دہشت گردی کی بجائے جمہوریت کی تلاشی لینے والے


پاکستان کا کرپشن کی عالمی فہرست میں 37واں نمبر ہے جبکہ گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق دہشت گردی میں 11واں نمبر ہے ۔ اور پھر بھی \"usmanہمارے یہاں دہشت گردی سے نمٹنے سے بڑا مسئلہ کرپشن کاخاتمہ بنا دیا گیا ہے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ دہشت گردوں کے حامی دہشت گردی کے مسئلے کی سنگینی کوچھپانے کے لیے قوم کو کرپشن کے معاملے میں الجھائے رکھتے ہوں۔

عالمی فہرست کے مطابق پاکستان سے زیادہ کرپشن روس، لبنان،ایران، نیپال ، یوکرائن اوربنگلہ دیش میں ہےاوران ممالک کے لیے کرپشن سنگین مسئلہ ہو بھی سکتی ہےکیونکہ یہ پاکستان سے کہیں زیادہ پرامن ہیں ۔

مگر ہمارے لیے صرف اورصرف مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی مسئلہ ہے کیونکہ جان بچے گی توآگے ترقی بھی کرلیں گے۔ المیہ ہے کہ عالمی فہرست کے مطابق اسرائیل، فلسطین اور بھارت جیسے ملکوں میں پاکستان سے زیادہ امن ہے، گینگ وار میں سرفہرست میکسکو میں کم دہشت گردی ہے اورپاکستان میں زیادہ مگر پھر بھی ہمارے یہاں دہشت گردی سے نمٹنا مسائل کی فہرست میں شاید پہلے نمبر پر نہیں ۔

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے سگریٹ نوشی کے ڈبے پر خبردار دھواں مضرصحت ہے کی وارننگ لکھی ہوتی ہے، ہماری قومی سطح کے رہنما دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکی جنگ قراردیتے ہیں جبکہ گلی گلی ہمارے جوان مارے جارہے ہیں

ہمارے وزیرداخلہ فورتھ شیڈول والے مذہبی انتہاپسندوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے اجلاس پہ اجلاس کر رہے ہیں ، ملک بھرمیں ابوقتال\"chaudhry-nisar\"اور ابومثال کی غائبانہ نماز جنازہ ہو رہی ہیں، کالعدم تنظیمیں ریلیاں نکال رہی ہیں ، لال مسجد میں مولانا عبدالعزیز دھرنے میں جانے کے فضائل بیان کررہے ہیں اور ہمیں سیاست دانوں کو گالیاں دینے میں الجھا دیا گیا ہے، سوال پر تعزیریں ہیں کہ اس سے مورال ڈاؤن ہوتا ہے

پاکستانیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پانامہ سے بڑاایشو انتہا پسندی ہے، نوازشریف اورآصف زرداری کی دولت سے زیادہ بڑامسئلہ ان 60 ہزار لوگوں کی شہادت ہے، جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے

جب بھی انتہاپسندی اوردہشت گردی کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے، کرپشن کا شورمچ جاتا ہے

اور یہ کرپشن کا شور بھی کافی مشکوک ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جن سیاسی ادوارکو پاکستان کےنسبتاً شفاف ادوار سے تعبیرکرتا ہے، وہ پاکستانیوں کو کرپٹ ترین ادوارکے طورپر گنوائے جاتے ہیں جس کی ایک مثال گزشتہ دورحکومت بھی ہے،1996 میں جس جمہوری حکومت کو برطرف کیا گیا، وہ بھی ٹرانسپرنسی کی عالمی فہرست میں پاکستان کی شفاف ترین جمہوری حکومت کہلائی جاتی ہے

پاکستانی دنیا کی وہ انوکھی قوم بن چکے ہیں جو اپنے 150 بچے ذبح کرانے کےبعد بھی مذہبی انتہاپسندی کو سیرئس نہیں لیتے، ان کے نزدیک سارے مسائل کی جڑ جمہوری حکومت ہے۔

آج کوئٹہ میں قوم کے 61 بیٹوں کو موت کی نیند سلادیا گیاہے، یہ وہ پنچھی تھے، جوابھی اڑنا سیکھ رہے تھے ۔۔۔مگر خبردار جو مذہبی \"imran-khan-9\"انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کا نام بھی لیا۔ کیونکہ کرپشن کے خلاف جدوجہد میں سنی اتحاد کونسل (سنی تحریک)، شہدافاؤنڈیشن (لال مسجد)، جماعۃ الدعوۃ (حافظ سعید)، جامعہ اکوڑہ خٹک (مولانا سمیع الحق)، پاکستان عوامی تحریک (طاہرالقادری) اور جماعت اسلامی۔۔۔۔اس کے باوجود کہ سپریم کورٹ کے نوٹس سے وزیراعظم کے احتساب کے سلسلے کا آغاز ہو کر تلاشی کا مطالبہ پورا ہو چکا ہے۔۔۔۔ تحریک انصاف کے ساتھ جہاد کے لیے تیار ہیں

کوئٹہ کے شہیدو!!

ہم شرمندہ ہیں، ابھی ہمارے پاس تمہارے خون کا حساب چکانے کا وقت نہیں، پہلے ہم تلاشی لیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف دھرنا بعد میں دیں گے۔

Facebook Comments HS