مرشد! میں بھونکدا ہاں، جو کئی شے وی نئیں بچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نصرت فتح علی خان صاحب کی زندگی پر ایک دستاویزی پروگرام ”خسروئے ثانی“ بنا رہا تھا۔ اکثر موسیقار گھرانوں کے وارثین نے انٹرویو کے دوران کہا کہ خان صاحب کا تعلق قوال گھرانے سے تھا۔ تال بہت اچھا سمجھتے تھے۔ کس جگہ ضرب لگانی ہے اور حاضر سامعین کی توقعات پر کیسے پورا اترنا ہے یہ خان صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔ لیکن وہ گائیک نہیں تھے۔ کلاسیکی موسیقی کو سن سن کر کچھ چیزیں کہہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ گائیک بن گئے ہیں۔

ہمارے ہاں کوئی بچہ اچھا نہ گا رہا ہو تو کہا جاتا ہے کہ بطور سزا اس کو قوالوں کے وس ڈال دو، تالیاں بجاتا بجاتا مر جائے گا۔ یوسف صلی کا انٹرویو لینے کے دوران موسیقار گھرانوں کی یہ باتیں گوش گزار کیں تو یوسف صلی غصے میں آ گئے، کہنے لگے ”یہ نہیں دیکھتے کہ نصرت فتح علی خان نے کس قدر کم وقت میں سیکڑوں کمپوزیشنز دے دیں اپنی منفرد گائیکی سے دنیا فتح کر لی، سرگم جس کو گائیکی تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اس کو وہ بندہ کہاں لے گیا۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ ان کا تعلق موسیقار گھرانے سے نہیں تھا تو میری طرف سے بھاڑ میں جائے، میں پوچھتا ہوں آپ نے بڑے موسیقار گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجود دنیا کو کچھ مختلف یا اچھا نہیں دیا تو آپ کے موسیقار گھرانے سے تعلق کا مجھ سے کیا لینا دینا“

مجھے یہ واقعہ افکار علوی کی نظم یا غزل مسلسل ”مرشد پلیز آج مجھے وقت دیجئے“ پڑھ کر اوربہ زبان شاعر سن کر یاد آیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ نظم میں کچھ فنی کجیاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دوسری جانب نظم ہے کہ شہرت کے ریکارڈ توڑتی جا رہی ہے۔ میری کم علمی کہیے اس نظم سے پہلے میں افکار علوی صاحب سے واقف نہیں تھا۔ اس نظم نے افکار علوی کو ہر خاص و عام سے متعارف کروا دیا۔

یہ نظم یا غزل مسلسل بڑا مضمون لیے ہوئے ہے۔ ایک ایک مصرعہ گونجتا دکھائی دیتا ہے۔ تخلیق کی دنیا بڑی عجیب ہوتی ہے کہ تخیلق کار ایک پوری کتاب تخیلق کر لیتا ہے لیکن کتاب کا نام رکھنے کی باری آتی ہے تو دیوار سے سر مارتا پھرتا ہے۔ پھر بے بس ہو کر نسخہ ہائے وفا یا ن م راشد کو کھولتا ہے اور وہاں کی ایک ایک ترکیب پر جھوم اٹھتا کہ کیسے ہر ترکیب ہی اس کی کتاب کے مضمون کے اظہاریے کے طور چیخ رہی ہے کہ مجھے اٹھا لو، مجھے اٹھا لو۔ بڑا ادب جانچنے کا غضب پیمانہ ہے۔ ( فیض صاحب نے بھی شاہکار تخلیق کرنے کے بعد دیوان کا نام رکھنے کے لیے غالب سے رجوع کیا)

افکار علوی کی یہ نظم کیا ہے؟ فنی خامیوں کو ایک طرف رکھیے۔ آپ کالم لکھنا چاہتے ہیں آپ کوئی مضمون لکھنا چاہتے ہیں۔ مضمون یا کالم کا عنوان رکھنے میں دقت پیش آ رہی ہے؟ افکار علوی کی اس نظم کی جانب جائیے اور ان گونجتے مصرعوں میں اپنے مضمون کے مطابق کسی کو منتخب کر لیجیے۔

مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا

یا

مرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئی

یا

مرشد محبتوں کے نتائج کہاں گئے

یا

مرشد میں رونا روتے ہوئے اندھا ہو گیا

یا

مرشد وہاں یزیدیت آگے نکل گئی

یا

بے موسمی وفات کا دکھ چھوڑ جائیں گے

یا

مرشد! ہماری دوستی شبہات کھا گئے

یا

اپنا نصیب اپنی خرابی سے مر گیا

یا

پروردگار! یار، ہمارا خیال کر

یعنی آپ مصرعے اٹھا کر ایک مضمون بھی لکھ سکتے ہیں۔

کیا ٹالسٹائی کی کہانی سادہ ہے؟ شاید نہیں۔ ہاں ان کے پاس ایک ایسا فن ہے کہ بڑے خیال کو بھی سادہ اسلوب سے پیش کر دیتے ہیں۔ بڑے ناول نگار جزئیات نگاری میں گھستے چلے جاتے ہیں اور کہانی کہیں پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ٹالسٹائی کی کہانی کبھی پس منظر میں نہیں جاتی۔ جزئیات نگاری ضرورت کی حد تک اور اسلوب کس قدر سادہ ہے۔ ہمارے ہاں اسد محمد خان، سعادت حسین منٹو اور انتظار حسین جیسے کئی ایسے بڑے فنکار ہیں۔

فیض صاحب کی نظم ”گلشن یاد میں گر آج دم باد صبا“ شاید عام آ ٓدمی کو سمجھانا مشکل ہو لیکن ”ہم دیکھیں گے“ کی دھوم وہاں وہاں تک جائے گی جہاں جہاں یہ اردو زبان واجبی سطح پر بھی سمجھی جاتی ہو۔ کیا ”ہم دیکھیں گے“ کاخیال سطحی ہے جو ہر عام آدمی کو بھی سمجھ آ جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خیال کسی طور سطحی نہیں ہے لیکن اسلوب کیسا سادہ ہے۔ اس کا قطعی مطلب گلشن یاد جیسی نظم کو نیچا دکھانا نہیں۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ آپ کی ایسی بات جس میں بڑا خیال پوشیدہ ہو لیکن اسلوب ایسا ہو کہ آپ کے قارئین میں معاشرے کے مختلف ططبقات اس کو برابر سمجھ جائیں یہ اپنی ذات میں خود ایک بہت بڑا فن اور ذہانت کی علامت ہے۔

افکار علوی کی نظم میں ایک اور تاثر بھی نمایاں ہے۔ ایسا تاثر کہ ”گویا یہ بھی میرے دل میں تھا“۔ یہ تاثر بھی معیار کو جانچنے کا کمال پیمانہ ہے کہ آپ کے دل میں تو تھا لیکن آپ کو ایسا فن میسر نہیں تھا کہ آپ بیان کر سکتے۔

آج ادب کی زبوں حالی کے دور میں بھی روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں ہزاروں اشعار تخلیق کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ فنی معیارات پر بھی پورے اترتے ہوں لیکن کیا وہ تمام رکاوٹوں کو روندتے ہوئے آپ تک پہنچے ہیں؟

لوک اشعار کی لمبی عمر کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دل پہ براہ راست بیتی کی رپورٹ ہوتے ہیں۔ ہم احساسات میں مشترکہ پن کی وجہ سے فورا ایسے اشعار سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ صحرا کی اپنی آواز ہے۔ کوئی گلوکار یا شاعر صحرا سے تعلق رکھتا ہو گا تو اس کی حقیقت سے ناواقف ہونے کے باوجود اس کی گائیکی یا اشعار سے اندازہ ہو جائے گا کہ یہ فنکار صحرائی ہے۔ صحرا کی ایک خاص پکار ہے۔ مائی بھاگی، ریشماں، مائی دھائی، نصیبو لعل (آبائی تعلق راجھستان سے تھا) مہدی حسن خان، اور اس دور کی مقبول ترین آواز شرییا گوشال وغیرہ جیسے گلوکاروں کی آوازیں کس قدر منفرد ہیں۔ شاید صحرا میں ’پکار‘ کی ہزاروں سالہ تربیت کا اثر ہے۔ یہی معاملات آپ کو صحرا کے شاعر کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

صحرا سے ملتے جلتے خدوخال آپ کو سرائیکی علاقے میں نظر آتے ہیں۔ لوک گیت درد کا ایسا اشتہار ہیں کہ درد سے آشنا کسی بھی فرد کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ فنی معاملات کو ایک طرف رکھیے افکار علوی کی نظم دل میں پیوست ہوتی ہے اور شاید اس میں اس سرائیکی شاعر کے نمانے اور عجز سے بھرپور لہجے کا بھی تعلق ہے۔

آپ میں سے اگر کسی نے ابھی تک یہ نظم نہیں پڑھی تو یہاں نقل کر رہا ہوں لیکن یوٹیوب یا فیس بک پر تلاش کر کے اس کو افکار علوی کی زبانی بھی ضرور سنیے۔

پہلا حصہ۔

مرشد! پلیز، آج مجھے وقت دیجیے

مرشد میں آج آپ کو دکھڑے سناؤں گا

مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو گیا

مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے

مرشد ہماری ذات پلندوں میں دب گئ

مرشد ہمارے واسطے بس ایک شخص تھا

مرشد وہ ایک شخص بھی تقدیر لے اڑی

مرشد محبتوں کے نتائج کہاں گئے

مرشد مری تو زندگی برباد ہو گئی

مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا

مرشد کوں آکھیں آ کے ساڈا حال ڈیکھ ونج

مرشد ہمارا کوئی نہیں، ایک آپ ہیں

یہ میں بھی جانتا ہوں کہ اچھا نہیں ہوا

مرشد! میں جل رہا ہوں، ہوائیں نہ دیجیے

مرشد! ازالہ کیجے، دعائیں نہ دیجیے

۔ ۔ ۔ ۔

دوسرا حصہ۔

مرشد خموش رہ کے پریشاں نہ کیجیے

مرشد میں رونا روتے ہوئے اندھا ہو گیا

اور آپ ہیں کہ آپ کو احساس تک نہیں

ھہہ، صبر کیجے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے

مرشد میں بھونکدا ہاں جو کئی شے وی نئیں بچی

مرشد وہاں یزیدیت آگے نکل گئی

اور پارسا نماز کے پیچھے پڑے رہے

مرشد کسی کے ہاتھ میں سب کچھ تو ہے، مگر

مرشد کسی کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں رہا

مرشد! جو میرے یار۔ بَھلا چھوڑیں، رہنے دیں

اچھے تھے جیسے بھی تھے خدا مغفرت کرے

مرشد! ہماری رونقیں دوری نگل گئی

مرشد! ہماری دوستی شبہات کھا گئے

مرشد! اے فوٹو پچھلے مہینے چھکایا ہم

ہنڑ میکوں ڈیکھ! لگدئے جو اے فوٹو میڈا ہ؟

یہ کس نے کھیل کھیل میں سب کچھ الٹ دیا

مرشد یہ کیا کہ مر کے ہمیں زندگی ملے

مرشد! ہمارے ورثے میں کچھ بھی نہیں، سو ہم

بے موسمی وفات کا دکھ چھوڑ جائیں گے

مرشد کسی کی ذات سے کوئی گلہ نہیں

اپنا نصیب اپنی خرابی سے مر گیا

مرشد وہ جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز ہے

شاید ہمارے ساتھ وہی ہاتھ کر گیا

۔ ۔ ۔ ۔

تیسرا حصہ

مرشد! دعائیں چھوڑ، ترا پول کھل گیا

تو بھی مری طرح ہے، ترے بس میں کچھ نہیں

انسان میرا درد سمجھ سکتے ہی نہیں

میں اپنے سارے زخم خدا کو دکھاؤں گا

اے ربِ کائنات! ادھر دیکھ، میں فقیر

جو تیری سر پرستی میں برباد ہو گیا

پروردگار! بول، کہاں جائیں تیرے لوگ

تجھ تک پہنچنے کو بھی وسیلہ ضروری ہے

پروردگار! کچھ بھی صحیح نہیں رہا

یہ کس کو تیرے دین کے ٹھیکے دیے گئے

پروردگار! ظلم پہ پرچم نِگوں کیا

ہر سانحے پہ صرف ترانے لکھے گئے

ہر شخص اپنے باپ کے فرقے میں بند ہے

پروردگار! تیرے صحیفے نہیں کھلے

کچھ اور بھیج! تیرے گزشتہ صحیفوں سے

مقصد ہی حل ہوئے ہیں، مسائل نہیں ہوئے

جو ہو گیا سو ہو گیا، اب مختیاری چھین

پرودگار! اپنے خلیفے کو رسی ڈال

جو تیرے پاس وقت سے پہلے پہنچ گئے

پروردگار! ان کے مسائل کا حل نکال

پروردگار! صرف بنا دینا کافی نئیں

تخلیق کر کے بھیج تو پھر دیکھ بھال کر

ہم لوگ تیری کن کا بھرم رکھنے آئے ہیں

پروردگار! یار، ہمارا خیال کر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 162 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

One thought on “مرشد! میں بھونکدا ہاں، جو کئی شے وی نئیں بچی

  • 19/01/2020 at 6:56 pm
    Permalink

    واہ۔ واہ ۔واہ
    اپنی کم علمی کا رونا پہلے کے سرائیکی ہوتے ہوئے بھی افکار علوی جیسے پیارے شاعر کو پہلے نہیں پڑھا۔
    کون کون سی لائن کوٹ کریں۔ پوری نظم ہی شاندار ہے۔
    “پروردگار! صرف بنا دینا کافی نئیں

    تخلیق کر کے بھیج تو پھر دیکھ بھال کر

    ہم لوگ تیری کن کا بھرم رکھنے آئے ہیں

    پروردگار! یار، ہمارا خیال کر”

    یار💗

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *