ہزار جزیروں کا طلسماتی سفر(سفرنامہ کینیڈا 2 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

12 جولائی کی دوپہر کو وہٹبی Whitby سے مزید شمال مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ ہماری اگلی منزل کنگسٹن اور تھاؤزنڈ آئی لینڈ Thousand Island تھی۔ اس کے لئے ہم نے اپنی جیپ میں نصب شدہ جی پی ایس میں مطلوبہ ایڈریس فیڈ کیا۔ جی پی ایس نے ہماری رہنمائی کی اور ہم کو خوب صورت اور کشادہ شاہراہ نمبر 401 پر لے آیا۔ اب تقریبآ تمام مغرب یعنی امریکہ اور یورپ میں بھی جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم ) کے بغیر سفر کا کوئی تصور نہیں۔

ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ ایک چھوٹا سا آلہ آپ کی رہنمائی کرتا ہوا ہزاروں میل کا سفر کروا کر ٓاپ کو منزل مقصود پر پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالو جی کی بدولت زندگی آسان سے آسان تر ہوتی جا رہی ہے۔ جس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جی پی ایس اور اس جیسے دیگر آلات کسی خدا کی دین، بھگوان کی کرپا یا کسی اوتار کے چمتکار نہیں، بلکہ سائنسدانوں کی شب و روز کی محنت اور عرق ریزی کا منطقی نتیجہ ہے۔

دو ران سفر۔ ”درویشوں کا ڈیرہ۔ “ پر بات ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر سہیل نے بتایا کہ کتاب کی اشاعت کے بعد دنیا کے مختلف گوشوں سے قارئین نوجوان، خواتین و حضرات خط و کتابت کر رہے ہیں۔ ان دنوں فلسفے کی طالبہ ایک خاتون سے ژان پال سارتر کا ”نظریہ وجودیت“ Essentialism بذریعہ ای میل زیر بحث تھا۔ ہمارے استفسار پر ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بتایا کہ سارتر کا خیال تھا کہ زندگی مافی ضمیر میں ایک لایعنی شے ہے۔ جس کا کوئی طے شدہ مقصد نہیں ہے اور یہ کہ زندگی کو معنی انسان خود دیتا ہے۔

اس حوالے سے اس تھیوری کا الٹ نظریہ، ”نظریہ لزومیت“ یعنی Essentialism ہے۔ جس کی بنیاد امریکی فلاسفر، ولیم گیبلے نے رکھی تھی، فلسفے کی تاریخ میں لزومیت کا نظریہ 1930سے چلا آرہا ہے۔ اس نظریے کے تحت زندگی بے مقصد شے نہیں ہے بلکہ زندگی کے بعض روایتی اور قطعی معیارات، تصوارات اور طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ جو پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے مخصوص قوانین و ضوابط کے ماتحت زندگی گزارے، سارتر نے اس نظریے کو چیلنج کر کے اپنا نظریہ وجودیت پیش کیا تھا۔ اور قربانیاں بھی دی تھیں۔

بات سارتر کے نظریہ وجودیت سے شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد سارتر کی زند گی اور اس کا فلسفہ، کام اور کتب زیر بحث آئیں۔ خصوصاً سارتر کے ڈرامے نو اگزٹ No Exist پر مکالمہ خاصا دلچسپ رہا۔ اگرچہ ایک جگہ ہمیں شاہراہ پر حادثے کی وجہ سے روڈ بلاک بند بھی ملی اور ہمیں متبادل راستہ بھی اختیار کرنا پڑا مگر پھر بھی ہمارا وہٹبی سے کنگسٹن تک کا دو سو میل کا فاصلہ اور ساڑھے تین گھنٹے کا دورانیہ چند لمحوں میں بیت گیا۔

جب ہم کنگسٹن شہر میں داخل ہوئے تو غروب آفتاب کا سماں تھا۔ جنوب مشرق میں وسیع طول و عرض پر پھیلی انتاریو جھیل کی جانب سے ہولے سے چلنے والی باد نسیم نے ہمارا استقبال کیا، شہر کی خامشی نے د ہیرے سے ہمیں خوش آمدید کہا اور خوبصورت شاھراہوں پر لگی پیلی روشنیوں نے خیر مقدمی الفاظ بولے، جو صرف احساس کی سماعتوں سے سنے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ایک رفیق دیرینہ، انگریز خاتون این ہینڈرسن سے عشایئے پر ملاقات طے کر رکھی تھی۔

این ہینڈرسن Anne Henderson ایک ستر سالہ با وقار خاتون ہیں جو کنگسٹن کے نواع میں واقع ایک ہزار جزیروں Thousand Islands میں سے ایک ا ایمرہسٹ، نامی جزیرے پر اپنے شوہر کے ساتھ، جو ماہر فلکیات ہیں، مقیم ہیں۔ ہماری ملاقات شہر کی مرکزی پارکنگ میں طے تھی مگر این ہینڈرسن وہاں جانے والی روڈ پر بہت آگے آچکی تھیں۔ وہ ہماری گاڑی دیکھ کر سڑک ہی پر زور زور سے ہاتھ ہلاتی نظر آئیں۔ ایک عمر رسیدہ انگریزخاتون کی مہمانوں کو دیکھ کر چہرے پر بشاشت دیدنی تھی۔

خلوص، محبت اور خوش آمدیدی تاثرات ان کے ضعیف مگر پُرعزم چہرے کو اور بھی خوبصورت بنا رہے تھے۔ ہم ایک دفعہ پھر حیرت زدہ تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک ضخیم ناول تھا۔ میرے پوچھنے پر این ہینڈرسن نے بتایا کہ جب ہمارے آنے میں تاخیر ہو گئی تو انہوں نے میٹنگ پوائنٹ اور اس ریسٹورنٹ، جس میں انہوں نے ہمارے لئے عشائیے کا اہتمام کر رکھا تھا، چہل قدمی شروع کر دی۔ اور جب وہ چلتے چلتے تھک گئیں تو مقامی بُک شاپ سے کتاب خرید میٹنگ پوائنٹ پر بیٹھ کر پڑھنے لگ گئیں۔

ڈاکٹر سہیل نے بتایا کہ اینAnne پیشے کے طور پر نفسیاتی نرس ہیں۔ اور انھوں نے ان کے ساتھ پچیس سال کام کیا۔ اس دوران وہ پاکستان بھی جا چکی ہیں۔ وہ ایک ادیبہ اور شاعرہ بھی ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنی Short Story Book کتاب Dark Side Up دینے کا وعدہ کیا۔ ہم نے این کو اپنی نئی طباعت شدہ کتاب Dervishes Inn پیش کی۔ اس کے ساتھ میں نے ان کو ایک کشمیری شال، جو میں ان کے لئے خصوصی طور پر لے کر گیا تھا، پیش کی۔ وہ خوشی سے لوٹ پوٹ ہو گئیں۔

انہوں نے قدرے خنک موسم میں شال اوڑھ لی اور ڈاکٹر صاحب سے میرے ساتھ تصویر بنوائی۔ ہم جس ٹیبل پر ریسٹورنٹ کے کشادہ صحن میں بیٹھے تھے۔ اس ٹیبل پر چار کرسیاں تھیں۔ این نے کہا کہ کاش رابعہ الرباء اس خالی کرسی پر بیٹھی ہوتی۔ یہ کہتے ہوئے ان کی عمر رسیدہ آنکھوں میں نمی دیکھی جا سکتی تھی۔ Dervishes Inn کی (ادارت) Editing این نے کی ہے۔ کتاب اپنے ہاتھ میں لے کر وہ اس کو کافی دیر تک سہلاتی رہی جیسے اپنے نو مولود پوتے یا پوتی کو اپنے شفیقانہ لمس کا پہلا تحفہ دے رہی ہو۔ یہ ایک یادگار شام تھی۔

کھانے کے بعداین ہمیں انتاریو جھیل کے ساحل تک، جہاں سے ہم نے وولف آئی لینڈ بذریعہ فیری ٖFerry روانہ ہونا تھا، الوداع کہنے آئیں۔

رات کے دس بج چکے تھے۔ ہمار ا شب بسری کا بندوبست وولف آئی لینڈمیں واقع واحد ہوٹل میں این ہینڈرسن نے پہلے سے کر رکھا تھا۔ یہ جزیرہ کنگسٹن سے ٖ Ferry (کشتی) کے ذریعے 20 منٹ میں انتاریوجھیل عبور کر کے آتا ہے۔ فیری کیا تھی؟ ایک 300 فٹ x 200 فٹ کی طشتری تھی، جس کے پشتے پر چالیس پچاس گاڑیاں پارک ہو جاتی ہیں۔ آپ چاہے تو گاڑی میں ہی بیٹھے رہیں اور اگلے کنارے پر جیسے گاڑی چلا کر سوار ہوئے تھے، اسی طرح اتر جائیں۔ من چاہے تو طشتری کی اُوپری منزل پر جا کر اردگرد پھیلے ماحول، اور چاندنی سے لطف اندوز ہوں۔ وولف آئی لینڈ پہنچے تو رات گیارہ بجنے کو تھے۔ جزیرے کے پُر سکون پر سکوت ماحول میں ہلکی پھلکی چہل قدمی کرنے کے بعد شب بخیر کہتے ہی بنی۔

صبح سویرے جزیرہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ہم شب بسری کے لباس میں ہی جزیرے کی سیر کو نکل گئے۔ جزیرے کی ساحلی زمین گیلی مٹی میں ابھی تک بال کھولے سو رہی تھی۔ ہوا کے دوش پر آتی ہوئی پانی کی سرمست لہریں جزیرے کی خوابیدہ اور عریاں بدن سے ہولے ہولے ٹکرا کر چھیڑ چھاڑ کر رہی تھیں۔ جبکہ درختوں سے چھن کر آنے والی سورج کی سنہری کرنیں سرزمین وولف آئی لینڈ کو بیدار کرنے کی سعی کر رہی تھیں۔ یوں ایک خوبصورت اور دلکش نظارہ بن رہا تھا۔ ہم نے اس جزیرے پر قطار در قطار بادبانی چکیاں Wndmills) ) دیکھیں جو جزیرے کی برقی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی محسوس ہوتی تھیں۔ وہاں گھوم کر احساس ہوا کہ کسی دور دراز کے جزیرے پر صبح کی سیر کس قدر تر و تازہ اور تازہ دم کرتی ہے۔ کسی جزیرے کے ماحول کا رومان الفاظ میں بیان کرنا دشوار ہے۔

صبح کی سیر کے بعد ہوٹل پہنچے تو کمرے میں موجود کیتلی اور چائے کے سامان کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ جزیرے کی سیر سے واپس لوٹنے تک ڈاکٹر سہیل ایک نئی تحریر وجود میں لا چکے تھے۔ ہمارا چھ سات روز کا ساتھ رہا اور اس دوران صبح بیدار ہوتے ہی انہوں نے مجھے ایک نئی تخلیق پڑھ کر سنائی اور یہ کام صبح کی چائے پر ہوتا تھا۔ یہ تخلیق عموما ہم سب کے لیے لکھا گیا کالم ہوتا تھا۔ ان کے بقول وہ یو ں لکھے گئے کالموں کی سنچری مکمل کر چکے تھے۔

جب تک میں تیار ہوتا وہ تیار ہو کر کار کو فیری پر سوار ہونے والی گاڑیوں کی قطار میں لگا چکے تھے۔ ہم نے ایک ایک کپ کافی اور کوکونٹ پیسٹری سے ناشتہ گاڑی میں بیٹھ کر ہی کیا۔ چند منٹ میں ہم دونوں اپنی کار سمیت واپسی والی طشتری میں سوار ہو چکے تھے۔ اب ہم کنگسٹن کو دن کی روشنی میں دیکھ رہے تھے۔ یہ ساحلی شہر تعطیلات گزارنے آئے ہوئے لوگوں کی رونق سے مزیّن ایک میلے کا سماں پیش کر رہا تھا۔ ایک طرف نوجوان جوڑے باہوں میں باہیں ڈالے خراماں خراماں گھوم رہے تھے تو دوسری طرف بچے مصنوعی پہاڑی پر چٹان پیمائی کی مشق کر رہے تھے۔

ملک بھر سے کنگسٹن آئے لوگ بعص خوش گپیوں میں مصروف بہ لب سڑک ہی ناشتہ تناول کر رہے تھے۔ اسی گہما گہمی میں ہم ٹکٹ گھر تک پہنچ گئے۔ ساحل کنگسٹن پر دلہنوں کی طرح سجائی گئی فیریز ایستادہ تھیں۔ ہم نے ہزار جزیرے Thousand Island جانے والی فیری لی اس فیری پر قریب ایک سو افراد سوار تھے۔ انتاریو جھیل میں پھیلے ایک ہزار جزیروں کا سفر قریب دو گھنٹے میں طے ہوا۔ آسمان صاف تھا۔ فیری کا ساؤنڈ سسٹم موسیقی کے ساتھ ساتھ ہمیں مختلف جزیروں سے متعارف کرواتا اس آبی سفر کو یادگار بنا رہا تھا۔

ہمیں بتایا گیا کہ انتاریو شمالی امریکہ کی پانچ بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔ اس جھیل کا کل رقبہ سات ہزار تین سو چالیس مربع میل ہے۔ اس کے شمال مغرب میں کینیڈا کا صوبہ انتاریو اور جنوب اور جنوب مشرق میں امریکہ کی ریاست نیو یارک ہے۔ اور آپ فیری کے ذریعے جھیل انتاریو عبور کر کے بھی امریکہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ ہم رائل کینیڈین ملٹری اکیڈمی کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنے پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) میں گزرے سنہری دنوں کی یاد تازہ کرتے رہے۔ اس دوران ہم نے اپنی تواضع نچلی منزل پر موجود ہلکی مشروبات اور کافی سے کی۔ یہ ایک حسین اور یادگار سفر تھا جو چند لمحوں میں بیت گیا۔

واپس کنگسٹن پہنچ کر اوپن ایئرریسٹورنٹ میں لنچ کیا اور واپسی کا سفر شروع کر دیا۔ کنگسٹن سے وھٹی Whitby کا سفر ویسے تو تین گھنٹے کا ہے مگر جب باتیں شروع ہوتیں تو سفر کٹنے کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ مختلف موضوعات زیرِبحث آتے واپسی پر سٹیفن ہاکنگ کی کتاب بریف ہسٹری آف ٹائم A Brief History of Time زیر بحث رہی۔

۔ ڈاکٹر صاحب نے سٹیفن ہاکنگ کے کائنات کے نقطہ آغاز بارے سٹیفن ہاکنگ کے نظریات، بگ بینگ اور بگ کرنچ کے بارے تفصیل سے بتایا جبکہ ہم نے سٹیفن ہاکنگ کی بلیک ہول تھیوری پر بہت سے سوالات اٹھائے۔ موضوع بدل کر ڈاکٹر سہیل نے سٹیفن ہاکنگ کی زندگی کے بارے میں کافی دلچسپ باتیں بتائیں کیونکہ سوانح عمریاں پڑھنا ان کا خصوصی علاقہ ہے۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *