کیا چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) میں واپس آنا چاہتے ہیں؟ 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روزنامہ امت نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے بعض رہنما سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی پارٹی میں واپسی کے لیے کوشاں ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چوہدری نثار بھی ن لیگ میں واپسی کے لیے تیار ہیں؟

رپورٹ کے مطابق چوہدری نثار علی خان کے قریبی ذرائع نےبتایا کہ چوہدری نثار علی خان ان دنوں گوشہ نشینی میں ہیں، وہ بظاہر عملی سیاست سے لاتعلق ہوکر گھر بیٹھ گئے ہیں لیکن پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران ان کا اپنے حلقہ انتخاب سے رابطہ مضبوط ہوگیا ہے۔ وہ جلسہ جلوس کئے بغیر خاموشی سے پورا ہفتہ اپنے ووٹروں کے ساتھ گزارتے ہیں لیکن سیاسی موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، صرف اشاروں کنایوں میں بات کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جب سے چوہدری نثار علی خان نے مسلم لیگ سے ناتا توڑا ہے، دوبارہ اس کی طرف دیکھا ہے اور نہ ہی تحریک انصاف میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے۔ یہی وجہ ہے جب بعض حلقوں نے انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کی پیشکش کی تو انہوں نے یہ کہہ مسترد کردی کہ پہلے شکست کے بارے میں بتایا جائے کہ انہیں صوبائی نشست پر تو جیتنے دے دیا گیا لیکن قومی اسمبلی میں شکست سے کیوں دوچار کیا گیا؟ اخبار کے ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ چوہدری نثار کو مقتدر حلقوں کی جانب سے کسی گرین سگنل کا انتظار ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرسکیں۔

یاد رہے کہ اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ چوہدری نثار علی خان کو پارٹی میں واپس لانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں اور ن لیگ کے قریبی ذرائع سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اس سلسلے میں کوشاں ہیں، اس کے علاوہ ن لیگ کے رکن اسمبلی رانا تنویر حسین بھی چوہدری نثار کی ”گھر واپسی“ کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ پارٹی کے مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے ایک ایسے بڑے لیگی لیڈر کی ضرورت ہے جس کے خلاف نیب کا کوئی مقدمہ نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے دور میں چوہدری نثار علی خان نے قائد حزب اختلاف کا منصب بڑے سلیقے سے نبھایا تھا اور پیپلزپارٹی کے لیے مشکلات کھڑی کی تھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ چوہدری نثار پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے اور نہ ہی ان پر نیب کا کوئی مقدمہ قائم ہے۔ دوسری جانب ان کی واپسی کی مخالفت کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ میں ایک ایسا گروپ گھس گیا ہے، جو اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے، یہ گروپ ن لیگ کا اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم چاہتا ہے۔

دوسری جانب پارٹی میں اس حقیقت کا ادراک کرنے والے شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان موجود تھے۔ شہباز شریف کی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ اچھی دوستی تھی، لیکن میاں نواز شریف سے چوہدری نثار کو دور کردیا گیا۔ چوہدری نثار، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے خلاف تھے۔ انہوں نے ہی پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے میں مدد دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پارٹی کی بقاءکے لیے رانا تنویر حسین اور سردار ایاز صادق کی کوشش ہے کہ کسی طرح چوہدری نثار کو واپس لایا جائے تاکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات کو ماضی کی سطح پر استوار کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار کی طبیعت مجلسی نہیں ہے جو ایک لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ گنتی کے چند صحافی ہی ان کے حلقہ احباب میں ہیں۔ دیگر صحافیوں کی ان تک رسائی آسان نہیں ہے۔ اس رویے کی وجہ سے لوگ انہیں مغرور سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ پارٹی میں اپنا کوئی موثر گروپ نہیں بنا سکے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *