اورحان پاموک کی کامیابی کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں نے اپنی کتابیں بھرپور توجہ، صبر اور خلوص نیت سے لکھیں اور ہر ایک کتاب پر یقین رکھتے ہوئے لکھیں! کامیابی، شہرت اور کامیابی کا سکون میرے پاس اتنی آسانی سے نہیں آیا۔ “

قلم تھام لینا، انگلیوں کو اس کا عادی بنانا اور پھر عمر بھر کے لیے وفا نبھانا بہت مختلف چیزیں ہیں۔ بہت سارے ہاتھوں میں قلم آتے ہیں اور پھر طبیعت کی کاہلی اور غیر سنجیدگی، معاشی اور سماجی مجبوریوں یا رحجانات کے بدلاؤ کے ہاتھوں دریاوں کے رُخ بدل جاتے ہیں۔ یہ صبر، بھرپور توجہ اور خلوص نیت، الفاظ کو اُٹھاتے، فقروں کو پروتے، حکایتیں بناتے اورحان کو بہت جگہ آزمانی پڑی۔ لکھاری کے لیے لکھنا، لمبے عرصے تک لکھنا اور دس گھنٹے روز لکھنا حوصلے اور شوق کی ایک آزمائش ہے اور اس آزمائش سے تیس سال سے زیادہ عرصہ تک کامیاب نکلنا اورحان کا ہنر رہا ہے۔

عالمی ادبی میدان میں اپنا ِسکّہ بٹھا دینے والا ترکی کا یہ لکھاری اورحان پاموک پانچ سال کی عمر سے تنہائی کی خاموشیوں میں مگن رہنے والا، تخیّل کے گُھڑ سواروں اور ماورائی مخلوق کے جنگی میدانوں میں فتوحات کا عادی تھا۔ دادی ماں کے کمرے میں سجی نمائشی جنگی آبدوزوں کے ساتھ، اپنے تخلیق کردہ معرکوں میں گم رہنا، جلتے گھروں سے سرنگوں کے راستے بھاگنا، جاگتی آنکھوں سے خواب بننا اور ٹانگیں جھلاتے رہنا اورحان کا مشغلہ تھا۔

تخیل کے سٹیج پر فتوحات کی تاریخ رقم کرتے اس کے ہاتھ نہ جانے کتنے جانے ان جانے لوگوں اور مخلوقات کے خون سے رنگے رہتے۔ جوانی میں پرُاسراریت اور زُود رنجی اصل میں اورحان کے بچپن کے ایام کی بوریت اور بوجھل مزاجی سمیت ترکی کے سماجی اور معاشی حزن کا ایک رُخ تھی جو اس دور کی ترک سلطت پر چھایا ہوا تھا۔ وہی بوریت جس سے بچنے کے لیے اورحان جاگتے سورج کے تلے تخیل کی پرواز میں اُڑان بھرتا رہتا! بیالیس سال کی عمر تک اورحان شہرت کما لینے اور تخیلات کو حرفوں میں ڈھال لینے میں کامیاب رہنے کے باوجود کُھلی آنکھوں خوابوں کی ان دنیاؤں میں مگن رہا۔

اورحان اپنی یاداشتیں لکھنے بیٹھتا ہے تو چاہتے نہ چاہتے روایات کے رنگ بدلتے، مشرق سے مغرب کے رنگ میں ڈھلتے، اپنے محبوب شہر استنبول کے حزن و ملال اور اس کے دل کو لگے کرب کی کہانیاں سناتا چلا جاتا ہے اس طرح جیسے کسی کھوئے محبوب یا کسی گم گشتہ جنت کی تلاش میں ہو۔ ماضی اور حال کی یاداشتوں میں مگن اورحان اپنے شہر کے حوالوں اور باسفورس کی لہروں کو خود سے جدا کر ہی نہیں پاتا۔ یہ سمندر اس کے لیے تاریخ کے ہاتھوں اپنے لوگوں، خطّے اور دنیا کی زندگیوں میں آئی اور لائی گئی اچھی اور بُری تبدیلیوں کا مظہر ہے کہ جس میں تاریخ کے صفحات لہروں کے ساتھ اُمنڈتے اور ڈوبتے دکھائی دیتے ہیں۔

قاری اورحان کو بھول کر استنبول کے کالے پتھروں والی شاہراؤں، باسفورس کی فلاسفر لہروں پر اٹکھیلیاں کرتی کشتیوں اور چھوٹے اور بڑے کاروباری اور جنگی بحری بیڑوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ قاری اورحان کی کالی راتوں اور جدوجہد سے بھرے دنوں کی داستاں بننے کی کوشش میں شہر کے گلی کوچوں اور میدانوں میں مصنف کے تخلیقی ذہنی ارتقا میں الجھا رہتا ہے۔ ہمیں سمجھ آتی ہے کہ یہ الفاظ اس سے پہلے کہ کاغذوں پر اُترتے اور مسودوں میں بُنے جاتے، دُکانوں پر سجاے جاتے، اورحان کی نگاہوں اور تخیل کی ہواؤں میں اس کے نظاروں میں بہتے اور اس کی سانسوں سے ترتیب پاتے تھے۔

LEAD Technologies Inc. V1.01

کتنی ہی کہانیاں ماورائی مخلوق کی طرح اس کے ساتھ ساتھ چلتیں، اس کی تنہایوں کو صحبت دیتیں اور تخیل کے پروں پر رنگ اتارتیں۔ اس سے پہلے کہ اورخاں لفظ لکھنا اور داستان رقم کرنا سیکھتا وہ پاموک اپارٹمنٹس کی دیواروں پر اپنے خیالوں کے قلم سے کہانیاں پرونا سیکھ چکا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تخیل کے نقوش کا تعاقب کرتے اورحان کی پہلی محبت مصّوری تھی۔

استنبول کے نوابی گھرانے کی پُرتعیش حویلی، ”پاموک اپارٹمنٹ“ میں رہنے والا یہ نوابزادہ فرید اورحان پاموک اس وسیع عمارت کی سب سے اوپر والی منزل میں رہتا تھا جس کے بڑے کمرے میں نرم گداز بستر پر بیٹھی اس کی فربہ اندام دادی اپنے پوتے اورحان کے عظیم مستقبل کی خواب نما پیش گوئیاں کرتی تھی۔

” خدا کی رضا سے ایک دن وہ بہت کامیاب ہو گا اور پاموک خاندان کا نام ایک بار پھر احترام کے ساتھ لیا جاے گا، جیسے اس کے دادا کے زمانے میں لیا جاتا تھا۔ “

سترہ سال کی عمر تک اورحان کی کامیابی مصّوری سے جڑی سمجھی جاتی تھی۔ آبائی پیشے سول انجینئرنگ سے پاموک خاندان کے لاڈلے سپوت کا جڑا رہنا ہی اس حویلی کے ہر فرد کا نظریہ اور عقیدہ تھا اس لیے بجا طور پر انجینئرنگ اور مصّوری کے رحجانات کے ملاپ سے آرکیٹکچر کی تعلیم اس کے لیے انتہائی موزوں تصور کی گئی مگر اورحان کا رحجان اور اس کی طبیعت اس مضمون کی صحبت میں کوئی خاص اطمینان بخش نہ ثابت ہوسکی۔ اس کا چیزوں اور کرداروں کی تخلیق کا شوق اور مناظر میں رنگ بھرنے کی عادت اسے انجینئرنگ کی بھول بھلّیوں سے نکال کر صحافت کے شعبے میں کھینچ لائی۔ تیئس سال کی عمر میں ہی اورحان نے ناول لکھنے کا زندگی میں پہلاخواب دیکھا۔

اورحان کے پیروں تلے معاشی مجبوریوں کے پتھر نہ تھے کہ جن پر قدم دھرنا محال ہوتا نہ اس کی پلکوں پر جڑے آسمانوں کو ماند کرتے خوابوں کا بوجھ تھا کہ جو اس کی سانسیں دوبھر کرتے رہتے۔ ایک تبدیلیوں کی چکّی میں پستے، پرانے لباس اتار کر نئے پہناوے پہنتے ملک ترکی میں اورحان ایک معاشی طور پر معزز اور مضبوط خاندان سے تعلق رکھتا نوجوان تھا، جو اپنے اردگر بدلتے موسموں نئی روش میں ڈھلتے آہنگ اور بنیاد سے لپٹ کر رہنے والی قدیم روحوں پر کڑی نظر رکھتا۔ مصّوری اور انجینئرنگ کے رنگوں میں مگن اورحان کے پاس اپنے ماحول کے رحجانات کو پرکھنے، جانچنے اور ان پر رائے قائم رکھنے کا شعور بھی تھا، وقت بھی اور حوصلہ بھی اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ جرأت اظہار اور بے باکانہ مشاہدات اس کی الگ پہچان اور شہرت کا باعث ہوئے تو کچھ ایسا بے جا نہ ہو گا۔

ترکی کے معاشی سماجی اور سیاسی حالات کابے لاگ اور چمکتا رنگ اورحان کی تحریروں سے نچوڑ لیا جائے تو اس کی صفحات پر اتاری کہکشاؤں کی روشنی ماند پڑنے لگتی ہے اور اس میں کچھ اورحان کی زور زبردستی بھی نہیں کہ یہ الفاظ، مشاہدات اور تجربات اس کی زبان اور قلم سے فی البدیہ نکلتے اور جھڑتے ہیں۔ کسی بھی لکھاری کا بہترین اثاثہ اس کا قلم نہیں، زبان نہیں، اس کا دماغ ہوتا ہے۔ اگر دماغ اس قدر حوصلہ مند ہے کہ سچ اور جھوٹ میں، اصل اور نقل میں، تمیز کر سکے، روایات کو پرکھ سکے اور رحجانات پر تنقید کر سکے، تو ہی لکھاری کا قلم جان دار اور پرُتاثیر ہے ورنہ لفظوں کو جوڑنے اور فقروں کو ملانے والے، زبانوں کے ماہر اور لکھایوں کے استاد جہاں میں ہزاروں ہیں۔

اورحان پاموک کا دماغ ان ہی دماغوں میں سے ایک تھا جن کے خیالات اور مشاہدات نے خودبہ خود قلم کو نئی سمتیں دکھائیں۔ باریک بینی بچپن سے ہی اورحان کے وجدان کا ایک اہم حصّہ بن چکی تھی۔ سترہ سال کی عمر تک اورحان کے وجدان نے خوب ترقی کی منازل طے کیں اور جب درختوں پر پھل لگ کر ڈالیاں جھکنے لگیں تو فطرت کے کارندوں نے اس کے ہاتھ میں قلم تھما دیا۔

اورحان کی زندگی نے رُخ بدلا اور وہ انجینئرنگ زدہ خاندان سے مصّوری کے راستے ہوتا ناول نگاری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس کی طبیعت کے حزن و ملال کو سکون بھرا اطمینان دیا اور وہ ایک بھٹکی ہوئی روح کی طرح بلآخر نجات پاگیا۔ قلم کے رشتے اور لکھنے لکھانے کے مشغلے نے عشق کی شکل اختیار کی یہاں تک کہ ایک نشئی کی طرح روزانہ مطالعہ اور لکھنے کا نشہ پورا کیے بغیر اس کی زندگی کی سانسیں دوبھر ہونے لگتیں۔

”میری خواہش ہے کہ میں مزید تیس سال تک لکھتا رہوں اور اپنے کرداروں کی زندگیاں جیتا رہوں۔ “

ایسا کیسے ہوا کہ تین دہائیوں سے زیادہ وقت روزانہ دس گھنٹے لکھنے کی محبوب اور دل پسند مزدوری اورحان جیسے نوابی گھرانے کے مصّور سپوت کی زندگی کی اہم تاریخ بن گئی۔ تیس سالوں سے زیادہ عرصہ ڈیسک پر تنہا بیٹھ کر لکھنے والے اورحان کے کل لکھے کا صرف چند فیصد ہی چھپ کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ سکا ہے۔ اپنی تحریر سے کبھی مطمئن نہ ہونے والے اورحان کی اتنی محنت اور مشقت ہی اس کی زندگی کا بنیادی جزو رہا جس نے اسے دنیا کے صف اول کے لکھاریوں میں جگہ دی اور ترکی میں ادب کا نوبل پرائز حاصل کرنے والا واحد لکھاری بنا دیا۔

کیا ہم میں سے بہت سے لوگ چند لائنیں، کچھ کہانیاں اور گنتی کے ناول لکھ کر بڑی بڑی کامیابیوں کے خواب پالنے نہیں لگ جاتے؟ اس کے باوجود کہ صف اول میں کھڑے مصنفین کی تاریخیں کھنگالی جائیں تو وہاں پر اکثریت گھنٹوں، دنوں، مہینوں اور دہائیوں تک قلم کی سیاہی سے کھیلنے والے اور نہ بکنے والے لفظوں سے بیسٹ سیلر کی تاثیر پیدا کرنے والے ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔ پھر بھی ہر نیا لکھاری اپنے چند الفاظ اور کہانیوں سے چند دنوں میں دنیا فتح کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔ خوابوں کی بہتات محنت کی عادی نہیں بننے دیتی اور بہت جلد حوصلہ توڑنے اور میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اہم چیز یہ ہے کہ آپ کی امید اتنی وسیع ہو کہ آپ میں لمبے عرصے تک محنت کی لگن زندہ رکھے۔ اورحان کی یہی مشقت اس کی زندگی کا سب سے اہم رُخ اور یہی کہانی سنائے جانے کے قابل ہے۔

آرکیٹیکچر کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر قلم تھامتے اورحان کو بھی کرسی میز پر گھنٹوں تک بیٹھنے والے کلرک والی زندگی کی ضرورت تھی، جس پر اس نے دل و جان لگا دیے۔ گھر کے ایک تنہا کونے میں باسفورس کی طرف کُھلنے والی کھڑکی کے سرہانے بیٹھے اورحان نے سگریٹ کے دھوئیں میں گم خود کو کاغذ قلم کے ڈھیر میں غرق کلرک کی زندگی کا عادی بنایا۔ قلم اور کاغذ کی خوشبو سے پیار کرنا، آفس سے سمندر کی سمت جھانکتی کھڑکی سے شہر کے حُزن کا مظاہرہ کرنا اور جب کبھی حوصلہ اور ہمت ہار جاتے تو ساتھ رکھے صوفے پر آڑھے ترچھے ہو کر پیرس ریویوز میں شہرۂ آفاق مصنفین کی مشقت اور محنت کا مطالعہ کرکے اپنے گمشدہ حوصلے کی ہمت بڑھانا اورحان کی عادتِ ثانیہ بن چکا تھا۔

ڈبلیو فالکنر (W۔ Faulkner) ) اور ہیمنگوے (Hemingway) جیسے مصنفیں کے انٹرویوز اور ان کے لکھنے کی عادات اور تحریکات جان کر اورحان کا تخیل پھر سے جواں ہونے لگتا اور وہ ایک نئے جذبے سے اپنے لکھنے کے سفر کا پھر سے آغاز کرتا۔ اپنی کرسی پر ٹکے رہنے اور حوصلو ں کو جواں رکھنے کی کٹھن عادت بڑی مشکل سے اورحان نے پیدا کی اور پھر ساری عمر اس عادت کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

”جب میں چون سال کی عمر میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے ایک ایسا شخص نظر آتا ہے جس نے گھنٹوں ایک خوشی اور تکلیف کی کیفیت میں ڈیسک پر کام کیا۔ “

بچپن سے خیالوں کی دنیا میں بسیرا کرنے کا ذوق اور کرداروں کی تقدیر بنانے اور سنوارنے کی عادت ہی اورحان جیسے شخص کو ایک مصنف بنانے پر مجبور کر گئی اورحان کا تنہاکمرہ اور باسفورس کی لہروں کی طرف جھانکتا ڈیسک اس کے خیالات کی دنیا کو کاغذ و قلم کے ذریعے بیان کرنے، خوبصورت بنانے اور دکھانے کی ایک اہم تجربہ گاہ رہا۔ اگر کبھی کسی سیاسی ضرورت یا سماجی مجبوری کی وجہ سے اسے اپنی یہ دل پسند پناہ گاہ چھوڑ کر نکلنا پڑتا تو اس کی نبضوں میں زندگی جمنے لگتی اور خوشی، سکون اور تکمیل کی لہریں قحط کا شکار ہونے لگتیں۔

دماغ کی بے معنی اور بے کار آوارہ گردیاں اور پھیلتے ہوے حُزن و ملال کی تھپکیاں دوپہر بھر سوئے رہنے پر مجبور کر دیتیں۔ دن جو اورحان کے ڈیسک پر نہ گزرتے جہاں وہ پرُ ہجوم جگہوں کی، خاندانی مجالس، سکول و کالج کی محفلوں اور تہواروں کی پُرلطف ضیافتوں کے دلکش خوابوں کی تعبیر کر سکتا تھا وہ دوپہریں اسے اپنے کمرے کی جدائی میں کہیں سو کر گزارنی پڑتیں۔

”خواب اور نشانے ہمیشہ اپنی متوقع کامیابی سے زیادہ بلند رکھو! “

اورحان صرف ترکی کے مصنفیں اور بڑے ناموں سے مقابلہ کرنے کا خواہشمند نہ تھا بلکہ پوری دنیا کے ادب کا میدان اس کے سامنے ایک خواب کی صورت کُھلا پڑا تھا۔ اس کی منزل ترکی کی زودورنج زرد روشنیوں سے بلند عالمی ادب کا افق تھا جس کی حدوں کو چھونا مقصدِ حیات بنتا جاتا تھا۔ اس راہ پر قدم دھرتے ستاروں کا تعاقب کرتے اور ان پر کُند ڈالنے کے لیے وہ ہر حد تک جانے پر تیار تھا۔ سنجیدہ ناول نگار بننے کی جستجو میں ننانوے فی صد ہنر ننانوے فی صد ڈسپلن اور ننانوے فی صد محنت کی اورحان کو شدید ضرورت تھی، جس کو پورا کرنے کی اس نے بہترین کوشش کی۔

”ایک لکھاری کی واحد ذمہ داری اس کا ہنر ہے۔ ”

تاریخ گواہ ہے کہ یہ ذمہ داری اورحان نے فرض سمجھ کر نبھائی اور اجر کی طرح کامیابی بھی کُھل کر سمیٹی۔

لندن سے خاص آڈر پر پیرس ریویوز کے منگوائے گئے شمارے اورحان کی نئی عادات بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوئے۔ عالمی ادب کے کامیاب ناموں کی تحریروں کے پیچھے تحریکات، ان کے لکھنے کی شعوری لاشعوری عادات، کامیابی کے خُفیہ راز، طرز اور طریقۂ تحریر، عادات اور ان کی کالی راتوں کے حساب کتاب کے گہری نظر سے مطالعہ نے سمتوں کے تعین میں بہت رہنمائی کی۔ ایک ایسے معاشرے میں رہتے جہاں سب سے پہلے معاشرتی تقاضوں اور لوگوں کی توقعات پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ مطالعہ ایک اسیر نسخہ ثابت ہوا۔

جس نے اورحان کو اپنے سماجی اور سیاسی صورتِ حال سے بلند ہو کر سارے حالات کو بالغ نظری سے پرکھنے کا موقع دیا۔ 600 صفحات پر مشتمل اپنے پہلے ناول کو اوراق پر اتارتے اورحان کو ادراک تھا کہ یہ تکمیل دنوں اور مہینوں کی نہیں سالوں کی مسافت لے گی۔ چناں چہ کسی بھی صورتِ حال کے اتار چڑھاویا جمود اور تخیل کی کم ہمتی آڑے آنے لگتی تو یہی شمارے اس کے حوصلوں کو جلا بخشتے۔ ان رسالوں سے اورحان نے نا صرف حوصلہ اور محنت سیکھی بلکہ کافی کا بے دریغ استعمال اور لکھنے کے لیے گراف پیپر کا استعمال بھی سیکھا صرف اس لیے کہ یہ اس کے پسندیدہ ناول نگاروں کی عادات تھیں۔

ترکی کے ادبی منظرنامے پر موجود کسی بھی نام سے اورحان قریبی روابط نہ رکھنے کی وجہ سے سماجی تنہائی کا شکار تھا۔ یہ تنہائیاں آسماں پر چھائے کالے بادلوں اور ان سے برستی مایوسی کو مزید بڑھا دیتے۔ ایسے میں یہی رسالے اس کے لیے بہترین دوست اور مفید ترین احباب ثابت ہوئے۔ لفظوں کا اٹکنا، جملوں کی بے ربطگیاں اور لمحوں میں جمود کا اتر آنا اس کی ذاتی زندگی کی انوکھی مشکلات نہ تھا بلکہ ہر ذہین دماغ اور ہر چلنے والے قلم نے اپنے اپنے طرز پر اپنی منفرد نوعیت کی مایوسیوں، ناکامیوں اور ٹھوکروں کو سینے پر سجا رکھا ہے۔

” میں نے جانا کہ مجھے اپنی ان تمام نرالی عادات کو پکا کرنے کی ضرورت ہے جو میرے تخیل کو بلند پرواز اور قلم کو طاقت دیتی ہیں۔ “

دماغ میں ایک خیال کے جنم لینے سے لے کر پھلنے پھولنے، ٹہنیوں پر پھول پتوں کے اُترنے، بہار کے رنگوں سے خزاں کے جاڑے میں ڈھلنے تک کا ہنر ان ہی تحریروں نے اس کی عادتوں میں انڈیلا۔ مطالعہ کے ذریعہ اورحان نے نہ صرف عالمی ادب کے جدید رحجانات سے آشنائی پیدا کی اور ادب برائے ادب پیدا کرنا، اس سے لُطف اٹھانا اور کئی رنگوں اور اقسام کی خوشبوں کو سونگھنے اور مزے لینے کا ہنر سیکھا بلکہ یہ بھی کہ صرف ادب کی خاطر کس طرح سستے طریقے سے کمائی شہرت، نیک نامی اور کامیابی کو ٹھوکر پر رکھ کر جیا جاتا ہے۔

”میں اپنے ڈیسک پر بیٹھنے اور لکھنے سے ایسے ہی مزا لیتا ہوں جیسے بچے اپنے کھلونوں سے۔ یہ یقیناًمزدوری ہے لیکن میرے لیے یہ تفریح اور کھیل بھی ہے“

ادبی حلقوں میں شناسائی نہ ہونے کی وجہ سے اورحان کے پاس اپنا اولین ناول چھپوانے کا صرف ایک طریقہ تھا اور وہ یہ کہ کسی فورم کے مقابلے میں اپنی کتاب کا مسودہ جمع کروایا جاے اور اس نے ایسا ہی کیا۔ مقابلہ جیت کر اورحان کی کتاب شائع ہونے کے قابل ٹھہری تو لیکن ملک کی معاشیات کی متزلزل صورت حال اور فوجی مداخلت کی بِنا یہ معاہدہ حقیقت نہ بن سکا۔ اس دوران اورحان اپنے دوسرے ناول پر جو سیاسی موضوع پر تھا کام شروع کر چکا تھا۔

حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر اورحان کو اندیشہ ہوا کہ فوجی حکومت کے دوران یہ ناول اپنے سیاسی تناظر کی وجہ سے کم و بیش سات آٹھ سال تک نہ چھپ سکے گا۔ بائیس سال کی عمر سے لکھنے کا آغاز کر کے اورحان سات سال تک لکھتا رہا مگر تیس سال کی عمر تک ایک بھی ناول دنیا کے سامنے متعارف نہ ہو سکا تھا۔ حوصلے کی لگامیں تھام کر اورحان نے سیاسی ناول کے دو سو پچاس صفحات ایک الماری میں گُھسا کر اپنے تیسرے ناول پر کام شروع کر دیا۔

سالوں بعد تیس سال کی عمر میں اورحان کی قسمت کا پہیہ دھیرے دھیرے سے سِرکا اور تیسرے ناول کی تکمیل کے دوران بالآخر پہلا ناول Darkness and Light منظرِ عام پر آ سکا۔ اورحان کے رہائشی علاقے کے امیر گھرانوں سے تعلق رکھتی تین نسلوں کی اس کہانی نے کافی ایوارڈ حاصل کیے۔ پہلا ناول کامیاب ٹھہرا اور ناول نگاری کا سفر اپنے ٹریک پر اُتر کر جانبِ منزل ہوا۔ اورحان کا تیسرا ناول اس کی دوسری کتاب بن کر چھپا اور سیاسی منظر نامے کے باعث اورحان کا لکھا دوسرا سیاسی ناول امیر خاندان کے بگڑے بچوں کی وزیراعظم ہاؤس کو بم سے اُڑانے کی منصوبہ بندی کے ساتھ الماری کی تہوں میں پڑا رہ گیا اور اورحان اس کے تخیل اور تشکیل کے سفر سے آگے نکل کے نئی کامیابیوں میں گُم ہو گیا۔ 1990 ء میں ”مشرق سے نکلتے اس نئے ستارے“ کی مانند اس کی شہرت ترکی کی حدود سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی۔

ترکی کے کچھ شہرہ آفاق مصنفین میں سے پاموک وہ پہلے لکھاری ہیں جن کی گیارہ ملین کتابیں مختلف زبانوں میں شائع ہوکر عالمی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ دو ہزار چھے میں خوابوں جیسے ناول لکھنے والے اورحان کو لٹریچر کا نوبل پرائز ملا! اورحان نے نہ صرف اپنی زمیں کے ذہنوں پر اثر چھوڑا بلکہ ترکی کے ثقیل رواجوں، روایات اورُ دھند بھرے فلسفے کی تاثیر ساری دنیا کے دماغوں اور قارئین تک پہنچی۔ اس وقت وہ کولمبیا یونیورسٹی میں علم وادب کے پروفیسر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *