برفانی طوفان میں حکومت نااہل اور مسلم باغ کے باشندے ہیرو ثابت ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم منظم معاشرے کا حصہ ہیں جس میں ایک نظام کے تحت ملکی معاملات چلائے جاتے ہیں اور نظام حکومت چلانے کے لیے ہرشہری اپنے حصے کاٹیکس ادا کرکے ریاست کی مدد کرتا ہے یوں ایک طریقہ کار کے مطابق ہمارے ٹیکس کی رقم ریاست کے پاس جمع ہوتی ہے اور اس سے ملکی نظام چلانے کے لئے جمہوری طریقہ کار اپناتے ہوئے عام آدمی بذریعہ ووٹ اپنے نمائندوں کو منتخب کرتا ہے اور انہیں عوامی نمائندگی کا اخیتار دیتا ہے۔ جب عوام کے ووٹ سے منتخب نمائندے حکومت بناتے ہیں اور ٹیکس سے چلنے والے اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں تو عوام کو یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ ان کے ٹیکس کے پیسوں کو ایمانداری اور ایک طریقہ کار کے مطابق تقسیم کرکے ان سے معاشرے کی مجموعی ضروریات یعنی روڈ ’زراعت‘ تعلیم ’صحت‘ انڈسٹریز اور خواتین کی فلاح و بہبود کو پورا کریں گے۔

قوم یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ ناگہانی قدرتی آفات کی صورت میں حکومت ان کی مدد کو ضرور پہنچے گی اور ان کی مشکلات میں کمی ہو گی۔ لیکن جس طرح کی صورتحال ہمیں بلوچستان میں حالیہ برف باری کے دوران دیکھنے کو ملی ہے اور نام نہاد بحالی کے کام پر جس طرح عوامی ٹیکس کا پیسہ ضائع کیا گیا اس نے صوبائی حکومت کی ناکام کارکردگی کو بے نقاب کردیا ہے ٹیکس ادا کرکے حکومت کا سہارا بننے والے عام شہری کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے حکومت نام کی کوئی شے نہیں ہے ہاں البتہ یہ دیکھا اور محسوس کیا گیا کہ کس طرح حکومتی عہدیدار اور افسران ریلیف کے کام میں دنیا کے مہنگے ترین کوٹ و دیگر قمیتی لباس زیب تن کیے ہوئے نظر آئے۔ جو ریلیف کا کام کم اور فیشن شو میں شرکت والے زیادہ لگ رہے تھے۔

کان مہترزئی میں روڈ برف باری کے بعد بند تھا جس کی بحالی میں ناکامی کا اظہار ڈی جی پی ڈی ایم اے بذریعہ ویڈیو میسج وزیراعلیٰ بلوچستان کو ارسال کرچکے تھے اس ویڈیو میں وہ اپنی ناکامی کا برملا اظہار کرتے ہوے دیارغیر میں محصور زندگی سے نا امید نوجوان کی صورت نظر آئے، جو بے بسی میں اپنے ملک کے حکمرانوں کو مدد کے لئے پکاررہا ہو۔

برف باری ہونے سے لے کر تادم تحریر حکومت کا وہ کردار نہیں رہا جو فعال معاشروں کی حکومتوں کا ہوتا ہے برف باری والے دن جب شام تک حکومت ریلیف کے کام میں مکمل طو رپر ناکام ہو ئی تو وہاں کے مقامی لوگوں نے محسوس کیا کہ مزید حکومت کے ٓآسرے پر لوگوں کو چھوڑاگیا تو خدشہ ہے کہ شدید سردی کے باعث لوگوں کی اموات واقع ہوسکتی ہیں تو مسلم باغ کے لوگوں نے متوقع انسانی المیے سے بچنے کے لیے مقامی مساجد میں اعلان کرانا شروع کردیا کہ حکومت بے بس ہوچکی ہے اگر ہم پھنسے ہوئے لوگوں کی مددکے لیے نہیں پہنچے تو قبائلی روایات میں ہم مجرم بن جائیں گے اس لئے جس گھر میں بھی نوجوان شخص موجود ہے اور جس کے پاس گاڑی یا دیگر ذرائع ہیں وہ پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کے لئے روانہ ہوں جس کے بعد مسلم باغ کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی مدد کے لئے پہنچی اور برف باری میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات جن میں سے کچھ کو مسلم باغ اور کچھ کو کچلاک پہنچایاگیا۔

اور لوگوں نے اپنے گھروں میں ان کی مہمان داری کی اور سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے 300 لوگوں کو کھانا فراہم کیا اورعلاقے کے دیگر لوگوں بھی اپنے گنجائش کے مطابق کھانافراہم کیا اوران کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا۔ یہاں نوجوان سلمان خان کی اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں محفوظ مقامات تک منتقل کرنا ذکر اگر نہ کیا جائے تو نا انصافی ہوگی۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں اگر حکومت کے حصے کا کام عوام نے کرنا ہے تو اربوں روپے سالانہ حکومتی خرچے پر چلنے والے حکومتی اداروں کی کیا ضرورت ہے بدقسمتی سے حکومت نے تمام اداروں میں پسند و ناپسند پر لوگ تعینات کیے ہیں جو منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے قابل نہیں ہیں

حکومت بے بس ڈی جی پی ڈی ایم اے سے ویڈیو میسج کے بعد اس بات کی وضاحت ضرور طلب کرتی کہ انہوں چارج سنھبالنے کے بعد بغیر کسی تحریری آرڈر کے پی ڈی ایم اے کی نئی گاڑیاں کن کن لوگوں کو دی ہیں۔ جن کا محکمہ سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے اور مہنگی ترین سینکڑوں گاڑیاں اس ریلیف میں کیوں نظر نہیں آئیں یہ گاڑیاں جو اس طرح کے مواقعوں کے لئے خریدی گئی تھیں انھیں وزیروں اور غیر متعلقہ افسران کو غیر قانونی طور پرکیوں دیا گیا۔ کیا کاغذات میں ریلیف کے نام پر خریدی گئی گاڑیاں افیسران کے بچوں کو سکول لانے لے جانے یا پھر اسلام آباد ’لاہور‘ کراچی میں بیگمات کی خدمت کے خاطر خریدی گئی تھیں؟ سوال تو بنتا ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ بجائے حکومت اس واقعہ کے بعد شرمندگی کا احساس کرتی اور عوام سے معافی طلب کرتی کہ آئندہ وہ اس طرح کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے کا اعلان کرتی ہے تاکہ ہم دوبارہ اس طرح ناکام نہ ہوں لیکن حیران کن طور پر وزیراعلیٰ ریلیف میں اپنے ناکام ماتحتوں کو مبارکباد اور ناکام ماتحت اپنے ناکام وزیراعلیٰ کو مبارکباد دیتے ہوئے نظر آئے اس سے برملا ناکامی اور کیا ہوسکتی ہے کہ حکومت کے متعلقہ ادارے خود ناکامی تسلیم کرچکے ہیں

جس طرح عوام برفباری میں پھنسے رہے اور علاقے کے عام اور خاص لوگ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کو پہنچے اور ان کو گھروں پر کھانا فراہم کیا وہ یقینا قابل ستائش ہے انھوں نے اپنے آباء و اجداد کی روایات کو زندہ رکھا اور ان کی روحوں کو تسکین فراہم کی۔ لیکن عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اس ناکامی میں وزیراعلیٰ ِ، پی ڈی ایم اے، ڈپٹی کمشنرقلعہ سیف اللہ یا ڈپٹی کمشنر پشین سب قصور وار ہیں اگر کوئی تحصیلدار یا ایس ایچ او اپنے فرائض منصبی میں ناکام ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ظلم تو یہ ہے کہ تاحال کوئی امدادی اشیاء تقسیم بھی نہیں کی گئی۔

جبکہ دعوے بہت کیے گئے اب دیکھتے ہیں اس قدرتی آفت کی آڑ میں سرکاری خزانے کو کتنے کا ٹیکہ لگتا ہے۔ عوام یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ انکوائری کرائی جائے تاکہ پتہ چل سکے ریلیف کی گاڑیاں کہاں اور کس کے استعمال میں ہیں۔ اور کس کی اجازت اور کس قانون کے تحت دی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشنز کی ڈبل ڈور گاڑیاں اس دن کہاں تھیں۔ کیا حکومت کی ناکامی نے عوام کو یہ پیغام نہیں دیا کہ اس طرح کے مستقبل میں ہونے والے واقعات میں چمن کوژک ٹاپ سے لے کر لک پاس اورکان مہترزئی تک کے لوگ حکومت کی طرف نہ دیکھیں اور اپنی آرگنائزیشن تشکیل دے کر لوگوں کو مصیبت سے نکالیں اور راستے کھولنے کی کوشش کریں۔

برف باری کیا ہوئی عوام کے سامنے حکومت بلوچستان کی نالائقی کا پول کھل گیا۔ صوبے کی تاریخ کے ناکام ترین ریسکیو آپریشن کے کام کی سوشل میڈیا پر زور شور سے دوسری تصویر دکھائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے روڈز کو سوشل میڈیا پر صاف کیا جا رہا ہے۔ کھانا دیا جا رہا ہے اور ہر وہ اقدام سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے جس کی عام ضرورت جائے وقوع یا موقع پر ہوتی ہے نظام کو دھکا دینے کا ذمہ دار ضلع کا سربراہ ڈپٹی کمشنرزنظام کو دھکا دینے کے بجائے گاڑیوں کو دھکا دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کہ اپنا مذاق بنانے کے ساتھ ساتھ نظام کا مذاق بھی بنا رہے ہیں۔

جس ناکام حکومتی نظام کو دھکا دینے کی ضرورت ہے ان کو تو یہ ڈپٹی کمشنر صاحبان دکھا دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئے لیکن ڈپٹی کمشنر قعلہ عبداللہ میجر ریٹائرڈ بشیر کی تعریف نا کرنا زیادتی ہو گی جنہوں نے اگرچہ خود تو کسی گاڑی کو کوئی دھکا نہیں دیا، اور نہ ہی سوشل میڈیا پر نمودار ہوئے لیکن کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ کو کوزک کے مقام پر پہاڑوں کے درمیان تقریبا پندرہ کلومیٹر سڑک کو ضلع میں دستیاب وسائل سے دو طرفہ ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کروادیا۔ جبکہ مجھے کان مہترزئی سے متعدد کالز تادم تحریر موصول ہو رہی ہیں کہ برف باری میں پھنسے ہوئے لوگ بچوں کے ساتھ بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *