نواز شریف واپس آ رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آٹے کے گھاٹے پر ایوب دور میں انقلابی شاعر حبیب جالب نے سناٹے کا نوحہ پڑھا تھا۔ اس سے قبل یہی کردار مشرف دور میں آٹا آٹا کرتے حکومت کو ٹاٹا کر چکے ہیں۔ اب تک کا سیاسی منظر نامہ ہمارے گذشتہ تجزیوں بلکہ پیش گوئیوں کے مطابق چل رہے ہیں۔ جناب وزیر اعظم آج کل موجودہ پی ایم ہاٶس اور مجوزہ یونیورسٹی کے وسیع و عریض اور سر سبز و شاداب لان میں بیٹھ کر دھوپ تاپنے کو ہر چیز پر ترجیح دے رہے ہیں۔ خارجہ محاذ منجھے ہوئے سیاسی کارکن اور پہنچے ہوئے بزرگ شاہ محمود قریشی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ داخلی میدان میں جہانگیر ترین اور پرویز خٹک روٹھے ہوئے اتحادیوں کو رام کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ہم نے دو ڈھائی ماہ قبل لکھا تھا کہ مولانا کے دھرنے کا دھڑن تختہ ہو جائے گا اور وہ خالی ہاتھ دامن جھاڑ کر اس طرح اٹھ جائیں گے جس طرح اردو اور فارسی شاعری کا روایتی عاشق رسوا ہو کر محبوب کی گلی سے اٹھتا ہے۔ ہم نے اس وقت نواز شریف کے باہر جانے کی خبر دی تھی جب کپتان، شیخ رشید، مرادوں سے مانگے سعید اور فردس آپا و فواد چودھری دن میں درجنوں بار ہمیں باور کروایا کرتے تھے کہ ہم نے کسی کو نہیں چھوڑنا، این آر او نہیں دینا، مافیا سے بلیک میل نہیں ہونا اور کسی کے دباٶ میں نہیں آنا۔

پھر سب نے دیکھا کہ ڈرامائی انداز میں نہ صرف نواز شریف باہر گئے بلکہ مبلغ پچاس روپے کے اسٹام پر ضامن شہباز شریف بھی ان کے ہمراہ چلے گئے۔ آج کل این آر او نہ دینے کا راگ الاپنے والے یہی کردار صبح و شام ہمیں یاد دلا رہے ہیں کہ مریم نواز کو کسی قیمت پر لندن نہیں جانے دیں گے مگر ہمارا خیال ہے کہ بہت جلد مریم نواز کی خاموشی رنگ لائے گی اور وہ اپنے والد کے پاس ہوں گی۔ نواز شریف کی چائے کی پیالی پر طوفان اٹھانے والے نواز شریف کو بظاہر صحت مند، تندرست اور پر عزم دیکھ کر یہاں پیچ و تاب کھا رہے ہیں۔

نواز کے حریف انہیں بستر مرض پر پڑے ہوئے بیمار، لاغر، مجبور، عاجز، بے بس اور اپنے سامنے ملتجی و خمیدہ کمر دیکھنے کے متمنی ہیں مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ نواز شریف نے جھکنا سیکھا ہوتا تو آج چوتھی بار وزیر اعظم ہوتے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بل کے حق میں ووٹ دینے کے حوالے سے ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ن لیگ ووٹ ضرور دے گی۔ ایکسٹینشن کی سمری میں پے در پے غلطیاں کر کے آرمی چیف کو شٹل کاک بنانا اور ن لیگ، پیپلز پارٹی کا ترمیم کے حق میں ووٹ دینا بھی طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ اب تک ہر چیز طے شدہ حکمت عملی کے مطابق جاری ہے۔ آٹے کا بحران اور اتحادیوں کی ناراضی بھی اسی منصوبے کی کڑیاں ہیں۔

آج لوگ نواز شریف کے واپس نہ آنے کی تکرار کر رہے ہیں ان کے لیے بریکنگ نیوز ہے کہ نواز شریف مارچ کے اختتام یا اپریل کے اوائل میں واپس آجائیں گے اور اس سے بھی بڑی بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ان کی آمد سے قبل ہی ان پربننے والے بیشتر کیسز ختم ہو چکے ہوں گے۔ تبدیلی سرکار کے بارے میں ان ہاٶس تبدیلی کی خوشخبری سنانے والے اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر نواز شریف اس کام کی اجازت د ے دیتے تو یہ انہونی کم از کم چھ ماہ قبل برپا ہو چکی ہوتی۔

اس کے مقابلے میں نواز شریف مڈ ٹرم الیکشن چاہتے ہیں اور وہ لندن سے واپس آتے ہی پانچ ووٹوں پر کھڑی کمزور حکومت کے خلاف احتجاج کی بھرپور تحریک کا آغاز کریں گے جس کے نتیجے میں پنجاب میں پہلی وکٹ وسیم اکرم پلس اور شیر شاہ سوری عثمان بزدار کی گرے گی۔ اس کے بعد ستمبر سے پہلے پہلے اس حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس سال کے اواخر یا اگلے برس کے اوائل میں مڈ ٹرم الیکشن ہوں گے اور ن لیگ بھاری مینڈیٹ لے کر دوبارہ حکومت میں آئے گی۔

جو لوگ شہباز شریف کو اگلا وزیر اعظم دیکھ رہے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں کیونکہ ہمارے تجزیے اور معلومات کے مطابق محترمہ مریم نواز پاکستان کی دوسری خاتون وزیر اعظم منتخب ہو کر تعمیرو ترقی کا سفر پھر سے وہاں سے شروع کریں گی جہاں 2017 میں نواز شریف نے چھوڑا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کپتان کی کنٹینر زدہ اور الزام و دشنام کی سیاست کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *