کیا آپ فریڈرک نیٹشے کی دانائی اور دیوانگی سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے جب جرمن فلسفی فریڈرک نیٹشے کی زندگی کے حالات و واقعات اور ان کے خیالات و نظریات کا مطالعہ کیا تو مجھے منیر نیازی کی ایک مختصر سی نظم یاد آ گئی ایسی نظم جس کا عنوان نظم سے لمبا ہے

عنوان: وقت سے آگے نکل جانے والا آدمی

نظم : تنہا رہ جاتا ہے

نیٹشے اپنے وقت سے اتنا آگے نکل گئے کہ ان کی تنہائی نے پہلے دانائی پھر دیوانگی کو گلے لگا لیا اور وہ نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئے۔

فریڈرک نیٹشے 1844 میں جرمن کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہیں نوجوانی سے ہی شاعری ’موسیقی اور فلسفے کا شوق تھا اسی لیے ان کا شہکار ناول

THUS SPOKE ZARATHUSTRAادب شاعری اور فلسفے کے درمیان پل تعمیر کرتا ہے۔

نیٹشے نے زمانہِ طالب عملی میں ہی مذہب اور ادب کی مختلف روایات کا مطالعہ کیا اور اپنے فلسفے کے پروفیسر رٹشل سے بہت فیض حاصل کیا۔ وہ اپنے پروفیسر سے اتنا قریبی تعلق محسوس کرتے تھے اور وہ ان کے اتنے منظورِ نظر تھے کہ جب پروفیسر رٹشل لپزگ یونیورسٹی گئے تو نیٹشے بھی وہاں منتقل ہو گئے۔ جب نیٹشے نے اپنی تعلیم مکمل کی تو وہ بیزل یونیورسٹی میں پروفیسر بنا دیے گئے۔ وہ اس یونیورسٹی کی تاریخ میں نوجوان ترین پروفیسر تھے۔

نیٹشے نے جب اپنے نظریات کا اظہار اپنے مقالوں اور کتابوں میں کرنا شروع کیا تو وہ خوش نام بھی ہوئے اور بدنام بھی۔ 1878 سے 1888 کی دہائی میں انہوں نے ہر سال ایک کتاب تخلیق کی۔ 1883 میں وہ اتنے بدنام ہوئے کہ اپنے نظریات کی وجہ سے وہ جرمنی کی یونیورسٹیوں میں بلیک لسٹ کر دیے گئے۔ اس کے بعد وہ کسی بھی یونیورسٹی میں نہ پڑھا سکتے تھے۔

نیٹشے ایک انقلابی سوچ کے حامل فلسفی تھے۔ انہوں نے خدا اور مذہب کو عمومی اور عیسائیت کو خصوصی طور پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ نیٹشے کو مذاہبِ عالم پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھاکہ انہوں نے زندگی کی اچھائی اور برائی کو نیکی اور بدی اور گناہ و ثواب میں بدل دیا تھا۔ نیٹشے نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسانوں کو انسانیت کی معراج تک پہنچنے کے لیے مذاہب سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ نیٹشے سے عیسائی اس وقت بہت ناراض ہوئے جب انہوں نے اعلان کیا کہ خدا مر چکا ہے اور گرجے خدا کی قبریں ہیں جہاں خدا کی موت کا ماتم ہوتا ہے۔

نیٹشے مذہب کا ہی نہیں روحانیت کے بھی خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کو ذہنی طور پر مکمل آزاد ہونے کے لیے تمام مذہبی ’روحانی اور مافوق الفطرت روایات کو خیر باد کہنا ہوگا۔ نیٹشے پیغمبروں کے ہی نہیں ان فلسفیوں کے بھی خلاف تھے جو مستقبل کی پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ نیٹشے کا موقف تھا کہ انسانوں کے لیے عقیدہ کسی جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ جھوٹ کو مقدس بنا دیتا ہے اور پھر اس پر نہ کوئی اعتراض کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے چبھتا ہوا سوال پوچھ سکتا ہے۔ نیٹشے کا کہنا تھا کہ انسان صرف اس وقت اپنی عظمت کی بلندیوں کو پہنچ کر سوپرمین نہیں بن سکتا ہے جب تک وہ خدا کو خدا حافظ نہ کہے۔ میرے بعض دانشور دوستوں کا خیال ہے کہ علامہ اقبال کا خودی کا فلسفہ نیٹشے کے سوپر مین کے فلسفے سے مستعار ہے۔

1889 میں نیٹشے دیوانگی کا شکار ہو گئے اور انہیں ایک ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ ہسپتال سے رخصت ہونے کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے جنہوں نے ان کی تیمارداری کی۔ جب ان کی والدہ 1897 میں فوت ہوئیں تو ان کی بہن نے ان کا خیال رکھا۔ نیٹشے 1900 میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناتے جب میں اپنے آپ سے سوال پوچھتا ہوں کہ زندگی کے آخری دس سال میں نیٹشے نے کیوں اپنا ذہنی توازن کھو دیا تو میرے ذہن میں مندرجہ ذیل محرکات آتے ہیں

1۔ نیٹشے کو اپنے بچپن میں اپنے والد اور بھائی کی موت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حادثات نے انہیں دکھی کر دیا اور وہ زندگی میں پہلی بار ڈیپریشن کا شکار ہوئے۔

2۔ نیٹشے نے عمر بھر تجرد کی زندگی گزاری۔ ان کی زندگی میں ان کے دکھوں کا کوئی ساتھی نہ تھا۔

3۔ نیٹشے نے جب اپنے انقلابی خیالات اور نظریات کا اظہار کیا تو ان کے فلسفی دوست بھی انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کے محبوب پروفیسر نے بھی ان ک ساتھ نہ دیا۔

4۔ نیٹشے بے خوابی کی زندگی گزارتے تھے۔ وہ نیند کے لیے افیون کا استعمال کرتے تھے جس سے ان کے لیے اور بھی نفسیاتی مسائل پیدا ہوئے۔

5۔ نیٹشے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے احساسِ برتری کا شکار تھے۔ انہیں بھی منیر نیازی کیطرح زعم تھا

؎ مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں سب سے تھا

میں شہر میں کسی کے برابر نہیں رہا

نیٹشے کو اپنی تحریروں پر بڑا گھمنڈ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دس جملوں میں وہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں جو باقی فلاسفر پوری کتاب میں کہتے ہیں بلکہ پوری کتاب میں بھی نہیں کہہ پاتے۔

6۔ نیٹشے کا دل اس وقت ٹوٹ گیا جب جرمنی کی یونیورسٹیوں نے ان کے نظریات کی وجہ سے انہیں بلیک لسٹ کر دیا۔

7۔ نیٹشے کو خواص نے ہی نہیں عوام نے بھی رد کر دیا کیونکہ انہوں نے اپنی تحریروں سے ان کے مقدس جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔

نیٹشے کے دکھ اتنے بڑھے کہ زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے اور انہیں دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ اگرچہ وہ عیسائیت کے خلاف تھے لیکن ہسپتال میں اپنے نام کے ساتھ مصلوب لکھتے تھے۔

نیٹشے کا کہنا تھا کہ جدید دور کے فلسفی کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسے ایسی انسانی اقدار کی نشاندہی کرنی ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو۔ نیٹشے سیکولر اقدار کی تلاش میں تھے۔ وہ سیکولر اخلاقیات کی ایک مثال یہ دیتے تھے کہ اگر ہر انسان ہر صبح عبادت کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کرے کہ وہ اس دن کسی ایک انسان کو خوش کرے گا اور اس کی خدمت کرے گا تو اس کا یہ عمل انسانیت کے لیے اس کی عبادت سے زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔

نیٹشے کا خیال تھا کہ انسانوں کو آسمانی کتابوں کی بجائے اپنی عقل اپنے شعور اور اپنے ضمیر کی پیروی کرنی چاہیے۔

نیٹشے کو ساری عمر ناشناسی کا دکھ رہا۔ وہ اپنے ہم عصر ادیبوں شاعروں دانشووں اور فلسفیوں سے شاکی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا دور ابھی نہیں

آیا بعض دانشور مرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔

نیٹشے کو ساری عمر یہ فکر دامنگیر رہی کہ مرنے کے بعد لوگ انہیں مقدس نہ بنا دیں۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ان کے جنازے پر ان کے قریبی دوست پیٹر گیسٹ نے از راہ ِ تفنن کہا

’میری دعا ہے کہ آئندہ نسلوں کے لیے تمہارا نام مقدس ہو جائے‘ ۔

نیٹشے نے بیسویں صدی کے جب دانشوروں کو متاثر کیا ان میں سارتر ’دریدا‘ فوکو اور کیمو شامل ہیں۔

بعض فلسفی نیٹشے کو فردا کا فلسفی اور ان کی کتاب THUS SPOKE ZARATHUSTRAکو انیسویں صدی کی سب سے اہم کتاب سمجھتے ہیں۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 294 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “کیا آپ فریڈرک نیٹشے کی دانائی اور دیوانگی سے واقف ہیں؟

  • 19/01/2020 at 6:32 pm
    Permalink

    Sir plz send your email address I have something to discuss thxx sir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *