کیا نون لیگ میں شریف خاندان کا متبادل لیڈر ابھر رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ نون کے ایکسٹینشن کے حق میں غیر مشروط ووٹ دینے کے فیصلے نے اس کے حامیوں کو بہت مایوس کیا۔ گزشتہ دو برس سے نواز شریف کا بیانیہ تھا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ مگر جب ووٹ کو عزت دینے کے لئے سٹینڈ لینے کی باری آئی تو پارٹی نے اپنی عزت دے دی۔ اس کے بعد نون لیگ کے حامیوں میں تو مایوسی دکھائی دی ہی تھی مگر اس کی لیڈر شپ میں قربانیاں دینے والے افراد بھی مایوس دکھائی دیے۔

نواز شریف شروع میں تو جنرل جیلانی اور جنرل ضیا کے سائے میں پنجاب کے حکمران بنے تھے۔ جنرل ضیا کے منظر سے ہٹ جانے کے بعد جب پیپلزپارٹی کے مقابل کی ضرورت محسوس ہوئی تو افسران قضا و قدر نے نواز شریف کا انتخاب کیا۔ اپنے ابتدائی انتخابات میں نواز شریف بھی ”شہید جنرل ضیا“ کا مشن پورا کرنے کے نعرے لگاتے دکھائی دیے۔ ان کی حیثیت تقریباً ویسی ہی تھی جیسی گجرات کے چوہدریوں کی ہے۔ انہیں دائیں بازو کا نمائندہ جاتا تھا۔ ان کے حامی بھی انہیں ایک گھگھو قسم کا کٹھ پتلی لیڈر مانتے تھے۔

پھر بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد نواز شریف کی پہلی حکومت آئی تو وہ طاقتور صدر غلام اسحاق خان سے سینگ پھنسا بیٹھے۔ غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت گرا دی مگر سپریم کورٹ کے فیصلے سے حکومت بحال ہو گئی۔ اس زمانے میں نواز شریف ایک تقریر سے گھگھو سے لیڈر بن جائے جب انہوں نے پی ٹی وی پر اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینے کا اعلان کرتے ہوئے بہت کروفر سے کہا تھا کہ ”میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا“۔

خیر انہوں نے جنرل وحید کاکڑ کی ڈکٹیشن لے لی اور یوں نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں سے استعفیٰ لے کر انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ مگر اپنی اس بغاوت کے نتیجے میں نواز شریف نے خود کو جنرل ضیا کے سائے سے آزاد کروا لیا اور ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے ابھرے۔

مریم نواز کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ شہباز شریف نے پنجاب پر اچھے انداز میں حکومت کی، مگر ان کی قسمت ایسی تھی کہ ووٹر نے ان کو ایک قابل منتظم تو مانا مگر ووٹ ہمیشہ نواز شریف کے نام پر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 2014 کے انصافی دھرنے اور پانامہ کے ہنگامے کا وقت آیا تو اس آزمائش میں نون لیگ کے ووٹر نے شہباز شریف پر اعتماد نہیں کیا بلکہ مریم نواز کی مزاحمتی تقریروں نے انہیں نواز شریف کا جانشین بنا دیا۔

ایکسٹینشن کے غیر مشروط ووٹ نے اس مزاحمتی غبارے سے ہوا نکال دی۔ نواز شریف تو چلیں بیمار ہو کر ایک کنارے لگ گئے مگر مریم کہاں ہیں؟ ان کی مزاحمت ختم ہو چکی ہے۔ ان کا ووٹر مایوس ہو چکا ہے۔ جب لیڈر کارکن کو تنہا چھوڑ دیں تو کارکن لیڈر کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔

لیکن ایسے میں نون لیگ کے ایک کونے سے مزاحمت کی ایک توانا آواز ابھر رہی ہے جو شریف خاندان کی موجودہ پالیسیوں سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی جیل میں پڑے ہیں مگر اس کے باوجود مزاحمت کر رہے ہیں۔ ان کی تقاریر باغیانہ ہیں۔ وہ ووٹ کو عزت دینے کے داعی بن چکے ہیں۔ بطور وزیراعظم اپنے مختصر دور میں انہوں نے ایک اچھا لیڈر ہونے کا تاثر بھی قائم کیا ہے۔ بزنس کمیونٹی بھی ان پر اعتماد کرتی ہے۔ جبکہ ان کی اپنی پارٹی انہیں ایک مصیبت سمجھ کر ان سے دوری اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

گزشتہ دنوں شاہد خاقان عباسی کو پروڈکشن آرڈر پر پارلیمنٹ میں لایا گیا تو شعلہ بیان مقرر خواجہ آصف ان سے منہ چھپاتے دکھائی دیے۔ شاہزیب خانزادہ کے مطابق ایک موقعے پر خواجہ آصف، رانا تنویر اور ایاز صادق جب شاہد خاقان عباسی سے ملنے گئے تو انہوں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ مفتاح اسماعیل سے اہم ملاقات کر رہے ہیں۔

رپورٹرز کے مطابق ایک دوسرے موقعے پر شاہد خاقان عباسی اپوزیشن چیمبر میں موجود تھے تو لیگی راہنما وہاں جانے سے گھبرا رہے تھے، بلکہ ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ رانا تنویر نے خواجہ آصف اور رانا ثناءاللہ کو اندر جانے سے روکتے ہوئے کہا ”اندر اوہ بیٹھا اے چلو کدھرے ہور چل کے بہہ جائیے“ (اندر وہ بیٹھا ہے، چلو کہیں اور چل کر بیٹھ جاتے ہیں )

جس وقت نون لیگ غیر مشروط طور پر ایکسٹینشن بل میں ترمیم کی حمایت کا اعلان کر رہے تھے اس وقت شاہد خاقان عباسی کہہ رہے تھے کہ ”آرمی ایکٹ بل میں خامیاں ٹھیک کرنے ضرورت ہے ورنہ پھر کہیں یہ بل تمہارے لیے رسوائی کا باعث نہ بن جائے“۔

پارٹی میں اس قانون کے حق میں ووٹ دینے والوں اور ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرنے والوں میں تقسیم گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اگلے چند مہینوں میں یہ تقسیم پارٹی کے ہی دو ٹکڑے کر دے۔ شاہد خاقان عباسی ایک تقریر کریں جس میں وہ کہیں کہ ”میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا“ اور یہ چند الفاظ انہیں اسی طرح لیڈر بنا دیں جیسے انہوں نے نواز شریف کو بنایا تھا؟

ہماری سیاسی پارٹیاں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ عوام نے اگر شریف خاندان کو مسترد کر دیا تو پھر قحط الرجال کے اس عالم میں ان میں سے بہت سے اس نئے لیڈر کے گرد اکٹھے ہوں گے۔ اگر ایسا ہوا تو شریف پارٹی کا وہی مقام ہو گا جو آج ق لیگ کا ہے اور یہ نیا لیڈر اپنی نئی پارٹی سے آج کی نون لیگ کی جگہ لے گا۔ بہرحال ایسا ہو یا نہ ہو، شاہد خاقان عباسی نون لیگ میں ایک متبادل قیادت کے طور پر تیزی سے ابھر رہے ہیں اور گمان یہی ہے کہ وہ زیادہ عرصہ شریف خاندان کے ساتھ نہیں چل پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1240 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *