پاکستانی عوام کے مسائل اور متبادل راستہ
پاکستان کے عوام 72 سال سے مختلف ناموں سے بے وقوف بنائے جارہے ہیں مگراسکے باوجود عوام نہ اپنا دشمن پہچان سکے اور نہ خود اپنے مسائل کے حل کے لئے ایک ہوسکے بلکہ اپنے مسائل کا حل ان لوگوں سے امید لگائے ہوئے ہیں جو ان مسائل کو پید ا کرنے کے ذمہ دارہیں۔ یہ حکومت بری ہے اگلی حکومت اچھی ہوگی۔ جو حکومت میں ہو ں اس کے جانے پر بھی جشن اور جو آئے آنے پر جشن کچھ عرصہ بعد اسی حکومت کے ختم ہونے کے لئے بددعائیں اورجانے پر پھر جشن مناتے ہیں۔ یہ کھیل مملکت خداداد میں مسلسل جاری ہے
اس کھیل میں کھلاڑی عوام میں سے ہیں اور نہ اپمائر، عوام صرف تماشائی کا کردار اداکرتے آرہے ہیں۔ جو صرف ووٹ دینے، تالیاں بجانے اور ضرورت کے وقت جلسے جلوسوں کے رونق بننے کے لئے کام آتے ہیں۔ تمام کھیل ایمپائر کھیلتے ہیں اور اپنی مرضی کا نتیجہ بھی نکالتے ہیں۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے میڈیا پروپیگنڈوں کے ذریعے اپنے مطلوبہ کھلاڑیوں کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں کچھ محنت خود بھی کرتے ہیں اس طرح عام عوام تو سوچ سمجھ اور فکر کے بغیر ایمپائر کے کھلاڑیوں کو ووٹ ڈال دیتے ہیں لیکن باشعور ووٹرز کے پاس بھی متبادل نہیں ہوتا اورووٹ جس کو بھی ڈالے فائدہ ایمپائر کو ہوتا ہے۔
اس 72 سال میں ایمپائر نے عوام کی لیبارٹری میں ہر قسم کے تجربے کرلئے نظام مصطفی سے لے کر شریعت محمدی، تبدیلی سے لے کر انقلاب تک اورروٹی کپڑا مکان کے نعروں سے لے کر مدینہ کی ریاست تک عوام کو خوب مشغول و مصروف و پر امید رکھنے میں ابھی تک کامیاب ہیں۔ اس تمام کھیل میں ایمپائر کے قدرتی اتحادی بھی جن کو ایمپائر بین الاقوامی دباؤ کے تحت حکومت تو نہیں دیتی لیکن ہر حکومت میں حصہ ضرور دیتے ہیں کیونکہ عوام کو مشغول اور حکمرانوں کے خلاف احتجاج سے روکنے کے لئے مذہبی پارٹیاں اور لیڈرز نہایت کامیاب ہیں۔
عوام کی اکثریت غربت اور بدحالی کا ذمہ دار اب بھی خدا کی لکھی قسمت کو سمجھتے ہیں۔ مذہبی لیڈروں نے عوام کی پرسپشن بنائی ہوئی ہے کہ سب کچھ خداکرتا ہے اور وجہ اعمال کی خرابی بیان کرتے ہیں۔ لیکن یہ کسی فلاسفر نے کیا خوب کہا ہے کہ یہ جو بھوک ہے یہ تمام جرائم کی ماں ہے۔ غربت، بدحالی کی وجہ سے پورا معاشرہ انارکی میں ہے اور بقول شاعر اب درندوں سے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے۔ اب تو انسان کو انسانوں سے ڈرلگتا ہے۔
غرض پوری ریاست کو حکمرانوں نے اپنی ذاتی مفادات کے حصول اور بغیر محنت کے محنت کشوں کے محنت پر عیاشی کرنے کے لئے تباہ و برباد کرڈالا۔ جس کو اگر صحیح سمت لے جانے کی کوشش شروع بھی کی جائے تو کئی سال لگیں گے۔
اب آتے ہیں حل کی طرف جو نہ اتنا آسان ہے اور نہ کسی تنہا یا چندلوگوں کے بس کی بات ہے۔ اس کے لئے ایک منظم اور تربیت یافتہ تنظیم، پارٹی یا ایک وسیع اتحاد کی ضرور ت ہے جو ابتدا میں عوام کو صرف یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں کہ عوام کی بدحالی، بدامنی اور غربت کا ذمہ دار خدا نہیں بلکہ سماج کے وہ تمام طبقے ہیں جو خود محنت نہیں کرتے اور عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ مذہبی پیشوائیت و فرقہ وارانہ لیڈر ز، جاگیردار اور ریاست کی سب سے بڑی بیماری فوجی جرنیلوں کی بنائی ہوئی بیانیہ ہے جس کی وجہ سے یہ تمام طبقے عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔ پاکستان کا بیانیہ دو قومی نظریہ، پاکستان خطرے میں ہے اور اسلام خطرے میں ہے سب سے زیادہ ان تمام طبقوں کی طاقت کا راز ہے جو پاکستان پر 72 سالوں سے مسلط ہیں۔
دوسری وجہ عام عوام کی سیاست میں عدم دلچسپی اور الیکشن میں معمولی مفادات اور مجبوری کی خاطر اپنے طبقے کی بجائے دشمن طبقے کے لوگوں کو سپورٹ کرنا اور ان کی خاطر اپنے لوگوں سے نفرت کرنا۔
تیسرا سیاست میں صرف تماشائی اورعقیدت کا کردار نبھانا۔
بہترسماج، ریاست اور خوشحال عوام کے لئے عام عوام کو سیاست میں ایکٹیو رول ادا کرنا ہوگا۔ ملا، ملٹری اور فیوڈل کے اس اتحاد سے آزاد کرانا ہوگا۔ پاکستان ہر قسم وسائل اور معدنیات سے مالا مال ملک ہے۔ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے ہر قوم کے اپنے ساحل اور وسائل ہیں جو رضاکارانہ فیڈریشن سے بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ دشمنی، نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا۔ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی مفادات پر مبنی تعلقات بنانا ہوں گے۔ غیر پیداواری اخراجات، جنگی جنون اورفرقہ واریت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
فرسودہ اورروایتی طریقہ کار کی بجائے سائنسی اور جدید طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ زرعی ملک ہونے کی وجہ سے ایگرو بیسڈ انڈسٹریلیزیشن کی طرف جانا ہوگا۔ انڈائریکٹ ٹیکسیشن کی بجائے ڈائیریکٹ ٹیکسیشن اور مکمل کمپیوٹرائز کرنا ہوگا۔ ٹیکسیشن میں چوری کے لئے فائلر اور نان فائلر کا فراڈ ختم کرکے شناختی کارڈ نمبر ہی ٹیکس نمبر کرنا ہوگا۔ بینکنگ اور ٹیکس سسٹم آسان بنانا ہوگا۔
لیکن یہ تمام چیزیں تب ممکن ہوگی جب ایک منظم اور تربیت یافتہ اتحاد وجود میں آئے گی۔ جو ابتدا ئی طور ہر انسانی بنیادی حقوق کی فراہمی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی شعور جیسے نقاط پر متفق ہوجائیں۔ نقطہ نظر اوراختلاف جیسے ایشوز کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔


