کمزور قوانین اور شعور کی کمی، گھریلو مزدور خواتین جنسی ہراسگی کا شکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائزہ خاتون 22 سالہ شادی شدہ اور 3 بچوں کی ماں ہے جو گزشتہ 15 سال سے مختلف گھروں میں کام کر رہی ہے جس نے پہلی مرتبہ 8 سال کی عمر میں گھریلو ملازمت شروع کی اور اب تک کے عرصہ میں 10 مختلف گھروں میں ملازمت کر چکی ہے اور اس دوران اس کو متعدد مرتبہ تشدد اور جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس کے لئے اس کو کبھی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور شکایت کرنے پر الٹا الزامات لگا کر ملازمت سے ہی نکال دیا گیا۔ جبکہ اہلخانہ نے بھی اس کو کبھی پولیس یا دیگر اداروں سے شکایت نہیں کرنے دی اور معاشرتی خوف کے باعث سختی سے کسی کو بھی ہراسگی کے معاملات بتانے سے باز رکھنے کی ہدایت کی گئی جس کی وجہ سے وہ آج تک اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے خلاف انصاف حاصل نہیں کر سکی ہے۔  اس وقت افسوس کا امر پیدا ہوا جب فائزہ نے خاتون محتسب اور ہراسگی سے روکنے کے قانون بارے بتانے پر اس سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس طرح کے معاملات گھروں میں کام کرنے والی ان لاکھوں خواتین کے ساتھ درپیش ہیں جو جنسی ہراسگی کو معاشرے کے مردوں کی جانب سے ایک لازمی امر اور معمول کی طرح سمجھتی ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کبھی سوچتی بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر وہ جنسی ہراسگی کے خلاف آواز بلند کریں تو سب سے پہلے ان کو اہلخانہ کے ہی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  معاشرتی طور پر الٹا خواتین کو اس طرح کے الزامات پر مذاق کا نشانہ بنانے جبکہ تھانہ کچہری میں اس انداز میں سوالات کیے جاتے ہیں کہ شکایات کرنے والی خواتین اپنی تمام تر ہمت توڑ دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں جنسی ہراسگی کو معمول سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

حیرت انگیز اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ خواتین کو معاشرے میں ایک باعزت مقام اور برابری کے حقوق دینے والے مذہب کے نام پر بننے والے ملک نے خواتین کے تحفظ کے لئے عالمی چارٹر پر اپنے قیام کے 49 سال بعد 1996 ء میں دستخط کیے جبکہ اس پر قانون سازی اب تک جاری ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں خواتین مختلف مظالم اور جاہلانہ رسومات کا شکار چکی آ رہی ہیں اور غریب و ان پڑھ طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین پر مظالم سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور فوری انصاف دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔

اس ضمن میں 9 سال قبل حکومت پنجاب کی جانب سے سال 2010 ء میں بننے والے قانون جنسی ہراسگی سے روکنے کے قانون سے ابھی تک پڑھی لکھی خواتین ہی فائدہ نہیں اٹھا رہیں تو اس معاشرے کے غریب اور ان پڑھ طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین تو اس قانون تک سے ناواقف چلی آ رہی ہیں۔ اس قانون کے تحت گھریلو ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے ساتھ قانونی طور پر مضبوط بنانے کے لئے ان کی رجسٹریشن کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس ضمن میں محکمہ لیبر کے مطابق گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا کام شروع ہے تاہم ان پڑھ اور مختلف افواہوں کا شکار ہونے کی وجہ سے یہ خواتین ملازمین اپنی رجسٹریشن نہیں کرا رہی ہیں اور معاملہ سست روی کا شکار ہے۔ دوسری جانب گھریلو ملازم خواتین کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم کے مطابق ان کے تحفظ کے لئے مزید قانون سازی کی ضرورت ہونے کے ساتھ شعور دینے کی زیادہ ضرورت ہے جس کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں سماجی تنظیم کے مطابق غیر رسمی تخمینے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ملک میں 20 ملین گھریلو ملازمین ہیں جن میں 12 ملین خواتین ہیں اور یہ گھریلو مزدور معیشت پر اپنی اجرت کے ذریعے سالانہ 400 ارب خرچ کرتے ہیں جس میں خواتین کی طرف سے 65 فیصد رقم شامل ہے۔  یہ رقم کل جی ڈی پی کے 3.8 فیصد کے قریب ہے لیکن ان کارکنوں کے تحفظ کے لئے اقدمات نہیں ہونے کے برابر ہیں۔ اس طرح 300 خواتین کا سروے کیا گیا جس میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے بارے میں خاموش رہنے پر مجبور کرنے بارے 81 فیصد نے کہا کہ ان کے ساتھیوں نے انہیں خاموش رہنے کو کہا ہے۔ سروے میں شامل خواتین میں سے نصف سے زیادہ نے کہا کہ اگر وہ پریشان ہوئیں تو وہ اپنی ملازمت چھوڑ دیں گی کیونکہ انہیں سچا نہیں مانا جائے گا اور انصاف نہیں ملے گا۔

صوبائی خاتون محتسب پنجاب کا دفتر سال 2013 ء میں قائم کیا گیا تھا۔ جس میں قانون بارے شعور کی کمی کی وجہ سے اب تک صرف 116 شکایات موصول ہوئی جن میں 42 افراد کو سزا دی گئی جبکہ 15 ملزموں نے معافی مانگ کر صلح کر لی، 27 خواتین نے اپنی درخواستیں واپس لے لیں جبکہ 6 ثابت کرنے میں ناکام ہوئیں اور 25 درخواستیں تاحال زیر التواء ہیں۔ اس طرح محتسب دفتر نے مختلف محکموں میں قائم انسداد ہراساں کرنے والی کمیٹیوں کے منظور کردہ فیصلوں کے خلاف 13 اپیلوں کی بھی سماعت کیں۔ جن میں سے 2 میعاد گزرنے پر خارج کر دی گئیں، 4 معاملات میں ہراساں کرنے والی کمیٹیوں کے فیصلے منسوخ کیے گئے اور 5 پر فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ تاہم 2 اپیلوں پر کارروائی جاری ہے۔

آئینی ماہر شیخ محمد فہیم کے مطابق کسی بھی ملازمت کے دوران خواتین کو ہراساں کرنا قانوناً جرم ہے۔ ہراساں کیے جانے والی خواتین اپنے تحفظ کے لئے دفتر خاتون محتسب پنجاب سے رابطہ کر کے داد رسی حاصل کر سکتی ہیں۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین اپنے تحفظ کے لئے اپنے اندر ہمت و جرات پیدا کریں اور معاشرہ بھی ان کا ساتھ دے نیز خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ، آوازیں کسنا، دھمکیاں دینا، ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

دفتر خاتون محتسب پنجاب کے سینئر افسر محمد حسین رانا کے مطابق مرد افسران و ملازمین کو خواتین کے حقوق کے تحفظ بارے ایکٹ پر عمل در آمد کے لئے آگاہی فراہم کی جارہی ہے جس کے لئے ہر ضلع کی سطح پر سیمینار منعقد کرنے کے ساتھ خواتین کو محلوں اور ادارں کی سطح پر اس قانون سے آگہی کے لئے شعور فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ہر سرکاری ادارے میں انکوائری کمیٹیوں کے قیام کے لئے حکومت پنجاب نے ہدایات جاری کی ہیں اور جلد ہی کمیٹیوں کے قیام سے خواتین کی رسائی آسان ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply