جو کیڑی سو کائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ لمبا آدمی لمبی سی گندی قمیض پہنے ہوئے تھا، گندی سی شلوار، گندی سی قمیض کے نیچے پھنسی ہوئی تھی۔ سر پر گندی سی پگڑی ٹکی ہوئی تھی۔ قمیض اور شلوار پر بہت سارے دھبّے لگے ہوئے تھے لگتا تھا کہ پہننے کے بعد سے شلوار اور قمیض دھوئی نہیں گئی ہے۔ آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں کا چشمہ لگا ہوا تھا۔ سر داڑھی اور مونچھوں کے بال سفید تھے۔ اُسے دیکھ کر لگتا تھا کہ اس نے زندگی میں کبھی بھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ہے۔

اس نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور تقریباً روتے ہوئے کہا ”سائیں میرے بہو کی جان بچالو، وہ مرگئی تو ہم سب مرجائیں گے۔ “ یہ کہتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ جوڑ لئے، جیسے معافی مانگ رہا ہو۔

میرا دل جیسے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، ایسا لگا جیسے دل کے اندر ہر طرف تیز خون کی بارش ہورہی ہے۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا۔ ”بابا سب کچھ کریں گے۔ جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے۔ پر اس کا حال اچھا نہیں ہے اس کا خون بہت چلا گیا ہے۔ جسم سے باہر سانس ٹوٹ رہی ہے۔ “

وہ اپنی تقریباً مری ہوئی بہو کو کسی گاؤں سے گدھے گاڑی پر لٹا کر لایا تھا۔ سندھ دھرتی کے کسی گاؤں کے کسی جھگی میں بچہ جننے کے بعد جو خون جانا شروع ہوا تو جاتا ہی رہا۔

گاؤں کی دائی نے فوراً ہی کہہ دیا کہ معاملہ اس کے بس میں نہیں ہے بلکہ اس کے بس سے باہر ہے۔ آٹھ دس بچوں کی کئی ماؤں کو ایسے ہی مرتے دیکھا ہے میں نے۔ نہ جانے کیا ہوجاتا ہے، بچہ تو جَن دیتی ہیں مگر خون نہیں رُکتا۔ ایسا ہی کچھ مینا کے ساتھ ہوا تھا۔

چھ اس کے بچے پہلے تھے اوراب ساتویں بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو دائی نصیبو والی نے وہی سب کچھ کیا جو ایسے موقعوں پر اس کی ماں اور ماں کی ماں اور شاید اس کی بھی ماں کی ماں کرتی رہیں تھیں۔ مگر سب کچھ کرنے کے باوجود خون رُکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

اس نے بیٹے کو کھیت پر کام کرتے ہوئے چھوڑا اورگاؤں میں موجود گدھاگاڑی پر جو کچھ بچھا سکتا تھا بچھا کر اسے لٹادیا اورنہ جانے کن کن راستوں سے مینا اور اس کی بڑی بیٹی اور بیٹے کو لے کر نواب شاہ کے سرکاری ہسپتال پہنچے تھے۔

نوابشاہ کے ہسپتال میں تو روزانہ ہی ایسے مریض آتے ہیں، آس پاس کے گاؤں دیہاتوں سے۔ ایسے علاقوں سے جہاں دیہی صحت کے مرکز ہیں مگر ان میں وڈیروں نے مہمان خانے بنالئے ہیں۔ جیسے اسکولوں کو جانوروں کے باندھنے کے اصطبل بنالیتے ہیں۔ اگر آس پاس کوئی رورل ہیلتھ سینٹر ہو بھی تووہاں جمعدار، ویکسی نیٹراور کمپاؤنڈر کے علاوہ کوئی ڈیوٹی کرنے آتا نہیں ہے۔ نرسوں کا تو ویسے بھی وجود نہیں ہے اور رہی بات ڈاکٹروں کی تو انہوں نے اپنی تقرری شہر میں کرائی ہے۔

جمہوریت اور آمریت دونوں میں یہ کام چلتا ہے۔ تنخواہ رورل ہیلتھ سینٹر سے ملتی ہے اور تقرری کسی ایسی جگہ پر جہاں کام نہیں کرنا پڑتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر تو جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ گھر بیٹھے تنخواہ اور صبح شام اپنا پرائیویٹ کام۔ ایسی عیاشی صرف ہمارے ملک میں ہی ممکن ہے۔ یہ باتیں سب کو پتہ ہیں مگر کوئی بھی کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ جو کچھ کرسکتے ہیں ان کا یہ مسئلہ نہیں ہے اور جن کا یہ مسئلہ ہے وہ کچھ کرسکتے نہیں۔ وہ صرف ووٹ دے سکتے ہیں، اپنے لاعلمی سے مجبور انہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جنہوں نے نہ پہلے کچھ کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کچھ کرسکیں گے۔

پیر بخش جیسے لوگوں کے خاندان تو ہوتے ہی اسی لئے ہیں کہ کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتے رہیں، مختلف امراض کا شکار بنتے رہیں۔ ان کی آنکھوں کے عدسے اندھے ہوجائیں، ان کے بچوں کو ٹیکے نہ لگیں، انہیں پولیو ہو، ڈپتھیریا ہو، ہیپاٹائیٹس ہو، اگر بچ جائیں تو خیر ہے اندھے ہوجائیں تو بھی ٹھیک اور مر بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ غریب کے مرنے سے کوئی طوفان نہیں آتا، کوئی دھرتی نہیں ہلتی کوئی آسمان نہیں پھٹتا، سب کچھ چلتا رہتا ہے۔ موت تو صرف ایک عام واقعہ ہے روزمرہ کا واقعہ جیسے بڑے لوگ شہر میں چکن تکہ کھاتے ہیں یا کسی چائنیز ریسٹورنٹ میں چکن کارن سوپ پیتے ہیں یا پھر صبح فوجی کارن فلیکس کا ناشتہ کرلیتے ہیں۔

کسی اور سرکاری ہسپتالوں کی طرح نواب شاہ کے ہسپتال میں بھی سہولتیں واجبی سی ہیں۔ گندہ سا لیبر وارڈ جہاں اکثر و بیشتر پانی نہیں ہوتا۔ بجلی چلی جائے تو لالٹینوں، ٹارچ، موم بتی اور موبائل فونوں کی روشنی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جنریٹر چلتا تو چل کر بند ہوجاتا اور پھر دوبارہ چلتا۔ بند ہوتا۔ چلتا اور اسی چکر میں کام کرنے کی عادت سی ہوجاتی ہے ڈاکٹروں کو۔ خون کے بینک میں ٹیکنیشن کی کمی کے ساتھ ساتھ خون کی کمی ہمیشہ ہوتی، اکثر و بیشتر خون ہوتا ہی نہیں تھا، مریض ہی اپنے رشتہ داروں کو خون دینے کے لئے لے کر آتے ہیں۔ کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ غلط قسم کا خون دے دیا گیا اورپھر خون کی پہلی بوند جاتے ہی مریض کی موت ہوگئی۔

جونیئر ڈاکٹرنیاں گھروں سے جمع کیے ہوئے خیرات زکوٰۃ کے پیسوں سے دوائیں خریدخرید کر جمع رکھتیں تاکہ ہنگامی حالات میں مریضوں کو دے سکیں۔ ایک ایک ڈاکٹر تعیناتی کے دوران کئی کئی دفعہ خود اپنا خون دیتی تاکہ مریضوں کی جانیں بچاسکیں۔

اخبارات میں یہ خبریں تو ضرور چھپتیں اور ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتیں کہ ڈاکٹر نے آپریشن کے دوران مریض کے پیٹ میں قینچی چھوڑدی جس پر سرکار تادیبی کارروائی کا آغاز بھی کردیتی، کبھی ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ بھی بن جاتا مگر یہ خبرکبھی نہیں چھپتی اور نہ ٹی وی پر دکھائی جاتی کہ سہولتوں کے نہ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں نے ان گنت جانیں اپنے خون کا عطیہ دے کر بچائیں، تنخواہیں نہ ملنے کے باوجود اپنے گھروں سے پیسے لا لا کر مریضوں کے لئے دوائیں خرید خرید کر انہیں بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ خبریں بھی نہیں چھپتی تھیں کہ سیاستدانوں اور نوکرشاہی کے گٹھ جوڑ سے تعلقات رکھنے والے ڈاکٹر اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھاتے ہیں، دنیا ایسے ہی چل رہی ہے اور شایدایسے ہی چلتی رہے گی مگر کب تک؟

مینا کو ہم لوگ نہیں بچاسکے۔ خون بہت ضائع ہوچکا تھا۔ بڈھا پیر بخش کسی نہ کسی طرح سے اسے لے کر ہسپتال تو پہنچ گیا مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ مینا کو خون بھی دیا گیا، سفید خون کی صورت میں خون کے وہ اجزاء بھی دیے گئے جن میں خون کو بہنے سے روکنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ خون بند کرنے کے لئے دوائیں بھی دی۔ گئیں یہ فیصلہ ہوا ہی تھا کہ اس کا پیٹ کھول کر بچہ دانی ہی نکال دی جائے کہ اس کے دل نے دھڑکنا بند کردیا۔ کب تک دھڑکتا ایک حد ہوتی ہے دل کے دھڑکنے کی۔ کب تک ساتھ دیتا ناکارہ ہوجانے والے گردوں کا جنہوں نے پیشاب بنانا بند کردیا تھا اس جگرکا جو اپنے ہی اندرخون کو بہنے سے نہیں روک پارہا تھا۔ جب دماغ بھی ساتھ چھوڑگیا تب اس کی ٹمٹاتی ہوئی آنکھوں نے آخری دفعہ جھپکی لی اور دل بھی بند ہوگیا۔

ایسی حالت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ روزانہ اس ایٹم بم رکھنے والے ملک میں جوان لڑکیاں اورجوان بچے بچیوں کی مائیں جان دے دیتی ہیں۔ انہیں خون نہیں ملتا، ان کے گردے ناکارہ ہوجاتے ہیں، ان کے جگر فیل ہوجاتے ہیں، ان کا دماغ کام کرنا بند کردیتا ہے پھر بے چارہ دل بھی جواب دے دیتا ہے۔

شاید موہنجودڑو کے زمانے سے یہ ہورہا ہے اورشاید آگے کے زمانوں میں بھی یہی ہوتا رہے گا۔ میں سرجھکائے پیر بخش کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس کے چہرے پر نظر نہیں ڈال سکتا تھا۔ غم و اندوہ سے بھرا ہوا چہرہ جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے کافی تھا۔ اس کا چہرہ دیکھنے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی۔

اپنی گدھا گاڑی میں اپنی بہو کی لاش لے کر وہ خاموشی سے اپنے گاؤں کی طرف واپس چلا گیا۔ میں بھی اسے اور بہت سارے مریضوں کی طرح بھول گیا۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ مریض، مریض کے رشتے دار، دوست، گھروالے، محلے والے روزانہ ہی ان لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ روزانہ ان کے ساتھ براہوتا ہے۔ کبھی نظام کی ناکامی، کبھی فرد کی نا اہلی، کبھی بجلی کا مسئلہ، کبھی پانی کا بحران۔ افسوسناک حادثے کے بعد رونے پیٹتے ہوئے لوگ اپنے گوٹھوں گھروں کو چلے جاتے ہیں اور ہر کوئی سب کچھ بھول بھال کر اپنے روزانہ زندہ رہنے کے چکروں میں چکرانے لگتا ہے۔ میں بھی پیر بخش کوبھول گیا۔

اس واقعہ کو دو سال ہوگئے تھے کہ بہت اصرار کے بعد نوشہروفیروز کے علاقے میں شکار کی دعوت ملنے پر میں بھی چلا گیا۔ میں شکاری قسم کا آدمی نہیں ہوں۔ درحقیقت معصوم بے زبان جانوروں کو مارنے والے اس کھیل کو کبھی بھی میں نے دلچسپ نہیں سمجھا۔ اکثر دوستوں کے بارے میں پتہ چلتا کہ وہ شکار پر گئے ہوئے ہیں تو مجھے حیرت ہوتی تھی کہ یہ کس قسم کا کھیل ہے جس میں جدید ہتھیاروں سے مسلح ہوکر ان نہتے جانوروں کو موت کے گھاٹ اُتاردیا جائے جو اوپر والے کی طرف سے سنسار کے اس جنگل میں آزاد گھومنے دوڑنے پھرنے کے لئے بنائے گئے ہیں مگر یہ تو میری سوچ تھی ضروری تو نہیں کہ ہر کوئی اس سوچ کو صحیح سمجھتا۔ ڈاکٹر اسرار کے بہت اصرار پر نہ جانے کیوں میں بھی ساتھ ہولیا تھا۔ شکار کیا تھا ایک میلہ تھا۔ پجارو اورچار وہیل پر دوڑنے والی گاڑیوں کا اژدھام تھا۔ یہ میری زندگی کا عجیب و غریب تجربہ تھا۔

ہوا یہ کہ سعودی عرب سے آئے ہوئے کچھ شہزادوں کے لئے علاقے کے بڑے زمیندار کی طرف سے شکار کا اہتمام کیا گیا۔ درپردہ شاید کچھ اور ہی مقاصد رہے ہوں گے شاندار انتظام کیا گیا تھا۔ جنگل کے بیچوں بیچ چھولداریوں کا ایک شہر آباد کردیا گیا تھا۔ دن بھر جنگل میں کچے راستوں پر گاڑیاں دوڑتی رہیں تھیں۔ شہزادوں کے لئے کہیں پر پہلے سے پکڑے ہوئے ہرن چھوڑدیئے گئے اور کہیں پر تیتر اُڑادیئے گئے کہ ان کا شکار کرلیا جائے۔ شام کے بعدچھولداریوں میں نہانے دھونے، کھانے پینے اورناچنے گانے کے ساتھ ہر قسم کا انتظام تھا۔ ایسا انتظام میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ پانچ ستاروں والے ہوٹلوں کے کمروں جیسی پھولداریاں تھیں، گرم پانی تھا اور کھانے کے لئے ہر قسم کے کھانے اور پھلوں کے ساتھ پینے کی بھی ہر چیز موجود تھی۔

رات گئے تک پارٹی چلتی رہی۔ دوسرے دن دوپہر کے کھانے کے ساتھ ناشتے کا انتظام تھا۔ ایسا انتظام کے ہوٹل بھی شرماجائیں۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ مالداروں کے پاس کتنا پیسہ ہے اوردنیا بھر کے مالدار اپنے معاملات میں یکساں ہیں، متحد ہیں اور مستعد ہیں۔ اس رات شکار کے بعد عیش و عیاشی کے مظاہر تھے۔ وہ ساری باتیں شاید میں کبھی بھی نہ بھول سکوں۔ میں نے وہ سب جو کچھ دیکھا جو میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھا۔

تین دن شکار کے نام پر ہونے والی عیش و عیاشی کے بعد شہزادے اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں پنجاب کی طرف روانہ ہوگئے۔ جہاں ان کا پروگرام چولستان اورملتان کے صحراؤں سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچنا تھا۔

میں اور اسرار ایک دن کے لئے اور رُکے تھے۔ علاقے کے بڑے زمیندار کے باپ کی بیماری میں اسرار کا علاج چلا تھا اور اسرار کی خصوصی مہمانداری ضروری تھی۔ جس کے لئے اسے اوراس کے ساتھ مجھے بھی روک لیا گیا۔ حویلی کی زندگی کا تجربہ بھی پہلا تھا۔ روپے پیسوں کی زیادتی سے جو کچھ ہوسکتا وہ سب کچھ دیکھنے کوملا۔ قدیم اورجدید دنیا کا امتزاج نظر آیا۔ ایئرکنڈیشنڈ، مائیکروویو، گیس اوربجلی سے چلنے والے لوازمات کے ساتھ پرانے ہندوستان کے غلاموں کی طرح کے ہاری اور مزدور بھی تھے۔ مغلوں کی کیا شان ہوگی جو آج کے زمینداروں کی شان ہے۔ دیکھنے کے لئے بہت کچھ تھا۔ سمجھنے کے لئے بھی بہت کچھ اور کرنے کے لئے بھی بہت کچھ۔ مگرایسا لگتا تھا کہ دنیا جیسے اپنی جگہ پر تھم گئی ہے، ساکت جامد۔

اس دن دوپہر کھانے کے بعد واپسی ہوئی۔ کھیتوں کے درمیان سے پتلی سی لہراتی ہوئی سڑک کے ساتھ چلتے چلتے ایک جگہ گاڑی روک کر میں کھڑی ہوئی فصل کی تصویر لے رہا تھا کہ مجھے وہ نظر آیا۔ وہی لمبی سی گندی سی شلوار قمیض، وہی چہرہ اور چہرے پر سفید داڑھی اور وہی بڑی بڑی آنکھیں جن میں موٹے شیشے کا عینک لگا ہوا تھا۔

وہ ایک درخت کے نیچے چھ سات بچوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں اسے فوراً ہی پہچان گیا اور وہ بھی مجھے پہچان کر کھڑا ہوگیا۔

”یہ سارے اُسی کے بچے ہیں سائیں۔ “ اس نے بڑی مایوسی سے مگر مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ لگتا تھا کہ سارے ہی بچے کھیتوں پر کام کررہے تھے۔ لڑکے اورلڑکیاں سب ہی لوگ۔

”یہ اسکول نہیں جاتے ہیں۔ “ میں نے سوال کیا۔

اسکول جاتے تھے پر مینا کے علاج پر جو خرچہ آیا اسے تو دینا ہی پڑے گا۔ سارے کے سارے زمینوں پر کام کرتے ہیں تو جا کر کچھ کھانے کے لئے کماتے ہیں، زمیندار کا قرضہ تو چکانا ہوگا۔ بوڑھے کی آواز جیسے کسی کنویں سے آرہی تھی۔

میں سوچ ہی رہا تھا کہ کیا بولوں کہ وہ آہستہ سے بولا۔

”وہ بڑی اچھی عورت تھی ڈاکٹر اس کا شوہر میرا بیٹا تو پاگل ہی ہوگیا ہے اس کی موت کے بعد سے۔ کچھ بھی نہیں کرتا ہے۔ نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے بس سوچتا رہتا ہے اور لگتا ہے ایک دن ایسے ہی مرجائے گا، دو سال میں وہ ختم ہوگیا۔ پہلے اس کی ہمت ٹوٹی اب جسم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ بیٹا میرا ہے پر مجھ سے زیادہ بوڑھا ہوگیا ہے۔ “ اس نے بڑے افسوس سے کہا۔

اس کے چہرے پر چھائی ہوئی گھمبیر سنجیدگی سے مجھے جیسے خوف سا آیا۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی ڈبڈبائی آنکھوں سے تقریباً روتے ہوئے کہا۔

”اسے مرنا نہیں تھا ڈاکٹر کیوں مرگئی، وہ کیوں مرگئی۔ سب کو چھوڑ کر اکیلا، ابھی دیکھا ہی کیا تھا اس نے دنیا میں“

میں اس سے کچھ نہیں کہہ سکا، میں نہیں کہہ سکا اس سے کہ وہ اس لئے مرگئی کہ سندھو دریا کے ساتھ سندھ دیش کی دھرتی بھی بنجر ہوگئی ہے، سندھو ماں کی کوکھ بانجھ ہوگئی ہے وہ بیٹے نہیں جنتی بیوپاری جنتی ہے جو عربوں کے لئے، جھولداریوں کا شہر بساتے ہیں جہاں راگ و رنگ کی محفل میں سندھی عورت کو بیچ دیتے ہیں تاکہ انہیں مراعات ملیں انعامات ملیں، بخششیں ملیں۔ پہلے بھی پیربخش جیسے لوگ ہاری بن کر اپنے آپ کو بیچتے تھے وہ ابھی بھی اپنے آپ کو بیچ رہے ہیں قرضہ چکانے کے لئے لیکن پہلے امید تھی اب امید بھی نہیں ہے۔ اب ہاری فقیر ہیں اور مزدور بھکاری، پڑھنے لکھنے والے عالم لوگ اپنی ٹوپی اور داڑھی کے ساتھ دیکھتے ہیں، خاموش رہتے ہیں، کس میں دم ہے کہ کھڑا ہو اور کھڑا ہوکے کہے جو کیڑی سو کائی۔ کوئی نہیں کبھی نہیں۔

میں یہ سب کچھ سوچتا رہا کہہ نہ سکا، اسے دیکھتا رہا جس کے پوتے پوتیاں کھیتوں میں اُتر رہے تھے کسی کے لئے کمانے کو، کسی قرضے کو چکانے کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *