عشق، پیار، محبت
ان الفاظ کو پڑھ کر ذہن میں ایک رومانوی تصور جنم لیتا ہے اور ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ٹھہر جاتی ہے۔ کئی ایسے ہوں گے جو ماضی کی کسی یاد میں کھو جائیں گے، وہ یادیں جو خوب صورت بھی ہو سکتی ہیں اور ایسے لمحوں پر مشتمل بھی جن میں تکلیف کے سوا کچھ نہیں۔ میں نہیں کہتی کہ سب کہ ساتھ یہ کیفیات ہوتی ہوں گی لیکن ہم میں سے اکثر محبتوں کے اس دور سے ضرور گزرے ہوں گے۔ خیر اس قلیل و کثیر کی بحث کو چھوڑ دیتے ہیں۔
کیا عشق، پیار، چاہت ایک ہی جذبے کے مختلف نام ہیں۔
وہ کیا ہے جو ان جذبات کو جنم دیتا ہے۔
کیا یہ صرف ایک نفسانی دھوکہ ہے یا ایک حقیقی کیفیت۔
پہلے عشق کی بات کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ نویں جماعت میں آ کر معلوم ہوا کہ جی عشق بھی دو قسم کے ہیں جب ٹیچر اشعار کی تشریح کے دوران سمجھا رہی ہوتی تھی کہ اس شعر میں شاعر کی مراد عشق حقیقی ہے اور کبھی عشق مجازی اور کبھی دونوں۔ عشق حقیقی وہ جو بندے کو اپنے رب سے ہوتا ہے اور اس کی برعکس عشق مجازی جو ایک عام انسان کسی دوسرے انسان سے کرتا ہے۔ ۔
میرے نزدیک عشق ہی تھا جو وجہ تخلیق کائنات بنا۔ یہ عشق ہی تھا جس نے حق کی آواز بلند کی، جو کفر کے آ گے ڈٹ گیا جس کے لئے اقبال نے کہا
بے خطر کود پڑا آ تش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
عشق حقیقی کی جتنی ہی مثالیں لے لیں ان سب میں ایک چیز مشترک نظر آتی ہے کہ وہ ہے بے نیازی۔ اپنی ذات کے مفاد کو یکسر بھلا کر اپنے خالق کی رضا پر راضی ہو جانا۔ وہ کیا چاہتا ہے بس اسی کو چاہت بنالینا یہی اس عشق حقیقی کی صفت ہے۔ مگر کیا عشق مجازی یہ نہیں چاہتا کہ عشق نام ہے اپنا آ پ نچھاور کر دینے کا، خود کو اس راہ کا مسافر بنا لینے کا جس کی منزل در محبوب کے سوا کچھ نہیں۔ محبوب کا ساتھ اس کی رضا کا حصول ہی ایک عاشق کا مقصد زندگی۔ لیکن ایک بہت بڑا فرق جو عشق حقیقی اور مجازی میں صاف موجود ہے کہ رب کائنات سے عشق میں اپنا آ پ لٹا کر نامرادی کا ڈر نہیں ہوتا وہ اپنے محبوب کو اتنا نوازتا ہے کہ دامن کم پڑجاتا ہے خالق کی محبت میں انسان خود سر چشمہ محبت بن جاتا ہے۔ عشق مجازی میں ایسی کوئی ضمانت نہیں ناکامی اور نامرادی آ پ کا مقدر بن سکتی ہے لیکن اگر یہ عشق ہے تو پھر کیا جیت اور کیا ہار۔
پیار، اس لفظ کی کٹوتی میں چھپے الفاظ بھی پیار بھرے جیسے پیر، یار، پیا اور پار۔ اس لفظ میں کہیں کوئی مطالبہ نہیں کوئی ترجیح نہیں کسی تبدیلی کی خواہش نہیں۔ پیار کا آ غا ز ہوتا ہے پسندیدگی سے۔ کوئی ایسا زندگی میں آ جاتا ہے جس کا ساتھ اور حصول ہماری خواہش بن جاتا ہے۔ اس میں کچھ برا اور انوکھا نہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے بس غلط جب ہوجاتا ہے جب اس میں صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ جب ہم کسی سے پیار کرتے ہیں تو یہ پیار ہم اس سے نہیں بلکہ اپنے آ پ سے کرتے ہیں اور پھر اس میں ہوئی ہر غلطی، ہر گناہ ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ پس ہمیں اس غلط سے بچنا ہے اپنے لئے اس پیار کے لئے جس کا ہم دعوہ دار ہیں۔ حاصل کی امید رکھ کر اس مسافت کو ایسے اختیار کرنا کہ یہ خیال رہے کہ ہو سکتا ہے یہ سفر لا حاصل ہو ہمیں اس راہ سے نامراد لوٹنا پڑجائے۔
پیار محبت اور عشق کے جذبات کا وجود ازل سے ہے، ہر رنگ، نسل، زبان، ملک اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس کو محسوس کرتے ہیں مذہب اور معاشرہ ہمیں اس جذبے کے حصول اور تکمیل کے لئے شادی کا خوب صورت اور مقدس تعلق دیتا ہے۔
پیار، محبت، عشق اور شادی یہ تمام خوبصورت تعلق ایثار، قربانی، خلوص، چاہت، بے غرضی اور وفاداری کا مطالبہ کرتے ہیں یہی ان کی پائیداری، حسن اور قائم رہنے کی وجہ۔
موجودہ دور میں جہاں سب کچھ بدل رہا ہے وہیں اس جذبے کی ترجیحات اور معیار بدل گئے ہیں۔ اب سب کچھ پالینے کی خواہش میں اکثر کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا صرف زندگی اور ذات کا ادھوراپن اور تنہائی رہ جاتی ہے۔ پسند پیار میں بدلنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے یا کسی اور کی تلاش میں سرگرداں۔
ایک خوبصورت اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے حقیقی اور پائیدار جذبوں کی بنیاد ضروری ہے۔ آ پ کیا کہتے ہیں؟


