کیونکہ ہم جنت میں رہتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آؤ اپنی مرضی کریں کیونکہ ہم جنت میں رہتے ہیں۔ 1933 میں نجانے چوہدری رحمت علی کو کیا سوجھی کہ انہوں نے اپنے پمفلٹ کے ذریعے ایک نئی مملکت کا نام پاکستان تجویز کر دیا۔ اگر وہ اس کانام جنت رکھ دیتے تو ہمیں کتنی آسانی رہتی، اگلے جہاں جنت ملتی نہ ملتی اس جہان میں تو جنت میں رہتے۔ اور یوں اگلے جہان میں ملال بھی ذرا کم ہوتا۔

دراصل پاکستان ہے تو جنت ہی بس نام اس کا پاکستان ہے کیونکہ یہاں آپ کو جنت کی طرح اپنی مرضی کرنے کی خوب آزادی حاصل ہے۔ وہی آزادی جو جنت میں بھی دستیاب ہوگی کہ آپ جیسا سوچیں گے ویسا ہی ہو جائے گا۔

کچھ دن قبل لاہور کے مضافات میں ایک کالج کے بچوں کے ساتھ مستقبل بینی پر گفتگو کے بعد ہم اپنے میزبان کے ہمراہ ایک ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے باہر کی ٹریفک کو دیکھتے رہے جو آہستہ آہستہ ایک ہجوم کی شکل اختیار کرنے لگی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ قریب ہی ایک ہفتہ وار بازار لگتا ہے جس کی وجہ سے یہ صورتحال بن گئی ہے۔ خیر کھانے کے بعد واپسی کی راہ لینا تھی لیکن اس دشوار گزار ٹریفک میں واپس مڑنا گویا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا تو فیصلہ یہ ہوا کہ چلیں قریب کی پوش آبادی سے نکلتے ہوئے رنگ روڈ کی جانب سے جایا جائے۔ لیکن اس پوش آبادی کے اندر بھی ٹریفک کی ابتر صورتحال نے ایک مرتبہ پھر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ہم کدھر کو جارہے ہیں؟

اتنی تعلیم، ڈگریاں اور دولت آجانے کے باوجود اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ احساس اور قربانی نامی کسی جذبے سے گویا ہم واقف ہی نہیں۔ جلدی اتنی جیسے فائر بریگیڈ کی خدمات ہم ہی سر انجام دے رہے ہیں۔

واضح دو رویہ سڑک کے باوجود بھی جس کا جیسے دل چاہے گاڑی چلا رہا ہے اور پھر غلط راستے پر ہونے کے باوجود ہارن سے ہاتھ اٹھانا تو گویا بھول ہی گئے ہیں۔

میرے جو چند دن یورپ کے ایک ملک میں گزرے اس کے جس بھی شہر میں رہے ہم ہارن اور ازان کی آواز کو ترستے رہے۔ لیکن ہارن بجائے بغیر بھی ان کی ٹریفک بڑی خوبصورتی سے رواں دواں تھی۔ وہاں تو پیدل چلنے والوں کی اتنی قدر تھی کہ ہم اتنی عزت پانے پر اکثر شرمندہ ہوتے اور جب پاکستان واپسی ہوئی تو یہاں اسی سلوک کے متمنی نجانے کتنی مرتبہ دل تڑوا بیٹھے اور بالآخر یہ تسلیم کر ہی لیا کہ ”شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور“

مزید آگے بڑھنے پر ایک عجیب ہی منظر نامہ تھا کہ دن دیہاڑے سوسائٹی کی ایک سڑک کی مرمت کے لئے عام گزرگاہ جو سبھی کو رنگ روڈ کا راستہ دکھاتی ہے اس کو بند کر رکھا تھا حالانکہ اس طرح کے کام عموماً رات کو کیے جاتے ہیں جس وقت ٹریفک برائے نام ہوتی ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے کافی عرصہ پنجاب کمیونیکیشن اور ورکس ڈیپارٹمنٹ میں رہے ہیں تو وہ اکثر بتایا کرتے تھے کہ کس طرح رات کے آخری پہر وہ کام کروایا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ یہ جنت ہے اور آپ اپنی مرضی کر سکتے ہیں۔

رہائشی آبادی ہے اور چند پیسوں کے عوض کمرشل بنا لیں، پانچ مرلے کے گھر میں دو دکانیں نکالیں کیونکہ آپ جنت میں رہتے ہیں۔

آپ کا جہاں دل کرے گاڑی پارک کر لیں کیونکہ آپ جنت میں رہتے ہیں۔

غلط لائن میں اشارے کے سامنے رک جائیں، اشارہ کھلنے پر اپنی راہ لینے کے لئے باقی ساری ٹریفک کے لئے پریشانی کا باعث بنیں، کسی اور کی گاڑی کو ہٹ کریں، اسے برا بھلا بھی کہیں کیونکہ آپ جنت میں رہتے ہیں۔

جہاں دل کرے ہسپتال بنالیں لیکن پارکنگ کی جگہ عام راستے کو استعمال میں لے آئیں کیونکہ آپ جنت میں رہتے ہیں۔

جب دل کرے، اشیاء ضرورت کا ریٹ بڑھا دیں یا ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعات قلت پیدا کریں کیونکہ آپ جنت میں رہتے ہیں۔

رمضان کا مہینہ تو ویسے ہی پاکستانیوں کے لئے جنت ہے۔

جنت میں رہنے والے پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے جو کہ دائمی یے اور وہ بھی جنت میں گزاری جا سکتی ہے لیکن اس کے لئے یہاں والی کچھ مرضیاں چھوڑنی پڑی گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *