جوتیری بزم سے نکلا، سو پریشان نکلا
تحریک انصاف کی حکومت کے ڈیڑھ سال بعد قوم کو تبدیلی کا اندازہ تو آٹا، ٹماٹر سے لے کر ڈیزل اور پٹرول کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی شکل میں اچھی طرح ہوچکا ہے، عوام کی مہنگائی اور بیروزگار ی سمیت دیگر ایشوز پر نکلتی چیخوں کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کا جواب یوں آتا ہے کہ گھبرانا نہیں اور ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل کا بم عوام پر گرادیا جاتا ہے۔ ادھر چاروں اطراف مہنگائی کی آگ عوام کو گھیر لیتی ہے۔ ڈیڑھ سال سے عوام اور حکومت کے درمیان گلے اور ناراضگی چلتی چلی آرہی ہے لیکن اب عوام اورتبدیلی حکومت کے درمیان جاری اس تلخ کھیل میں سونے پہ سہاگہ یہ ہوگیا ہے کہ حکومت کے اتحادی بھی میدان میں آگئے ہیں مطلب حکومت سے فاصلہ کرنے کے علاوہ پالیسوں تنقید بھی شروع کردی ہے۔
پہلی کارروائی حکومت کے اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے ڈالی گئی ہے وہ یوں کہ ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی و وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے وزرات سے استعفی دے دیا ہے اورکابینہ کے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے ہیں۔ دلچسپ صورتحال یوں بھی پیدا ہوگئی ہے کہ ایم کیوایم نے اپنی تنقیدی توپوں کا رخ بھی حکومت کی کارکردگی کی طرف بھی کرلیا ہے۔ ایم کیوایم کی کارروائی سے تحریک انصاف کی قیادت ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ دوسری طرف حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی طرف سے گلے اور ناراضگی اور تنقیدی حملوں کا سلسلہ ٹی وی پروگراموں میں شروع کردیاگیا ہے۔
اس کے لئے چودھریوں نے ٹاسک مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی و وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ کو دیاجوکہ اس نعرے کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں کہ عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے مطلب ان کا جینا حرام ہوچکا ہے، ادھر بے روزگاری ہوگئی ہے۔ حکومتی غلطیوں کی سزا ہم کیوں بھگتیں؟ حکومت میں شامل ہوئے تھے تو تحریری معاہدہ ہوا تھا۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی تحریک انصاف حکومت پر تنقید معلوماتی یوں تھی کہ موصوف عمران خان کی کابینہ میں وزیرجو ہوئے، ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ عوام کو کیسے حکومتی پالیسوں نے دیوار کے ساتھ لگایا ہے۔
وہ کہتے ہیں نا گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے، یہی کچھ طارق بشیر چیمہ کی گفتگو سے لگ رہا تھا۔ اور ایسا ہی حکومت کے دیگر اتحادی کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ حالات کسی بھی وقت کوئی رنگ اختیار کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم خان کی حکومت کسی وجہ سے ڈوب جاتی ہے تو ان غلط فیصلے ہوں گے۔ ہماری اپنی جماعت ہے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ خداکا خوف کریں اسلام آباد سے پنجاب نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ ہم کیسے بھگتیں، طارق چیمہ نے ہوسکتا ہے حکومت کے حوالے سے سارے سچ بولے ہوں لیکن موصوف نے ایک وجہ حکومت سے ناراضگی کی عوام کو نہیں بتائی، وہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چودھریوں کے فرزند مونس الہی کو کابینہ میں نہیں لیا ہے۔
ادھرحکومتی اتحادی ایم کیوایم پاکستان نے حکومت کو آئینہ یوں بھی دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ایم کیوایم کے رکن فیصل سبز واری کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں ہمارا ووٹ چوری کیاگیا تھا، ووٹ چوری ہونے کی ہماری پٹیشن بھی الیکشن کمیشن میں زیرسماعت ہے۔ اور ہم آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ عمران خان وزیراعظم نہیں تھے، ووٹ چوری کا اس وقت ہم نے بتایا تھا۔ ووٹ چوری کے باوجود تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ مشکل تھا لیکن ایم کیوایم کی طرف سے کیاگیا تھا۔
ہم نے کابینہ کو چھوڑ کر حکومت کو جھنجھوڑا ہے۔ کابینہ چھوڑنے کے باوجود بھی کچھ نہیں ہوتا تو دیگر آپشن موجود ہیں؟ کابینہ سے نکلنے کا فیصلہ کسی کی اجازت کے بغیر کیا ہے۔ تحریک انصاف حکومت ڈلیور نہیں کررہی ہے۔ بات نہ مانی گئی تو ایوان میں دوسرا بندوبست کرسکتے ہیں۔ ایم کیوایم اور تحریک انصاف کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا، جس میں حیدر آباد میں عالمی معیار کی یونیورسٹی تعمیر کرنا بھی شامل تھا۔ معاہدہ پر صدر پاکستان عارف علوی کے دستخط ہیں۔
حکومت اور اتحادیوں کے درمیان مذاکرات اور جاری لفظی جنگ میں ایک بات زور دے کر کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ معاہدہ ہواتھا، معاہدہ ہواتھا، ایک طرف ایم کیوایم کے فیصل سبزواری اور دوسری طرف مسلم لیگ ق کے طارق چیمہ تکرار کررہے ہیں کہ معاہدہ ہواتھا۔ یوں لگتاہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زبانی کلامی یقین دہانی پر کوئی اعتبار کرنے پر تیار نہیں تھا۔ مسلم لیگ ق اور ایم کیوایم کے علاوہ دیگر اتحادیوں کی طرف سے بھی ناراضگی اور گلے شکوے شروع ہوگئے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اتحادیوں سے بات چیت کے لئے کمیٹی بنادی گئی ہے، لیکن ابھی کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ حالیہ کابینہ کے اجلاس میں دو وزراء جن میں سے ایک چیمہ اور دوسرا صدیقی تھا، اجلاس میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔
سمجھدار لوگوں نے جب وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر اتحادیوں جماعتوں کی طرف سے تنقید اور فاصلے دیکھنے کو مل رہے ہیں، اس وقت سیاسی جماعتوں کی قومی اسمبلی میں نشتوں کی جمع تقریق شروع کردی ہے تاکہ پتہ چلے کہ حکومت کے اتحاد سے اتحادی نکلتے ہیں تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت اکثریت برقرار رکھ پائے گی۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 156 نشتیں ہیں اور مسلم لیگ نواز 84 جبکہ پیپلزپارٹی کی اسمبلی میں 56 نشتیں ہیں۔
اسی طرح متحدہ مجلس عمل کی 16 نشتیں ہیں اور مسلم لیگ ق کی 5 نشتیں ہیں۔ اس کے علاوہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی 3 سیٹیں ہیں۔ ادھر عوامی مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی ایک ایک، بلوچستان نیشنل پارٹی 4، بلوچستان عوامی پارٹی 5 اور آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے۔ حکمران اتحاد پر نظردوڑائیں تو اس کے پاس 183 کا آکڑا ہے جبکہ حزب اختلاف کے پاس 158 نشیتں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے آنے بعد اپوزیشن 165 پر پہنچ جائے گی۔
اور حکومت 176 پر آجائے گی۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لئے 172 ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ایم کیوایم کے بعد دیگر اتحادی جماعتوں کے پانچ ارکان کی جانب سے حزب اختلاف کی حمایت پر حکومت کے لئے سادہ اکثریت بچانا مشکل ہوجائے گا۔ آخری اطلاعات تک مسلم لیگ ق کی طرف سے حکومت کے بحیثیت اتحادی ایک ہفتہ کی مہلت ملی ہے اب دیکھنا ہوگا کہ جو کام ڈیڑھ سال میں نہیں ہوسکاہے وہ ایک ہفتہ میں کیسے ممکن ہوگا لیکن وابستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے تحت مثبت رپورٹنگ کرنی ہوگی۔ ویسے اتحادی اور حکومت عوام کی مشکلات کی بجائے ایک دوسرے کو ریلیف دینے کے لئے مذاکرات کررہے ہیں، یوں کہانی یوٹرن بھی لے سکتی ہے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی معائدوں کی کہانی ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور دیگر اتحادیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف نے اپنے لیڈر عمران خان کی موجودگی میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں کے ساتھ بھی صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیا تھا، امید ہے وزیراعظم عمران خان اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں کو وزراتوں کے جھنڈے والی کاروں اورپروٹوکول کی موجودگی میں بھی سب یاد ہوگا، وگرنہ عوام کو تو سب یاد ہے۔
دلچسپ بات ہے راقم الحروف کے سامنے وہ تصویر موجود ہے جوکہ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے معاہدہ کرتے وقت کی ہے، جس میں باقاعدہ دیکھا جاسکتاہے کہ تحریر لکھی جارہی ہے، گواہ موجود ہیں، موجودہ وزیراعظم خان موجود ہیں۔ جہانگیر ترین سے لے کر طاہربشیر چیمہ موجود ہے اور خسرو بختیار بھی واضع نظرآرہا ہے۔ ادھر مزاری صاحب بھی اس تصویر میں مرکزی حیثیت میں دیکھے جاسکتے ہیں، اس معاہدہ کے تحت سرائیکی قوم کو نواز لیگی لیڈر نواز شریف اور پیپلزپارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری سے آگے کی کہانی ڈال کر تحریک انصاف کی قیادت نے، جنرل الیکشن 2018 ء میں حمایت حاصل کی تھی۔
وزیراعظم عمران خان کو اس وقت تحریری معاہدہ کی خوشی میں نیلی اجرک بطور خاص پہنا گئی تھی تاکہ سند رہے۔ ادھرجنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور تحریک انصاف کے معاہدہ کے نتیجہ میں تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد سو دن کے اندر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اچھی ڈیل تھی جوکہ عوام میں مقبول ہوئی، پھر الیکشن ہوئے تو نتیجہ تحریک انصاف کے حق میں رہا، اس کے پیچھے ساری سائنس صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کی یقین دہانی تھی۔
تحریک انصاف کے اقتدار میں آتے ہی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پیاروں کو وزراتین ملیں، ان کے وارے نیارے ہوگئے ہیں لیکن افسوس ناک صورتحال جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے وہی رہی جوکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگی قیادت کے اقتدار میں آنے کے بعد میں رہی تھی، مطلب جنوبی پنجاب صوبہ کی فائل تحریک انصاف کی حکومت نے بھی پچھلی حکومتوں کی طرح دبالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے سو دن گزرنے کے بعد یہ بیان دیا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے، سیکرٹریٹ بنارہے ہیں، ادھر جارہے ہیں اور ادھر سے آرہے ہیں۔
اور پھر چاروں اطراف خاموشی چلی آرہی ہے، جس سیاسی گروہ نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا نعرہ لگایا تھا، اور عوام کو یقین دلایاتھا کہ اس بار جنوبی پنجاب صوبہ، تحریک انصاف بنائے گی، تحریری گارنٹی تحریک انصاف کے قائد عمران خان سے لے لی گئی ہے، اور خان کو نیلی اجرک بھی پہنادی ہے، ساتھ فوٹو سیشن بھی کرلیا ہے لیکن تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد وعدہ وفا نہیں ہوا ہے، یہاں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جس وقت مسلم لیگ ق اور ایم کیوایم حکومت کی طرف سے وعدے پورے نہ کرنے پر احتجاج کے علاوہ کابینہ اجلاس میں نہیں جارہی ہے۔
اس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ جن کے پاس وزیراعظم عمران خان کے دستخطوں سے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لئے تحریری معاہدہ موجود ہے، وہ خاموش کیوں ہیں؟ وہ کابینہ اجلاس سے بائیکاٹ کے علاوہ وزیراعظم عمران کو وعدہ یاد دلانے کے لئے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھار ہے ہیں؟ کیا وہ سب ڈرامہ تھا جوکہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور تحریک انصاف کی طرف سے تحریری معاہدہ کی شکل میں جنرل الیکشن 2018 ء سے پہلے کیا گیا تھا۔ کیا عوام کوایک بار پھر سیاسی میدان میں دھوکہ دیاگیاہے؟ اس بات کی وضاحت ان سب کرداروں کو کرنی ہوگی جوکہ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی عوام کو یقین دہانی کروارہے تھے؟ ویسے اتحادیوں اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان جاری محبتوں سے جدائیوں کی کہانیوں میں غالب کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔
بوئے گل، نالہ دل دود چراغ محفل
جوتیری بزم سے نکلا، سو پریشان نکلا


