نصاب اور ٹی وی بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی پچھلے ہفتے ہی کی بات ہے۔ ہم ایک کرم فرما کی ضیافت میں تھے۔ موصوف کا بڑا بیٹا او لیول سے نکل کر اسکالرشپ کے لیے اپنے پر تول رہا تھا۔ نصاب کے ساتھ بچے کو لبرٹی سے کتب لا لا کر پڑھنے کی خاصی لت لگی ہوئی تھی۔ یہ جدا بات ہے کہ اس کا باپ اس بات سے خاصہ پریشان دکھائی دیتا تھا۔ ہم ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔ نیٹفلیکس پر ہالی ووڈ کی مووی 300 چل رہی تھی۔ ہم ٹی وی کم اپنی باتوں میں زیادہ لگے ہوئے تھے۔ بات سے بات اور اس بات سے پھر کوئی بات نکلتے تاریخ پر باتیں نکل گئی۔ اچانک بچے نے پوچھا: ”انکل آپ لوگوں نے اسٹینلے وولپرٹ کی کتاب“ جناح آف پاکستان ”پڑھی ہے؟ “

یہ سوال بظاہر تو عام سا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں میرے سینے میں جیسے بکسوئا سا چبھتا گیا۔ میں ہاں کہ کر جیسے آنکھیں چرانے لگا۔ لیکن بچہ ضدی نکلا، مزید پوچھنے لگا کہ انکل کیا وولپرٹ صاحب نے سب کچھ صحیح صحیح لکھا ہے؟

اب سوائے ہتھیار ڈالنے کے میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ اور جواب دیا: ”دیکھیں بچہ؛ وولپرٹ صاحب کے لیے کہا جاتا ہے کہ انڈو پاک سیاست کی تاریخ رقم کرنے میں اتھارٹی ہے۔ اس نے صرف یہی کتاب نہیں، بلکہ نہرو، گاندھی اور اس وقت کی سیاسی اتھل پتھل پر جو کچھ لکھا ہے اسے ہم جھٹلا نہیں سکتے۔ جب ہم اس کی اور کتب کے لیے کہیں کہ وہ ٹھیک لکھی گئیں تب صرف جناح صاحب پر لکھی ہوئی کتاب کے لیے کیوں کہیں کہ درست نہیں لکھی گئی! “ اور پھر وہ وہ باتیں اس بچے نے کی کہ انہیں یہاں لکھنے کے لیے میرے پاس وہ پر نہیں جو جلنے سے محفوظ ہو سکیں۔

پھر پرسوں کی بات ہے جب کراچی کے ایک متوسط ایریا میں گاڑی میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے رکا۔ پمپ کے دوسرے طرف ایک رکشہ جس میں دو طالبات سفید یونیفارم میں بالکل پریوں جیسی لگ رہی تھیں انہیں اور بقیہ ماحول پر نظریں دوڑاتا پمپ کے میٹر کی طرف دیکھا تو لاشعور میں ایک اپیل جاگ اٹھی۔ کچھ تھا ان لڑکیوں میں کہ میرا اضطراب بڑھ رہا تھا اور میں نے انہیں دوبارہ دیکھا۔ ان میں ایک بچی کے ہاتھ میں جون ایلیا کی کتاب ”شاید“ تھا۔ اوہ خدایا! میرے اندر سے جیسے چیخ نکل گئی، میں اس بچی کی ذہنی اڑان کا سوچ کر ہی کانپ کر رہ گیا۔

یہ بھی کل ہی کی بات ہے جب آفس میں ایک لڑکی اپنی سی وی دینے آئی کہ اگر آنے والے وقت میں میری مہارت سا کوئی کام نکل آئے تو پلیز مجھے بلا لیجئیے گا۔ اس بچی کے نچلے ہونٹ کے نیچے پتلا سا کوکا چمک رہا تھا ظاہر ہے اس نے اپنا ہونٹ کشیدہ کر رکھا تھا۔ میں نے پوچھا: ”بیٹا! آپ ٹوئرزم میں ولاگنگ اور ای کامرس پروموشنل حکمت عملی میں کتنی مہارت رکھتی ہیں؟ “

ایک پل انتظار کیے بغیر اس بچی نے جواب دیا: ”پہلی بات تو سر میں آپ کا بیٹا یا بیٹی نہیں، دوسری بات یہ کہ میں مکمل خودمختار ہوں، تیسری بات یہ کہ آپ میرا نام گوگل کریں آپ کو خود ہی اندازہ ہوجائے گا اور پھر اس نے ای میل میں پروموشنل حکمت عملی کے بارے میں اپنا بزنس پلان بھیجنے کا وعدہ کر کے رخصت ہوگئی۔

مندرجہ بالا کردار صرف مجھے ہی نہیں، آپ ادھر ادھر دیکھیں گے تو لاکھوں کی تعداد میں آپ کو بھی ہر جگہ مل جائیں گے۔ یہ ہماری طرح ایکس جنریشن میں پیدا نہیں ہوئے ہیں جو شناختی بحران اور عدم تحفظ کے نفسیاتی مریض ہیں لیکن یہ میلینیئل جنریشن کے بچے ہیں جنہیں ہم اپنے ترازو سے تولنے کے بجائے دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہ ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ انہیں الیکٹرونک گیجیٹس ہم سے ہزار گنا بہتر چلانے آتے ہیں۔ انہیں ایک پل میں برٹش لائبریری کیا دنیا جہاں کی لائبریریوں تک رسائی کوئی مسئلہ نہیں۔

یہ بچے وکیپیڈیا دور کے ہیں۔ یہ پوری انسانی تاریخ کے تمام جھوٹ اور سچ کو اگر جاننا چاہیں تو ہم سے بہتر طریقے سے بغیر کسی نرگسیت یا تہذیبی تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف کے جان سکتے ہیں۔

پوسٹ ماڈرنزم کے ہزار نقصان ایک طرف لیکن اس منہ جلے دور کی سب سے بڑی پیداوار ہے جانکاری کا نجی ہونا ایسی نجیت کہ کوئی بھی کہیں بھی کچھ بھی وافر مقدار میں جان سکتا ہے۔

ٹھیک ایسے دور میں اب ہم اپنے تدریسی نصاب پر ذرا غور کر کے دیکھیں تو اپنے آپ سے ہی گھن آتی ہے۔ جس میں پوری دنیا کے دھتکارے ہوئے، قبضہ اور دھن دولت کے رسیا غاصبوں کو ہم کس طرح اپنے ہیروز بنا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ نصاب میں سائنس، دلائل اور سماجیاتی علوم میں بھی تہذیبی نرگسیت جھانکتی ہوئی ملتی ہے اور ہم سب اس خوش فہمی میں ہیں کہ یہ نونہال بچے انہیں پڑھ کر جیسے آمنا صدقنا کردیں گے!

چوبیس گھنٹے ”صوتی آلودگی“ سے بھرپور میڈیائی چینل تو دیکھیں! جن پر دو ٹکے کے لوگ، جنہیں نہ تاریخ کا پتہ نہ فلسفے کا ابجد، جنہیں انسانی رویوں کی کوئی سوجھ نہ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فکر، ایسے بےڈھنگے لوگ کیا کیا ہذیانی باتیں انڈیلتے نظر آئیں گے کہ ایسا لگتا ہے جیسے کرہ ارض پر اگر کوئی انسانی آبادی ہے تو وہ صرف ہم ہی ہیں۔

یہ سب اودھم مچاتے ڈرامے، فکشن سے بھرپور نصاب ہماری یہ پیڑھی پڑھ بھی رہی تو دیکھ بھی رہی جو پھر ڈجیٹل رسائی کی وجہ سے حقائق تک جلدی پہنچ بھی رہی تو اپنے اندر سینکڑوں سوال تھامے اپنا راستہ خود ہی نکال رہی۔ اب بہت دیر نہیں لگے گی، جب یہ پیڑھی اپنی منزل خود ہی طے کرے گی۔ خود ہی پہنچ جائے گی۔ یہ ہم یا آپ سے پوچھنے کی زحمت کرنے والی پیڑھی نہیں کیونکہ یہ اپنے اندر ہمارے لیے جو تصور بنا کر بیٹھی ہے کیا یہ سب یہاں کوئی نہیں جانتا؟

ہے کوئی ایسا مستقبل دان جو اس بات کی طرف دھیان دے ہم اپنی آنے والی پیڑھی کے لیے دے کیا رہے ہیں۔ تدریسی نصاب؟ جو اتنا باسی اور سامراجی ہوگیا ہے کہ اس میں سچ بھی دال میں کالا لگ رہا ہے۔ الیکٹرونک میڈیا؟ جو اس نہج پر پہنچ گئی ہے جس کے لیے بقول میر صاحب: ”فلاں کے لچھن سب جانتے ہیں لیکن کہتا کوئی نہیں کیونکہ یہ فلاں صاحب کی لونڈی جو ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *