بھارتی فورسز کا بلنڈر: اپنے ہی ملک کے حساس ادارے کا ایجنٹ گرفتارکر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سر! یہ ایک گیم ہے، اسے برباد مت کیجئے“۔ یہ تھے ڈی ایس پی دویندر سنگھ کے گرفتاری سے قبل آخری الفاظ۔ گیارہ جنوری کو مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس نے اسپیشل ٹاسک فورس کے ڈی ایس پی کودو مطلوبہ دہشت گردوں کے ساتھ مقبوضہ وادی کے ضلع کلگام سے گرفتار کرلیا۔ گرفتاری سے قبل دویندر سنگھ نے پولیس افسر کو دبے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ایک گیم (آپریشن) ہے اس میں مداخلت مت کرو ورنہ سب دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔

 ڈی ایس پی کی گرفتار ی کے فوری بعد ہوم منسٹری حرکت میں آئی اور چوبیس گھنٹے کے اندر اندر پولیس کو تحقیقات سے روکتے ہوئے کیس واپس لے لیا اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو منتقل کردیا۔ جس کی تحقیقات بند دروازوں کے پیچھے پتہ نہیں ہوں گی بھی یا نہیں ہوں گی۔

یہ وہی دویندر سنگھ ہے جو گرفتاری سے دوروز قبل مقبوضہ کشمیر کے دورے پر آئے امریکی سفیر اور دیگر غیر ملکی نمائندوں کی سیکورٹی کر رہا تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں ”سب اچھا ہے“ کا ڈھونگ رچانے کے لئے بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے غیرملکی نمائندوں کے لئے مقبوضہ کشمیر کا دورہ آرگنائز کروایا تھا۔ اور اسی اجیت دوول کے نیٹ ورک کا حصہ دویندر سنگھ اس وفد کے ساتھ موجود تھا۔ بھارتی صحافی سواتی جترا ویدی نے گلف نیوز کے لئے لکھے آرٹیکل میں یہی سوال اٹھایا کہ ”کیا بھارت نے اپنا ہی ڈیپ اسٹیٹ ایسٹ پکڑ لیا ہے؟ “

بھارتی صحافی نے کئی چشم کشا حقائق اپنے کالم میں پیش کیے۔ انہوں نے لکھا کہ دویندر سنگھ ایسا کردار ہے جو تقریبا گزشتہ بیس سال سے متنازعہ ہے لیکن اس کے باوجود اسے ارباب اقتدار کی جانب سے استثنا حاصل رہا۔ اس کا نام سب سے پہلے دوہزار ایک میں میڈیا کی شہ سرخی بنا تھا۔ جب بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے ملزم افضل گرو نے اپنے وکیل کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا تھا کہ دویندر سنگھ نے پارلیمنٹ حملے سے کئی ماہ قبل اس کو حراست میں لے کر ٹارچر کیا۔ اس کے بعد دویندر سنگھ نے افضل گرو کو مجبور کیا کہ ایک شخص کو نئی دلی لے جائے۔ بعد میں سامنے آیا کہ دویندر سنگھ کا بھیجا ہوا آدمی بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث تھا۔

گرفتاری کے وقت دویندر سنگھ دو مطلوب دہشت گردوں کو دہلی منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جہاں ریپبلک ڈے پریڈ اور دہلی الیکشن ہونے والے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم اور سیکورٹی ادارے عالمی برادری کوبھارت کی جانب سے کسی ممکنہ فالس فلیگ آپریشن سے متعلق مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔

گرفتار ڈی ایس پی کے قبضے سے سرینگر میں واقع بھارتی فوجی بیس کا نقشہ بھی برآمد ہوا۔ یہ شخص بادامی باغ کنٹونمنٹ میں مقیم تھا جہاں وہ دہشت گردوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتاتھا اور مختلف جگہوں پر منتقل کرتا۔ ۔ دویندر سنگھ سرینگر کے محفوظ ترین علاقے ”اندرا نگر“ میں بھارتی آرمی کی ففٹین کور کے ہیڈ کوارٹر کے ساتھ پر تعیش بنگلا تعمیر کروا رہا تھا جس کی تعمیر دوہزار سترہ سے جاری تھی۔ سنگھ کے بنگلے کی دیوار ففٹین کور کی عمارت سے متصل ہے۔

گزشتہ برس بھارتی سی آئی ڈی نے رپورٹ کیا کہ دویندر سنگھ کی دولت میں پر اسرار طریقے سے بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے پھر بھی اس شخص کی تحقیقات کی بجائے اسے اجیت دوول کی جانب سے آرگنائز کیے گئے امریکی سفیر اور دیگر ممالک کے نمائندوں کے ٹوور کے ساتھ انتہائی حساس ڈیوٹی پر تعینات کردیا گیا۔ مگر کیوں؟ کس کے کہنے پر؟ یہ وہ سوال ہیں جس نے مودی حکومت کو مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دویندر سنگھ کو بی جے پی حکومت نے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

ڈی ایس پی دویندر سنگھ کی گرفتار ی کے بعد بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کا تخریبی کردار مزید واضح ہو رہا ہے۔ سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کہیں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے سے لے کر پٹھان کوٹ اور پلوامہ حملہ بھی بھارت کی ڈیپ اسٹیٹ نے خود ہی تو نہیں کروائے۔ بھارت میں پٹھان کوٹ پر حملے کے خلاف بھارتی فورسز کے آپریشن کو اجیت دول براہ راست مانیٹر کر رہا تھا۔ جس میں حملہ آوروں کو اڈے سے نکالنے میں چار روز لگ گئے اور حملے کی تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ دہشت گرد بیس میں داخل کیسے ہوئے؟ کیا بھارتی فورسز کے اندر سے کسی نے مدد کی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کو دبا دیا گیا۔

اسی طرح پلوامہ حملے کی تحقیقات بھارت سرکار نے کروانا مناسب نہیں سمجھا، یا اگر کروائی ہے تو چھپا دی ہے۔ حملے میں جس میں چالیس سے زائد بھارتی فورسز کے اہلکار مارے گئے تھے۔ بھارتی عوام کو اب تک یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ حملے میں کتنا دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا اور اتنا بڑا سیکورٹی لیپس کیسے ہوا۔ بھارتی اپوزیشن کانگریس کے سینئر رہنما آدھر رانجان کا دویندر کی گرفتاری پر کہنا تھا کہ اب کنفرم ہوگیا ہے کہ پلوامہ حملوں کے پیچھے کون تھا۔ پلوامہ کیس کی تحقیقات کا نئے سرے سے آغاز ہونا چاہیے۔

کہیں نریندرا مودی کا قومی سلامتی مشیر اجیت دوول ہی تو بھارت میں کروائی گئی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ نہیں؟ کہیں بھارت کی ڈیپ اسٹیٹ نے اپنے تاریک عزائم کی تکمیل کے لئے اپنی ہی عوام کا خون تو نہیں بہایا؟ کہیں بھارت میں جاری مظاہروں سے توجہ ہٹانے کے لئے نئی دلی کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری تو نہیں ہورہی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *