برفانی رات کا ہیرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوجوان کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین کے تحصیل بوستان کے چھوٹے سے گاؤں کلی قاسم سے ہے۔ وہ گاڑیوں اور کرومائیٹ کے بزنس سے وابستہ ہے۔ اس لئے کوئٹہ مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ وغیرہ کے علاقوں میں اس کا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن تیرہ جنوری کو شدید برف باری نے اسے اپنے ہی گھر میں قید رکھا اور یہی ”قید“ ڈیڑھ سو کے قریب لوگوں کے لئے رحمت اور زندگی کی ضمانت بنی۔

اس دن برف باری اتنی شدید تھی کہ چند فٹ تک دیکھنا بھی محال تھا سنٹی گریڈ بھی تیزی کے ساتھ گرنے لگا حتٰی کہ وہ مائنس میں بھی کافی نیچے چلا گیا۔

بازار اور راستے مکمل طور پر ویران ہوگئے تھے اور مقامی لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود ہو گئے تھے۔

تیس سالہ نوجوان سلیمان خان بھی آگ اور لحاف کا لطف اُٹھاتا اپنے گھر میں برف باری سے پناہ لئے ہوئے تھا کہ ایک دوست نے اطلاع دی کہ کوئٹہ ژوب شاہراہ پر کچلاک کے قریب قدرے پہاڑی علاقے میں بہت سے مسافر پھنس گئے ہیں اور شدید برف باری اور رات موت کے سندیسے لئے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

یہ سن کر سلیمان خان موسم کی شدت اور نتائج سے بے پرواہ تیزی کے ساتھ اپنی طاقتور جیپ کی طرف بھاگا کیونکہ اس کا ٹریک ریکارڈ ہی انسان دوستی اور دوسروں کی مدد سے بھرپور ہے (آگے اس کا مختصر ذکر کروں گا)

سلیمان خان کے ساتھ اس کا چھوٹا بھائی نعمان خان بھی تھا جس کی عمر صرف سترہ سال ہے۔

گاڑی گھر سے نکلی تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا حالانکہ یہ دن کے دو بجے تھے لیکن برف باری بہت شدید تھی مگر مقامی باشندہ ہونے کے سبب یہ سہولت اسے حاصل تھی کہ وہ اندازے کی بنیاد پر مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

اور فوری طور پر اکیلے ڈیڑھ سو کے قریب مسافروں کو ریسکیو کرنے کا آپریشن شروع کیا۔

سب سے پہلے اس نے خواتین اور بچوں کو نکالا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر نیچے لانا شروع کیا رات ایک بجے تک وہ تمام خواتین، بچوں اور مریضوں کو نکال کر اپنے ذاتی گھر لا چکا تھا جہاں اس کے گھر کی خواتین ان کے لئے کھانے بناتی اور بستر لگاتی رہیں۔

سلیمان خان پھیرا پہنچا دیتا تو اپنے ساتھ کھانا اور کمبلیں بھی لے جاتا تاکہ برف میں پھنسے مسافر بھوک اور ٹھنڈ سے بچے رہیں۔

اس طوفاں خیز برفانی رات میں اکیلا سلیمان خان مسلسل موت پر جھپٹتا اور مسافروں کو اس کے پنجوں سے زندگی کی طرف کھینچتا رہا جبکہ جام کمال خان کی بلوچستان حکومت بمع مقامی انتظامیہ اوراین ڈی ایم اے گرم رضائیوں میں خراٹے لیتے رہے جبکہ وزیراعظم صاحب حسب معمول واقعے سے مکمل طور پر لا تعلق اور بے خبر تھے حالانکہ میڈیا معاملے کی نزاکت کو مسلسل نشر کرتا رہا۔

لیکن دفع کریں سیاست اور سیاسی دغابازوں کو اور بات کرتے ہیں ڈیڑھ سو زندگیوں کو بچانے والے حقیقی ہیرو سلیمان خان اور اس کی عظیم قربانی کی۔

رات ایک بجے تک تمام خواتین اور بچوں اور دل کے عارضے میں مبتلا تین افراد سمیت تمام مریضوں کو جب وہ ریسکیو کر چکا تو صحت مند مسافروں کے ساتھ ساتھ ان کی گاڑیاں بھی نکالنے لگا۔

صبح آٹھ بجے (یعنی کل سولہ گھنٹے )

جب سلیمان خان تن تنہا بخیر و خوبی یہ انتہائی مشکل آپریشن مکمل کرچکا تو جام آف لسبیلہ کے پوتے جام کمال خان کی حکومت جاگ گئی اور سلیمان خان کو چیف منسٹر ہاؤس بھلا کر شاباش دی۔

اللہ اللہ خیر سلا۔

میں نے کہا نا کہ آج بات صرف ایک حقیقی ہیرو سلیمان خان کے حوالے سے کریں گے۔

اس لئے اس طرف پلٹتے ہیں۔

سلیمان خان میں انسان دوستی کا جذبہ ہمیشہ سے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس لئے کچھ دن پہلے دوران سفر اسے کسی نے اطلاع دی کہ برف باری کے وجہ سے گوال خانوزئی کے مقام پر چالیس مزدور ( کان کن ) پھنس گئے ہیں اور ان کی زندگی شدید خطرے سے دوچار ہے۔

سلیمان خان نے فورًا گاڑی موڑ دی اور بہت مشکل سے مطلوبہ مقام پر پہنچا اور تمام مزدوروں کو بحفاظت ریسکیو کرنے میں کامیاب ہوا۔

دوماہ پہلے اسی برف پوش کان مہتر زئی کے مقام پر جب وہ مسلم باغ سے پشین آرہا تھا ایک بس پک اپ سے ٹکرا گئی، پک اپ پٹرول سے بھرا ہوا تھا اس لئے بس نے آگ پکڑ لی، سلیمان خان موقع پر پہنچا تو مقامی افراد سے کہا کہ آپ لوگ سائیڈ پر ہو جائیں میں اپنی گاڑی سے بس کو ٹکر مار کر ندی میں گرا دیتا ہوں ہو سکتا ہے کوئی زندگی بچ جائے لیکن لوگوں نے اسے یہ رسک لینے سے روک دیا لیکن وہ روکنے والا تو ہے نہیں اس لئے بھاگ کر جلتی بس سے آخری زندہ مسافر کو بحفاظت نکال لایا جبکہ بد قسمتی سے باقی تیرہ مسافر جل گئے تھے۔

سلیمان خان جس علاقے کا رہائشی ہے وہاں پانی کی شدید قلت ہے اس نے اپنے گھر میں ٹیوب ویل لگایا اور آس پاس کے پچاس گھروں کے لئے اپنی جیب سے پائپ خرید کر انہیں پانی کی مشکل سے مستقل چھٹکارا دلایا۔

جنگ کوئٹہ سے وابستہ اور بلوچستان کے باخبر صحافی دوست فرخ شہزاد سے جب میں سلمان خان کی پروفائل پر بات کر رہا تھا تو حیرت سے زیادہ مجھے سلیمان کی دیوانگی پر ترس آنے لگا کیونکہ اسے کیا معلوم کہ وہ کس بستی کا باسی ہے اور اس کے معاشرے کا مزاج کیا ہے؟

کبھی ملے تو میں سلیمان کو ”مشورہ“ دوں کہ ہمارے ہیروز توآپ جیسے لوگ نہیں ہوتے بلکہ ہم انہیں جذباتی اور دیوانہ کہہ کر اس کا مذاق اُڑانے پر آتے ہیں۔

ھمارے ہیروز تو صرف وہ لوگ بنتے ہیں جو ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کے ذریعے ہماری بھس بھری کھوپڑیوں میں جبرا ”ٹھونس دیے جاتے ہیں اور پھر وہ ہماری ہی تباہی اور بربادی کے کام پر لگ جاتے ہیں اور صرف اسی پر بھی بس نہیں ہوتا بلکہ یہ یہ“ ہیروز ”صبح شام ٹی وی سکرینوں سے چمٹے بکواس کرتے اور ہمارے زخموں پر نمک پاشی بھی کرتے رہتے ہیں اور ہم حسب عادت کبھی گالیاں دیتے ہیں اور کبھی تالیاں بجاتے ہیں۔

کیونکہ یہی یہی ہمارا مزاج ہے اور یہی ہماری عقل۔

اس لئے سلیمان خان جیسے لوگوں کو ہیرو ماننے کا وقت ابھی ہم سے کوسوں دور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *