انصاف چاہیے؟ چیمبر میں آجاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سخت سردی کے موسم میں سکول کے صحن میں دھوپ میں بیٹھے بچوں کو ایک سفید داڑھی والا ماسٹر اسلامیات کا سبق پڑھا رہا تھا۔ چالیس بچوں کی کلاس میں ایک میں بھی تھا جو اس وقت ماسٹر جی کی باتیں سننے میں مصروف تھا۔ قیامت کے دن حساب کتاب کیسا ہوگا کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ماسٹر صاحب کا کہنا تھا کہ ”سنو بچو! قیامت کے دن سب سے کڑا احتساب جج اور ڈاکٹر کا ہوگا“۔ ابھی ان کی یہ بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ میں نے فی الفور ایک سوال ماسٹر صاحب کے سامنے رکھ دیا کہ ”سر جی جج اور ڈاکٹر کا احتساب کیوں سخت ہوگا؟

”۔ ماسٹر جی نے کتاب میز پر رکھی اور سیٹ سے کھڑے ہوکر تمام بچوں کو کہا کہ سب اپنے اپنے کان کھول کر میری بات سنیں اور اس کو ساری زندگی کے لیے اپنے پلے سے باندھو لو، کیونکہ تم میں سے ہی بہت سے بچے ہیں جو آگے چل کر ڈاکٹر اور جج بھی بنیں گے اور میں چاہتا ہوں کہ ایک استاد کی حیثیت سے میں اپنا فرض پورا کروں۔ انہوں نے اس احتساب کی وضاحت ایسے کی جو آج پندرہ سال بعد بھی میرے ذہن میں ویسے ہی گونج رہی ہے جیسے ابھی ابھی ماسٹر صاحب نے کہا ہو۔

” انصاف کرنے والی اور شفاء دینے والی صرف ایک ذات ہے اور وہ“ اللہ ”کی ذات ہے۔ قیامت کے دن ایک جج کا کڑا احتساب اس لیے ہوگا کہ اللہ اس سے پوچھے گا کہ انصاف کرنے والا میں ہوں، دنیا میں اپنی عوام میں انصاف کرنے کے لیے میں نے اپنی صفت (اختیار) تمہیں سونپا، تم نے میرے بندوں کے ساتھ کیسا انصاف کیا؟ غلط انصاف کیوں کیا؟ بالکل اسی طرح ایک ڈاکٹر سے بھی یہی سوال ہوگا کہ شفاء دینا میرا کام ہے لیکن دنیا میں تمہیں یہ اختیار دیا اور تم نے اس اختیار کا غلط استعمال کیوں کیا؟ “ ماسٹر صاحب کی بات تمام بچے سمجھ چکے تھے کہ خدائی صفات اور اختیارات کے مالک یہ مت بھولیں کہ یہ اختیار انہیں کس نے سونپا ہے اور کیوں سونپا ہے۔

اس وقت زمین پھٹی نہ آسمان گرا جب ایک زمینی خدا ”جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو“ نے انصاف کے لیے عدالت میں حاضر ہوئی ایک بچی کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے زیادتی (زنا) کا نشانہ بنا ڈالا۔ یہ واقعہ سندھ کے علاقہ سیہون میں پیش آیا جہاں سلمیٰ بروہی اور نثار بروہی نے پسند کی شادی کی اور گھر سے بھاگ گئے۔ گھر سے بھاگنے کے بعد دونوں شہداد کوٹ میں ایک ریسٹ ہاؤس میں مقیم تھے جہاں سے ان دونوں کو پولیس اور لڑکی کے گھر والوں نے گرفتار کیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جس نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ جائے گی یا اپنے والدین کے ساتھ۔ لیکن انصاف فراہم کرنے والا خدا اپنی حیثیت، کردار، حلف، عزت، کرسی، رتبہ، عدالتی رکھ رکھاؤ، مان اور تقدس سب کچھ بھول کر لڑکی کو انصاف دینے اپنے چیمبر میں لے گیا اور وہاں لڑکی سے زیادتی (زنا) کی جس کی تصدیق عبداللہ شاہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ نے کی۔

انصاف فراہم کرنے والے جب انصاف شکن بن جائیں تو پھر کون ہے جو دکھوں کی اس تبتی دھوپ میں سائے کا کام کرے گا؟ پولیس حراست میں کسی بھی ملزم کا ریکارڈ کیا گیا بیان عدالت میں بے بنیاد تصور کیا جاتا ہے کیونکہ پولیس تشدد کرکے اپنی مرضی کا بیان لے سکتی ہے اس لیے مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان حتمی مانا جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ملزم مجسٹریٹ کے سامنے خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، اسے یہ امید ہوتی ہے کہ یہاں میری بات سنی جائے گی۔ مانی جائے گی مجھے میرا حق ادا کیا جائے گا۔ کہیں سے کچھ نہیں ملتا تو عدالت کا دروازہ کھٹکٹاؤ، انصاف بھی ملے گا، عزت بھی ملے گی لیکن اگر عدالت میں بیٹھا انسان خود ہی ایسی گھناؤنی حرکتیں کرے تو پوچھے گا کون؟

اس سب میں قصور کس کا؟ اس لڑکی کا جس نے پہلے اپنی عزت برباد کی گھر سے بھاگ کر، دوسری دفعہ عزت لٹائی جج کے چیمبر میں؟ اس لڑکے کا جس نے اس لڑکی کو اپنی باتوں میں لگایا اور اپنے ساتھ ساتھ اس کو بھی زلیل و رسوا کیا؟ ان ماں باپ کا جو اپنے بچوں میں یہ اعتماد پیدا نہیں کرسکے کہ ایسا قدم اٹھانے سے پہلے شعوری طور پر سوچ سکیں؟ ان اساتذہ کا جو ان بچوں کو زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں سمجھا نہیں سکے؟ اس جج کا جس نے اپنی پوزیشن، حلف اور سب سے بڑھ کر خدائی طاقت کا غلط استعمال کیا؟ اس سسٹم کا جس نے ایسے لوگ عہدوں پر بٹھا دیے؟ یا ان کا جو اپنے حصے کی ڈیڑھ انچ کی مسجد بناکر بیٹھے ہیں؟ کون ہے اس کا ذمہ دار؟

قانون اور حلف کی پاسداری اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جسے حل کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ مغربی دباؤ سے باہر نکل کر اسلامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی تاکہ انصاف کمرہ عدالت میں ملے۔ کسی کو انصاف کی خاطر چیمبر کا رُخ نہ کرنا پڑے۔ اپنے اختیارات کو قانون کی بالادستی کے لیے استعمال کرنا ہوگا نہ کہ ذاتی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔ کالے کوٹ اور برقعے کی شان اور تکریم کو قائم رکھنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *