ہمارا جھنڈا تابوتوں پر لپیٹنے کے لئے نہیں


\"ramish1\"وزیر داخلہ چوہدری نثار فرماتے ہیں کہ بہت فرق پڑا ہے، پہلے روز دھماکے ہوتے تھے اب دو تین ماہ بعد ہوتے ہیں۔ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں گے تو آئیے ہم بھی ہاتھ اٹھاتے ہیں مگر کیا کریں اب حرفِ دعا یاد نہیں۔ اب سامبا کہنا چاہتا ہے کہ تین آدمی تھے اور کیا کچھ کر گئے۔ دعائے مغفرت ، شدید مذمت اور حرفِ تسلی کے سوا کیا ہے جو آپ کہہ سکیں؟ ہم تو بہت کچھ سننا چاہتے ہیں مگر آپ لوگ کچھ ایسا کہہ سکتے ہیں جو نیا ہو ہمارے لیے؟رات گئے آئی جی ایف سی نے فرمایا کہ لشکرِ جھنگوی العالمی کی کارروائی ہے۔ اب اگر سارے شواہد مل گئے ہیں تو کرنے والے کام بھی کر لیں۔

آپ کسی کو پالنا چاہتے ہیں تو پالتے ہیں، روکنے والے تب بھی روکتے ہیں مگر ان کی کون سنتا ہے۔ اپنے پالے ہوئے ایک روز ہمیں ہی مارتے ہیں اب آپ انہیں روکنا چاہتے ہیں مگر وہ نہیں رکتے۔ ہم اس ملک کے اداروں کی کارکردگی پہ سوال اٹھاتے ہیں تو صحافتِ اسلامیہ کے دانش فروشانِ ملت ہمیں غدار کہتے ہیں۔ ہمیں غدار کہلائے جانے پر اعتراض نہیں۔ سو بار کہیں کیونکہ سوال تو ہم یونہی پوچھتے رہیں گے۔ کوئی بچہ بہت روتا ہو یا شرارتی ہو تو لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ اس کا نام بدل ڈالیں۔ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ بس بالکل ایسے ہی کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر اپنا کام کر رہی ہیں۔ کشمیر، مذہب، تزویراتی گہرائی کسی نہ کسی کی آڑ لئے یہ بھی اپنا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی سرپرستی بھی کسی نہ کسی طریقے سے جاری ہے۔ پاکستان کے دفاع کے نام پر ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والا کام کوئی کر رہا ہے تو یہی لوگ کر رہے ہیں۔

آخر لوگ کب تک لاشیں اٹھائیں؟ کب تک مغفرت اور شہادت کی تسلی سے اپنا جی بہلائیں؟ ہمارے بچے زندہ رہ کر اس ملک کی خدمت کیوں نہیں کر سکتے؟ حالتِ جنگ ہے تو حالتِ جنگ اور ہائی الرٹ کی سیکیورٹی ایسی ہی ہوتی ہے جیسی کل تھی؟ کوئٹہ ایک بار پھر نشانے پر۔۔۔ سنتے سنتے ہم تھک گئے ہیں۔اب ان تھکے ہوئے درد کے ماروں کو مذمت نہیں چاہیئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے کہ اچھے یا برے جیسے بھی ہیں یہ ہمارے ہی لوگ ہیں جو ہمیں ہی مار رہے ہیں۔ مار نہیں پیار۔۔۔ یہ سلوگن اسکول کے بچوں کے لئے تھا۔ ایسے لوگوں کے لئے نہیں جو بندوق اٹھائے ایک طرف ہو گئے ہیں۔ اب یہ بندوق چاہے ہمیں مارے یا سامنے والے کو مارے، ہمیں بلاتفریق اس بندوق والے کا محاسبہ کرنا ہی ہو گا۔

Facebook Comments HS