اسلامی نظریاتی کونسل میں IRCRA کی طرف سے تین روزہ قومی ورکشاپ بعنوان ”اسلام اور جمہوریت: متبادل بیانیہ“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے باہم اشتراک سے تین روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس کا موضوع ”اسلام اور جمہوریت: ایک متبادل بیانیہ“ تھا۔ مولانا تحمید جان نے اپنے تعارفی کلمات سے ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز کیا اور شرکاء کے سامنے یہ بات لائی کہ کس طرح انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کئی سالوں سے علماء کی تربیت کی بابت خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علماء بھی جمہوری اقدار کے پرچار میں برابر کے شریک ہوں اور یہ کہ اختلاف رائے کی قدر کرنا ایک پر امن معاشرے کی تشکیل کی ضامن ہے۔

لی ولسن، سینئر پروگرام افسر نیشنل انڈومنٹ فار ڈیموکریسی، نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا بہت پرامن بن چکی ہے۔ اگر ہم آج کا موازنہ گزشتہ چند دہائیوں سے کریں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا میں امن وامان حقیقی معنوں میں آیا ہے اور یہ اس لئے ممکن ہوا کہ دنیا کہ تمام حکومتوں کا میلان جمہوریت کی جانب ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ ممکن ہے جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری افعال وجود میں آئیں جن کا سدّباب جمہوری طرز سے ہی ممکن ہوگا۔

بیرسٹر ظفر اللہ خان نے کہا کہ جمہوریت ایک حکمران سے دوسرے حکمران کو اقتدار کی منتقلی کا سب سے پر امن طریقہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کی یہی خوبی اس کو ایک عالمگیری حمایت نوازتی ہے۔

خورشید ندیم نے اپنے خیالات کو زبان کی قید سے آزاد کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو غور و فکر کی نعمت سے نوازا گیا ہے، یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ سوالات کرنے اور تحقیق کی روایات ہمیشہ برقرار رہے۔ مزید انہوں نے کہا یہ عمل ایک ایسے معاشرے کو پروان چڑھائے گا جوکہ معقولیت پسندی کی بنیاد پر ہوگا اور یقیناً یہی سوچ و بچار جمہوریت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔

ظفر اللہ خان نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل درپیش ہونے کی صورت میں آئین کی طرف رجوع کرنا چاہیے کیونکہ آئین میں متعدد مسائل کا حل موجود ہے۔ صدارتی اور پارلیمانی طرز حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ پارلیمانی طرز حکومت ہی دراصل جمہوری ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق یاسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، لہذا یہ ضروری ہے کہ تمام مذہبی سکالرز جن کا تعلق خواہ کسی بھی مکتب فکر سے ہو کہ وہ باہمی مکالموں میں شرکت کریں جس کے ذریعے سے جمہوری اقدار اور اصولوں کو فروغ ملے گا۔ شرکاء کو اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کونسل سالوں سے اسی کوشش میں ہے کہ قوانین کو اسلامائز کیا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کسی بھی قسم کی مسلح جدوجہد اس ملک کے مستقبل کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ پیغامِ پاکستان وہ واحد دستاویز ہے جو وطن کے خلاف ہتھیار کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور ریاست کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشتگردی سے نمٹنے کی کوشش کرے۔ جمہوریت یہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کی پرچار ہر سطح پر ہو۔

اس تین روزہ ورکشاپ میں ملک بھر سے نوجوان سکالرز اور مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علما اور مدارس سے فراغت پانے والے مذہبی سکالرز نے بھرپور شرکت کی، انہوں نے روادرای اور جمہوری اقدار کے فروغ اور تشہیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا اعادہ کیا نیز انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ جمعہ کے خطبہ یا دیگر ذرائع اظہار نظریات کے ذریعے جمہوری روایات کے فروغ اور پاکستانی آئین کے ساتھ وفاداری کا درس دیتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *