ایک بس تھی۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یو ٹنگ کمپنی کی بنی ایک بس جو کراچی سے ہیڈ پنجند تک جانے کو کچھ ہی دیر پہلے سے رواں دواں ہے۔ اس سے پہلے بحریہ ٹاون کے سامنے دس منٹ، سہراب گوٹھ ٹرمینل پر پندرہ منٹ اور پانچ بج کے دس منٹ پر قیوم آباد سے چل کر پانچ پچپن پر پنجاب اڈہ پہنچ کر آٹھ بجنے سے کچھ دیر پہلے تک رکی رہی تھی جہاں ڈرائیور نے وردی پہنی تھی جبکہ سہراب گوٹھ ٹرمینل سے بس ہوسٹس سوار ہوئی تھی، میں بیٹھا میں اپنے سگے اور سب سے بڑے بھتیجے جو تقریباً ہم عمر ہونے کے سبب میرا دوست بھی تھا اور گہرا دوست، کی ناگہانی اچانک موت پر سہ روزہ پرسہ کے بعد تیرہ روز میں دوسری بار اپنے آبائی گھر جا رہا ہوں۔

وہ زندہ ہوتا تو اس بس میں نہ بیٹھتا بلکہ اپنی کار پر اس گھر جاتا جہاں وہ پیدا تو نہیں ہوا تھا مگر جو اس کے دادا کا گھر تھا جہاں اس نے ایک بار لگاتار دو برس زندگی بھی بسر کی تھی۔ یہ بات نہیں کہ وہ بس میں بیٹھنے سے گریز کرتا کیونکہ وہ جہاں بہت مغرور تھا وہاں بہت درویش منش بھی تھا۔ دونوں صفات یکجا کیوں نہ ہوتیں؟ وہ باقاعدہ ”سیلف میڈ“ انسان تھا جس نے سولہ برس کی عمر سے محنت کرنا شروع کر دی تھی۔ کام کرتا رہا پڑھتا رہا یہاں تک کہ کسٹمز سے متعلق معاملات میں سند مانا جانے لگا۔

قد کا چھوٹا یہ انسان درحقیقت بہت بڑا تھا۔ رشتہ داروں سے دوستوں تک کا خیال رکھنے والا۔ دکھ سکھ میں ہاتھ بٹانے بلکہ شریک ہونے والا۔ جہاں متعدد بار بے حد سنجیدہ وہاں کئی بار بذلہ سنج اور کھل کر قہقہہ لگانے والا۔ اپنی دو زوجاوں سے پیدا ہوئے بچوں پر جان چھڑکنے والا۔

ابھی چند روز پہلے ہی تو ملاقات ہوئی تھی مگر کہہ رہا تھا کہ یار ڈاکٹر میں تھک جاتا ہوں، دفتر سے گھر لوٹتا ہوں تو کہیں نکلنے کو جی نہیں کرتا۔ یہی وجہ تھی کہ گذشتہ دنوں 18 دسمبر تا 4 جنوری کراچی میں قیام کے دوران باوجود میرے مطلع کرنے کے وہ مجھے وقت نہ دے پایا تھا۔ صرف تین بار ملاقات رہی مگر مختصر وہ بھی تقریبات میں ورنہ میں کراچی میں ہوتا اور وہ مجھے روز نہ سہی کئی بار دفتر ساتھ نہ لے جاتا، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

ہم کاروباری شریک بھی رہے تھے، اس کے شروع کردہ کاروبار کی وجہ سے ہی میں بہت خسارہ ہونے کے بعد امریکہ چلا گیا تھا پھر سال بعد ایک بار پھر روس لوٹ آنے پر وہیں رہنے لگا تھا۔ سبھی مجھے پاکستان لوٹ آنے کو کہتے تھے مگر ندیم نے کبھی نہیں کہا۔ کہتا تھا، ”ڈاکٹر تم وہیں ٹھیک ہو“۔

مئی 2018 میں میری آپ بیتی کا پہلا حصہ ”پریشاں سا پریشاں“ کے عنوان سے شائع ہوا تو پبلشر نے میرے سارے دوستوں اور تعلق داروں سے رابطہ کیا۔ ندیم نے مجھے بتائے بغیر پبلشر کو پچیس ہزار روپے بھیج دیے اور کتابیں منگوائیں صرف دو، ایک اپنے لیے اور ایک کسی دوسرے شخص کو بھجوانے کا کہا۔ مجھے پبلشر نے بتا دیا لیکن ندیم نے ذکر تک نہ کیا البتہ 4 جنوری کو ہوئی آخری ملاقات میں یہ ضرور کہا، ”ڈاکٹر تجھے یہ کتاب لکھنے پر سزا ملنی چاہیے“۔ میں کیا بتاتا کہ سزا تو مل چکی بس اتنا کہا کہ کتاب میں مذکور کسی شخص کو خواہش ہو تو میرے خلاف مقدمہ دائر کرے اور مجھے جھوٹا ثابت کرے۔ ندیم نے مسکرا کے کہا چھوڑ ڈاکٹر مقدمہ سے تو مزید مشہور ہوگا اور مقدمہ کرنے والا بیچارہ مزید بدنام۔

میں اس بس میں بیٹھا اسے اس لیے یاد کر رہا ہوں کہ ایک بار ندیم اپنے دو دوستوں کے ہمراہ کراچی سے سفر کرتا ہوا ملتان میرے پاس پہنچا تھا جب میں نشتر میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا پھر ہم چاروں ریل گاڑی سے پنڈی پہنچے تھے اور مینگورہ جانے کے لیے ایک بس میں سوار ہو گئے تھے۔ ان دنوں کی یہ بس بیڈفورڈ کمپنی کی تھی جس کا انجن آگے لاری کے منہ میں ہوتا تھا

یہ تینوں دوست تین والی سیٹ پر بیٹھے اور میں دو والی پر ندیم کی طرف کی نشست پر۔ پھر چالیس پینتالیس برس کا ایک شخص جس نے جناح کیپ پہنی ہوئی تھی اور آنکھوں میں سرمہ لگایا ہوا تھا، ہماری طرف منہ کرکے ”ٹاپے“ پر بیٹھ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد جب میں نے ماتھا اگلی نشست کی پشت کے ساتھ ٹکایا ہوا تھا تو اس شخص نے اپنی ہتھیلی میری ران پر رکھ دی تھی جسے بعد میں جیسے بس کے ارتعاش کے ساتھ ساتھ۔ خیر جب مجھے لگا کہ معاملہ خراب ہو جائے گا تو میں نے کھنکار کر سر نشست کی پشت سے اٹھا کر بات ندیم کے کان میں بتا دی تھی جس نے وہی بات اگلے کو اس نے اگلے کو کان میں کہی تھی پھر ان تینوں کا قہقہہ گونجا تھا، جس میں میری آواز بھی شامل ہو گئی تھی۔ مرتعش ہتھیلی والا شخص جھینپ گیا تھا اور وہیں ویرانے میں بس رکوا کے اتر گیا تھا۔

ڈیفنس کراچی میں بڑے سے بنگلے میں ایک بیوی بچوں کے ساتھ اور کلفٹن کے ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں ایک اور بیوی، دو بیٹوں، ان کی دلہنوں، ایک چار ماہ کے پوتے اور بیٹی و داماد اور دو نواسوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی بتانے والا میرا یار بھتیجا ندیم احمد مرزا اب ڈیفنس گریو یارڈ کے مدفن نمبر 393 میں مکین ہے جس کی رحلت کا افسوس کرنے کے بعد میں اس کی یادوں کے ساتھ محو سفر ہوں۔ خدا مغفرت فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *