہیں؟ “

تب سائیں جی ایم سید نے جواب دیا تھا کہ: ”وہ بہت اعلیٰ دماغ کا بندہ ہے، لیکن اس میں ایک خامی ہے۔ کہ جیسے ایک چاکی والے کا بیل اگر گم ہوجائے تو وہ اسے بس اپنی ہی چاکی میں تلاش کرتا رہتا ہے۔ کہیں اور نہیں دیکھتا، ٹھیکس اسی طرح سے مودودی صاحب تمام مسائل کا حل صرف مذہب میں تلاش کرتا ہے حالانکہ اسے یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ کارِ جہاں دراز ہے۔ “

سائیں جی ایم سید نے اپنی دانش کو اپنی کتابوں میں سمو کر پھہلانا شروع کیا، اور ایسی دانش جسے اردو اینٹیلیکچوئل کئی دہائیوں کے بعد سمجھنے لگے۔ وہ کہتا تھا کہ: ”عبادت کا پانچواں مقصد گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارہ پانا قرار دیا جاتا ہے، درحقیقت یہ تصور انسانیت کی ترقی و ترویج کے لیے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہے، مذہب کے اس تصور نے ہی ظالموں، راشیوں، بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں، اسمگلروں، غاصبوں، معصوم انسانوں کے قاتلوں اور ضمیر فروشوں وغیرہ وغیرہ کے لیے پناہ گاہ کا کام دیا ہے۔

یہ عقیدہ کہ چاہے کیسے اور کتنے ہی گناہ کیوں نہ کیے ہوں عبادت کرنے سے وہ معاف ہوجاتے ہیں، یہ سراپا روحِ مذاہب کے خلاف ہے۔

اعلیٰ ترین اور حقیقی عبادت دردِ دل ہے، محبت ہے، عشق ہے اور اس عبادت کا فائدہ اور مقصد ہی عظیم ہے ؛ اس سے کُل بنی نوع انسان کے مستقل سکون اور امن و آشتی کا دروازہ کھل سکتا ہے، اور درحقیقت یہی معراجِ انسانیت ہے، اور یہی جوہرِ مذاہب ہے! ”

وہ سائیں جی ایم سید عشقِ سندھ میں ایسا لگتا ہے کہ تصوف کے ایک نئے محاورے کو متعارف کروا گیا جسے میں ”فنا فی السندھ“ کا نام دیتا ہوں۔

اور آج اس سائیں جی ایم سید کا ایک سو سولہواں جنم دن ہے۔ جس نے کہا تھا یاد رکھیں، اپنی تہذیب کے اقدار کو چھوڑ کر پرائی تہذیبوں کے قصیدے گا کر آپ کبھی بھی اپنی پہچان نہیں بنا سکیں گے۔ الٹا یہ ہوگا کہ آپ منافق بن کر صرف نفاق ہی بانٹیں گے۔ سو خود کو پہچانیے، یہ دھرتی لداخ سے لے کر کھارو چھان تک قدیم ادوار سے علوم کا خزینہ رکھتی ہے۔

سو اے سائیں جی ایم سید! جنم دن کی بدھائی ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *