پاکستانی شہری اب کرپشن سے پریشان نہیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کپتان نے کرپشن کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ کارزارِ سیاست میں قدم رکھا تھا تو کسی کو یقین نہیں آیا تھا کہ اتنے زیادہ کرپٹ معاشرے میں کوئی شخص کرپشن کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ مگر یہ دنیا دار لوگ بھول گئے کہ جس برگزیدہ حکمران کے سر پر بزرگوں کا ہاتھ ہو وہ ناممکن کو ممکن بنا کر دکھا دیتا ہے۔ جب کپتان وزیراعظم بنا تو پونے دو کروڑ ووٹروں نے اسے کرپشن ختم کرنے کے نام پر ووٹ دیا، اور آج کپتان کی حکومت کو دو برس بھی نہیں گزرے کہ صرف دو فیصد پاکستانی اب کرپشن کو اپنی بڑی پریشانی قرار دیتے ہیں۔ یہ نتائج کسی بکی ہوئی مقامی ایجنسی کے نہیں ہیں بلکہ دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹنگ ریسرچ کمپنی اپسوس نے پاکستان کے 120 سے زائد شہروں اور دیہات میں سروے کے بعد یہ ڈیٹا فراہم کیا ہے۔

فرانسیسیوں کی پاکستان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ پاکستان کی کسی سیاسی پارٹی یا شخصیت کے حلقہ اثر میں نہیں ہیں۔ اس لئے ان کے نتائج پر شبہ کرنے کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ کپتان کے پاکستان سے کرپشن تقریباً ختم کر دینے والے اس بڑے کارنامے کو اب یورپ بھی تسلیم کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ نون لیگ کے دور حکومت یعنی سنہ 2018 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 117 تھا یعنی پاکستان 116 ممالک سے زیادہ کرپٹ تھا۔ کرپشن کے خاتمے کی یہی رفتار رہی تو امید ہے کہ 2019 کے ڈیٹا میں محض پانچ دس ملک ہی پاکستان سے زیادہ ایماندار اور شفاف نکلیں گے اور اس سے اگلے برس بمشکل ایک دو۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق اب صرف دو فیصد پاکستانیوں کو کرپشن، اقربا پروری اور رشوت ستانی کی فکر رہ گئی ہے۔ بیشتر پاکستانی اب ان حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو پاکستان کو ایک معاشی اور فوجی سپر پاور بنا دیں گے۔ اب 30 فیصد پاکستانی بیروزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں اور 29 فیصد مہنگائی کو بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں جبکہ 11 فیصد بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کو سر پر سوار کیے ہوئے ہیں۔

مولانا محمد حسین آزاد نے درست ہی لکھا تھا کہ انسان کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتا۔ بجائے اس بات کے کہ یہ لوگ اس بات پر خوش ہوں کہ کرپشن ختم ہو گئی ہے، یہ اس بات پر پریشان ہیں کہ روٹی کہاں سے کھائیں گے۔ اب ان ناخوش لوگوں نے اس بات پر فساد برپا کیا ہوا ہے کہ آٹا چالیس روپے کی بجائے ستر اسی روپے کلو مل رہا ہے۔ آٹا نہیں ملتا تو روٹی کی بجائے چاولوں کی بریانی یا پلاؤ کیوں نہیں کھا لیتے؟ کیا انہیں علم نہیں ہے کہ ہم ایک زرعی ملک میں رہتے ہیں اور یہاں اجناس کی کوئی کمی نہیں ہے؟ اور روٹی کی پریشانی کیوں جبکہ ہر شخص جانتا ہے کہ فقر بہت بڑی دولت ہے۔ جس بڑے بزرگ، جس عظیم سلطان کے بارے میں پڑھیں تو یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ برائے نام روٹی کھاتا تھا اور اکثر فاقے کرتا تھا۔

بہرحال اس ناخوشی کا سبب جہالت اور مغربی تعلیم کی زیادتی ہے جو مادیت پرستی پر زور دیتی ہے۔ آپ نے اگر ایم اے پاس کر بھِی لیا ہے تو کیا کریں گے؟ لالچ میں پڑ کر کسی اچھی نوکری پر لگیں گے جہاں سے اتنی زیادہ آمدنی ہو کہ آپ کے پاس گاڑی، بنگلہ، آئی فون آ جائے اور آپ کے بچے مہنگے نجی سکولوں میں پڑھیں۔ کیا اس سے آپ کو دل کو سکون ملے گا؟ ہرگز نہیں۔ آپ پیٹ بھر کر مرغن کھانے کھائیں گے، آپ کا خاندان اچھے انداز میں رہے گا، آپ کے پاس لمبی سی چمکدار گاڑی ہو گی، آپ مہنگے سینماؤں میں فلم دیکھیں گے اور بڑی بڑی شاپنگ مالز میں خریداری کریں گے، مگر آپ کے دل کا سکون تو لٹ جائے گا۔ کیا آپ سوچیں گے نہیں کہ کاش یہ سب آپ سے چھن جائے، آپ کے پاس اگلے دن کھانے کے پیسے نہ ہوں، آپ کے بچے سرکاری سکول میں پڑھیں اور آپ فقر میں سلطانی پا لیں؟

کپتان ایک ویژنری لیڈر ہے۔ اس نے اسی لئے اعلیٰ تعلیم اداروں میں صوفیت کی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلکہ کپتان کی راہنمائی میں ایک پوری نجی یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے جو روحانیت کو سپر سائنس بنائے گی۔ امید ہے کہ فقر و درویشی سکھانے والے اس ادارے کی فیس دوسری نجی یونیورسٹیوں کے برابر ہی ہو گی۔ ادھر سے اعلیٰ ڈگری یافتہ صوفی نکلیں گے۔

صوفی کیا ہوتا ہے؟ بتایا جاتا ہے کہ لفظ صوفی کا منبع صوف یعنی اون ہے اور اس کا مطلب ہے وہ شخص جو گرم سرد موسم سے بے نیاز ہو کر بلادِ عرب کے صحرا میں بھی کھردرا، بھدا اور موٹا اونی لباس پہنتا ہے۔ بلکہ اس راہِ سلوک میں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو مجذوب ہو کر اس موٹے کپڑے سے بھی خود کو بے نیاز قرار دے دیتے ہیں۔ ہم نے اکابر صوفیا کے حالات زندگی میں پڑھا ہے کہ صوفی جتنی زیادہ نفس کشی کرتے ہیں، جتنے چلے کاٹتے ہیں، دنیا سے جتنا دور بھاگتے ہیں، جتنے فاقے کرتے ہیں، اتنے ہی ان کے روحانی مدارج بلند ہوتے ہیں۔

ابھی تیس فیصد لوگوں کے روحانی مدارج بلند ہو رہے ہیں، اگلے برس اس سے زیادہ ترقی نصیب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یعنی وہ وقت جلد آئے گا جب یونیورسٹی گریجویٹ بیروزگاری کو اپنی سب سے بڑی پریشانی قرار دینے کی بجائے دعائیں مانگا کریں گے کہ وہ بیروزگار ہوں تاکہ ان کے دل کو سکون ملے بلکہ ان کی پوری ہستی ہی نا ختم ہونے والا ابدی سکون پا لے۔

اسی بارے میں: پاکستانی شہری کرپشن سے نہیں، مہنگائی سے پریشان ہیں، ڈوئچے ویلے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1226 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *