لیڈی ڈیانا کے بعد شاہی خاندان میں ایک اور بغاوت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آنجہانی لیڈی ڈیانا کا بیٹا شہزادہ ہیری جس طرح اپنی بیوی میگھن مارکل کے ساتھ شاہی محل سے فرار ہوا اس نے پوری دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔ گھر سے فرار اور وہ بھی بیوی کے ساتھ ایسا تو جھونپڑیوں میں بھی شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ملکہ نے پوتے کے اس اقدام کا برا منایا ۔ بہت غصے میں آئیں پورے شاہی خاندان کا اجلاس طلب کر لیا لیکن بالآخر اپنے پوتے کو معاف کر دیا اور اسے آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کی اجازت دیدی۔ کیونکہ باغی شہزادے کی رگوں میں اس کا اپنا خون دوڑ رہا ہے کسی بھگت سنگھ کا نہیں۔

شہزادے کی رگوں میں صرف شہزادہ چارلس کا ہی نہیں اپنی ماں لیڈی ڈیانا کا خون بھی تو دوڑ رہا ہے۔ لیڈی ڈیانا کو ملکہ نے شاید بہو تسلیم ہی نہیں کیا تھا اور وہ فرسٹریشن میں چلی گئی تھیں۔ شہزادہ ہیری اپنی والدہ کی موت کو حادثہ نہیں ممکن ہے قتل سمجھتا ہو۔ ممکن ہے کہ شہزادہ آداب شاہی سے تنگ آ گیا ہو۔ رہی میگھن مارکل کے بارے میں تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس نے جتنا عرصہ بھی شاہی محل میں گزارا وہ خود کو اس دوران ایک بے بس قیدی ہی تصور کرتی ہوگی۔ آزاد پنچھی کو سونے کے پنجرے میں بھی بند کرکے آپ کہیں رکھ لیں وہ قیدی ہی ہوتا ہے۔

جیلوں میں قیدیوں کو آپ کتنی بھی سہولتیں دے دیں وہ نواز شریف کی طرح فرار کی تدبیریں ڈھونڈتے ہی رہتے ہیں۔ میگھن ٹاپ امریکن ایکٹرس تھی۔ ہالی وڈ کے بہت زیادہ چمکنے والے ستاروں کی لا محدود آزادیاں اور طرز زندگی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ آزاد منش زندگی بسر کرنا ان کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔ شاہی محلات کے چراغ ہمیشہ مدھم مدھم جلتے ہیں ۔ نگار خانوں کی چکا چوند روشنیوں میں رہنے والے مدھم روشنی میں بھلا کیسے زندہ رہ سکتے ہیں ؟

میگھن کو ہر رات ہالی وڈ سے واپسی کے لئے صدائیں سنائی دیتی ہوں گی۔ محلات تو خود بادشاہوں اور ملکاؤں کے لئے قید خانے ہوتے ہیں۔ ہیری کے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کی بیوی سارہ فرگوسن بھی انہی حالات کا شکار ہو چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کی معاشرت اور ہے اور بادشاہت اور۔ دونوں تضادات کا شکار اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس طرح شاہی خاندان کے مردوں کی ”غیر خاندانی“ لڑکیوں سے شادیوں پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

لیڈی ڈیانا بھی پابند شاہی زندگی سے بیزار تھیں۔ ان کے ڈاکٹر حسنات سمیت کئی اسکینڈل سامنے لائے گئے۔ اچھالے گئے۔ شہزادہ ہیری اپنی ماں کی ”حادثاتی موت“ کا ذمہ دار میڈیا کو بھی ٹھہراتا ہے جس نے ڈیانا کی زندگی کو کھلونا بنا کر رکھ دیا تھا۔ اسی لئے ڈیانا اپنے نام کے ساتھ پرنسز کی بجائے لیڈی کا لا حقہ لگانا زیادہ پسند کرتی تھیں۔ ان کا امیج اس طرح بگاڑا گیا کہ انہوں نے اپنی زندگی پوری دنیا میں فلاحی کاموں کے لئے وقف کردی۔

وہ مذہب اسلام کی جانب بھی راغب ہونے لگی تھیں۔ انہوں نے مطالعہ اسلام بھی شروع کر دیا تھا۔ شاہی خاندان کی حاکمیت لیڈی ڈیانا کی ایک ایک سرگرمی پر نگاہ رکھے ہوئے تھی۔ برطانوی میڈیا نے ہی انکشاف کیا تھا کہ لیڈی ڈیانا مسلمان ہو کر پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ یہ اطلاع شاہی خاندان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ یہ بھی برطانوی میڈیا کی ہی تحقیق تھی کہ لیڈی ڈیانا کی موت حادثاتی نہیں تھی انہیں ایک سوچی سمجھی منصوبہ سازی کے تحت ”ٹھکانے“ لگایا گیا۔

شہزادہ ہیری کی میگھن سے شادی اور پھر شاہی خاندان سے بغاوت اسی پس منظر کا رد عمل ہے۔ شاہی خاندان اور شاہی محل کی ”قید“ سے آزادی کی تمنا ماضی میں بھی سر اٹھاتی رہی ہے۔ ملکہ کی بیٹی شہزادی این نے بھی شاہی اصطبل کے نگران سے محبت کی پینگیں بڑھائی تھیں اور بالآخر اس کو اپنا شریک حیات بنا لیا تھا۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ جرآت مندانہ اقدام کنگ ایڈورڈ ہشتم کا خیال کیا جاتا ہے جنہوں نے تخت شاہی کو ٹھوکر مار کر امریکن ایکٹریس کیلی گراس سے شادی کر لی تھی۔

شہزادہ ہیری کے والد چارلس نے بھی لیڈی ڈیانا کی موت کے بعد اپنی گرل فرینڈ سے شادی کی جس کا شاہی خاندان سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس ضمن میں ایک پیش گوئی میں ضرور کرنا چاہوں گا کہ شاہی خاندان کے تازہ ترن باغی شہزادہ ہیری کی میگھن مارکل سے شادی زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گی۔ میگھن کسی دن اچانک اسے خود چھوڑ دے گی۔ شہزادے نے اپنی ایکٹرس بیوی کو ہالی وڈ میں دوبارہ ”ان“ کرانے کے لئے ان پروڈیوسروں سے بھی معافیاں مانگی ہیں جنہیں میگھن کی شادی کے باعث مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

ہیری نے ہاتھ پاؤں جوڑ کر میگھن کو ایک کنٹریکٹ بھی دلوایا ہے۔ شہزادوں کے محبوباؤں کے لئے معافیاں مانگنے کی تاریخ موجود نہیں ہے۔ معافی مانگنے کے بعد شہزادگی رخصت ہوجاتی ہے۔ جب ہیری کے اندر شہزادگی ہی مر جائے گی تو وہ میگھن کے لئے بے وقعت ہوجائے گا۔ ایکٹرسیں اپنی ذات میں محلاتی سازشوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ وہ شوہروں کا وسیلا کبھی استعمال نہیں کیا کرتیں۔ وہ شوہروں سے صرف اپنے سامنے ہاتھ جڑواتی ہیں۔ دوسروں کے سامنے ہاتھ جوڑنے والے شوہروں کو وہ ہمیشہ لات مار دیا کرتی ہیں۔ ملکہ ایک دن شہزادہ ہیری کو واپس محل میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ سکتی ہیں۔ ہیری کے لئے ہالی وڈ میں زندہ رہنے کا ایک راستہ اور بھی ہے کہ کوئی پروڈیوسر خود انہیں ایکٹر کے طور پر سائن کرکے اس کی محبت پر فلم بنانے کا منصوبہ بنا لے۔

اب جمائمہ گولڈ اسمتھ نے بھی ہیری اور میگھن کے شاہی محل سے فرار پر تبصرہ کر ڈالا ہے مگر ان کا تبصرہ لا یعنی ہے۔ کیونکہ انہوں نے تیسری دنیا کے ایک پسماندہ ملک کے ہیرو سے شادی کی تھی۔ اگر وہ کسی ترقی یافتہ مغربی ملک کے ہیرو کے دیس میں بیاہی جاتیں تو انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کے طعنے نہ ملتے۔ تیسری دنیا کے عوام کا المیہ یہ ہے کہ انہیں یہ تو پتہ ہے کہ وہ غیر ملکی قرضوں اور امداد پر پل رہے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ قرضے اور امداد دینے والے ہاتھ بھی یہودیوں کے ہی ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بھی لا علم ہوتے ہیں کہ ان کی اپنی معیشت کن ہاتھوں میں گروی پڑی ہوئی ہے۔ ہمارے حکمران طبقات نے بہت کھلواڑ کر لیا عوام کے ساتھ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں ان کے اصل حکمرانوں کی ذات پات اور مذہب سے بھی آگاہ کر دیا جائے۔

۔۔۔۔۔ شہزادہ ہیری کے میگھن کے ساتھ در بدر ہونے کے واقعہ سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا شادی کے بعد بھی محبوبہ سے پہلی والی محبت زندہ رہتی ہے؟ تو جناب اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ بیوی میگھن مارکل جیسی ہو تو محبت کبھی نہیں مرتی۔۔

پاکستان میں آٹے کی مہنگائی سے چاروں طرف شور مچ گیا ہے۔ مہنگی روٹی کا مطلب کیا ہے؟ اس کا جواب ہم جیسے لوگ آسانی سے نہیں دے سکتے۔ جس طرح ایوب خان کے زمانے میں چینی کی قیمت چار آنے بڑھی تھی تو حبیب جالب نے نظم لکھ ڈالی تھی اسی طرح آٹا مہنگا ہونے پر پنجابی کے ممتاز شاعر بابا نجمی نے بھی نظم رقم کی ہے۔

بابا نجمی کے ساتھ المیہ ہی ہو رہا ہے کہ کوئی اخبار ان کی اس شاعری کو چھاپنے پر آمادہ نہیں ہو رہا۔ وجہ یہ بیان کر دی جاتی ہے کہ نظم وزیر اعظم کے خلاف ہے۔ آٹے کی مہنگائی پر بابا نجمی کی نظم کا لب لباب یہ ہے کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء ان کے گھر سے نکل گئی ہیں۔ میں نے بابا نجمی کو مشورہ دیا ہے کہ آپ مہنگائی کی ذمہ داری حکمرانوں کی بجائے آئی ایم ایف پر ڈال دیں نظم چھپ جائے گی۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *