لنگر خانے یا معاشی مساوات!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں مزید لنگر خانے کھولنے اور بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے تحت وظیفہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں اس نوع کے نمائشی اقدامات سے تخفیف غربت کیسے ممکن ہو پائے گی اس کا ادراک تو صاحبان اختیار کو ہو گا جو ایسے فیصلوں سے غربت کے کوہ ہمالیہ کو زیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسے فیصلے کرنے کے مشورے اور تجاویز حکمرانوں کے کانوں میں ڈالے جاتے ہیں یا پھر حکمران وقت خود ہی اتنا ”صاحب فہم و ذکاء“ ہوتا ہے کہ ایسے منصوبے ان کی نخل فکر پر پھوٹتے رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں پرویز مشرف کی کابینہ کے ایک صاحب کا سنایا ہوا ایک قصہ یاد آگیا ہے۔ مشرف کی کابینہ کے ایک رکن جو اپنی یاداشتوں کو قلمبند کر رہے ہیں ان کے بقول ایک روز پرویز مشرف نے کابینہ میں اعلان کیا کہ غربت کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں لنگر خانے کھولے جائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے روالپنڈی میں پہلے لنگر خانے کے افتتاح کے لیے تیاریوں کا حکم صادر کیا۔ بقول ان صاحب کے پرویز مشرف پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسنے لگے اور غربت کے خاتمے کے لیے اس نادر نسخے کو پیش کرنے کے پر ان کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔

کابینہ کے رکن ان صاحب کے بقول جب ستائش و تعریف کا طوفان تھما تو انہوں نے مشرف صاحب سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر یہ صاحب گویا ہوئے کہ سر غربت کے خاتمے کے لیے لنگر خانے کھولنے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے۔ اس کے ذریعے بھکاریوں کی ایک نئی نسل تیار ہوگی جنہیں ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر دو وقت کی روٹی مفت میں ملتی رہے گی۔ ان صاحب نے کہا کہ غربت کا خاتمہ ان نمائشی اور سطحی اقدامات سے ممکن نہیں۔

مشرف کا دور لد گیا تو آصف علی زرداری کا دور قوم کو بھگتنا پڑا۔ ان کے ”زرخیز ذہن“ نے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا تحفہ قوم کو دیا جس میں گھر بیٹھے چند ہزار کی رقم مستحقین کو دی جانے لگی۔ اس پروگرام کے ذریعے غربت میں کس قدر کمی آئی وہ آج بھی اس ملک میں بلند شرح غربت سے ظاہر ہے۔ اس پروگرام کے فنڈز کو سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے ساتھ اپنوں اور غیروں نے خوب مزے اڑائے۔ حال ہی میں اعلیٰ سرکاری افسران کی جانب سے اس فنڈز کو اپنی بیگمات کے نام پر وصول کرنے کا جو انکشاف ہوا اس نے اس پروگرام کا پول کھول دیا ہے کہ کس طرح اربوں روپے کے اس پروگرام کے فنڈز میں خرد برد کی گئی۔

تحریک انصاف کی حکومت نے چند افسران کو اس سلسلے میں سرکاری ملازمت سے بھی معطل کرکے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اب تحریک انصاف کی حکومت نے خود لنگر خانے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک لنگر خانے کا افتتاح کچھ عرصہ پہلے ہوا تھا۔ اب حکومت نے مزید لنگر خانے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ لنگر خانوں کے ذریعے غربت کے خاتمے کا نسخہ برسوں پرانا ہے اور نئی بوتل میں پرانی شراب ڈالنے کا ازکار رفتہ اور دقیانوسی خیال ہے جس سے مفت روٹیاں توڑنے والوں کا ایک نیا ٹولہ پیدا تو ہوگا لیکن غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔

غربت کا خاتمہ خیرات سے نہیں معاشی مساوات سے ہوگا۔ معاشی مساوات کی راہ سہل نہیں بلکہ ایک مشکل اور پر خطر ہے۔ اس کے لیے وژن کے ساتھ عزم صمیم اور فولادی ارادوں کی ضرورت ہے۔ جب اس ملک کی معیشت پر مافیاز کا قبضہ ہو اور قدم قدم پر ان مافیاز نے جال بچھا رکھے ہوں تو پھر لازمی ہے کہ آپ کو محتاط ہونا پڑے گا۔ تاہم جب یہی تجارتی اور معاشی مافیاز حکومتوں میں شامل ہوں یا ان کی مرضی و منشاء کے بغیر ایک پتا بھی نہ ہلے تو پھر کس طرح غربت کا خاتمہ ہو پائے گا؟ جب حکمران کسی معاشی وژن سے بے بہرہ ہوں اور ان ٹھوس اقتصادی اقدامات اٹھانے سے قاصر ہوں تو پھر سرکاری فنڈز پر چند ہزار کے وظیفے اور لنگر خانے ہی حکومت کے معاشی وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے مقدر میں چور، خائن، روشن خیال اور ایماندار جتنے بھی حکمران آئے وہ سب سرکاری فنڈز پر وظیفوں کی تقسیم اور لنگر خانے کے کھولنے کے فن میں طاق ہیں لیکن معاشی مساوات کے ذریعے تخفیف غربت کے ہنر سے قطعی طور پر نابلد۔ ملک میں اس وقت معاشی حالات اس قدر دگرگوں ہیں اس کا انداذہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ عوام کی آہ و زاریاں بلند سے بلند تر ہو رہی ہیں جن میں آئے روز مہنگائی کے نئے جھٹکے شدت پیدا کر رہے ہیں لیکن حکمران ہیں کہ لنگر خانوں کے ذریعے قوم کو دکھوں کے مداوے کی بے کار مشق میں لگے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *