ریاست کے مفادات پر مبنی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کو ریاستی سطح پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک مسئلہ ریاست کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔ ہماری سیاست اور سماج اپنی جگہ لیکن ریاست سے جڑے مفادات کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ عمومی طور پر ہم حکومت اور ریاست کے درمیان جو فرق ہوتا ہے اسے نظرانداز کرکے ایک ایسا موقف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ریاست کے مفادات کے لیے ٹکراؤ کا پہلو پیدا کرتا ہے۔ داخلی اور خارجی مسائل کو بنیاد بنا کر ہم ایک ایسے حل کی طرف بڑھ سکتے ہیں جو ریاست، حکومت اور معاشرہ کے باہمی تعلق کو مضبوط بنائے۔ بداعتمادی کی سیاست چاہے وہ کسی بھی فریق کے بارے میں ہو ریاستی امور کو کمز ور کرنے کا سبب بنتی ہے۔

ریاست سے مراد اداروں کی بالادستی اور تمام اداروں کا اپنے اپنے قانونی او رانتظامی دائرہ کار میں کام کرنا ہوتا ہے او رایک دوسرے کی مدد سے معاونت کا عمل پیدا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کے برعکس ہم ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت کی بجائے الزام تراشیوں کی مدد سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یقینی طور پر اس کا نتیجہ اداروں کے درمیان ایک بڑے ٹکراؤ کو پیدا کرتا ہے جو عملی طور پر ریاستی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔

پچھلے دنوں کوالمپور کانفرنس کے تناظر میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے کافی ماحول میں تلخی نظر آئی۔ میڈیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاست او ر حکومت نے اپنی کمزوری اور سعودی عرب کے دباؤ پر اس کانفرنس میں عدم شرکت کا فیصلہ کرکے ریاستی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ بھی وزیر اعظم عمران خان کا تھا اورانہوں نے ہی اس فیصلہ پر ملائیشیا اور ترکی کو اعتماد میں لیا تھا۔

یہ بات سمجھنے کی ہے اس کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ دنیا میں اسلام فوبیا کے حوالے سے تھا۔ خیال یہ کیا گیا تھا کہ ہمیں مل کر دنیا میں اسلام مخالف فوبیا کا مقابلہ کرنا ہے او راس کے لیے ہمیں اپنا ایک علیحدہ میڈیا بھی چلانا ہوگا۔ یہ کانفرنس اسی نکتہ کے گرد گھومتی تھی۔ اس میں پاکستان، ترکی اور ملائشیا شامل تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس کانفرنس کا کیونکر بایکاٹ کیا اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔ اس میں تین پہلو ایسے آئے جس پر مسائل سامنے آئے۔ اول پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر اس کانفرنس میں قطر اور ایران کی شمولیت تھی۔ دوئم یہ تاثر کانفرنس کے ابتدا ہی میں قائم کیا گیا کہ غالبا یہ کانفرنس او آئی سی کے متبادل کوئی فورم ہے جسے قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوئم اس کانفرنس کے انعقاد یا تاریخ رکھنے سے قبل ہم نے سعودی عرب کے تحفظات کو دور کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی او رسعودی عرب میں یہ تاثر گیا کہ یہ کانفرنس ہمارے مفادات کے خلاف ہے اور اس کانفرنس کو بنیاد بنا کر کوئی پس پردہ سازش تیار کی گئی ہے۔ چہارم پاکستان نے اس کانفرنس میں قطر اور ایران کی شمولیت پر اعتما د میں نہ لینے پر کوئی بڑے سوالات نہیں اٹھائے۔ یہ ہی وجہ بنی کے سعودی عرب اس کانفرنس میں پاکستان کی اپنی شمولیت کے بارے میں بھی تحفظات رکھتا تھا۔

اس کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے پوری کوشش کی کہ ہم کسی نہ کسی شکل میں سعودی عرب کے تحفظات کو دور کرسکیں اور کوشش کریں جو اعتماد سازی کا بحران سامنے آیا ہے اسے دور کیا جاسکے۔ لیکن جب یہ نہیں ممکن ہوسکا تو پاکستان نے یقینی طور پر اپنے ریاستی مفادات کو سامنے رکھ کر اس کانفرنس کے بایکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اس کانفرنس میں بھی اگر ہم مہاتیر محمد کی تقریر کو سنیں تو اس میں بھی اس نے اس نکتہ پر زور دیا کہ اس کانفرنس کو او آئی سی کے متبادل فورم کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔ کیونکہ مہاتیرمحمد کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ سعودی عرب میں اس پر کافی تحفظات ہیں۔ خود مہاتیر محمد نے اپنی سیاسی او رسفارتی ڈپلومیسی کی بنیاد پر کانفرنس کے انعقاد سے قبل سعودی عرب کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی، مگر یہ کوشش کافی تاخیر سے کی گئی جو نتیجہ خیز نہ ہوسکی۔

پاکستان میں اس کانفرنس میں عدم شرکت پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس تنقید میں ریاستی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ لیکن ایسی صورتحال میں جہاں ہمارے سامنے کانفرنس سے زیادہ ریاست کا مفاد اہم تھا تو ہمیں وہی کچھ کرنا پڑا جو ہمیں کرنا چاہیے تھا۔ یقینی طو رپر ہم کہہ سکتے ہیں حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ کوئی پاپولر فیصلہ نہیں تھا، مگر جذباتیت سے ہٹ کر جو فیصلہ کیا گیا وہی بہتر فیصلہ کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ہم اس وقت سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بگاڑ کر آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ جبکہ اس طرز کی کانفرنس دوبارہ سب فریقین کو اعتماد میں لے کر دوبارہ بھی کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ کانفرنس کا مقصد کسی بڑی تقسیم کو پیدا کرنے کی بجائے اتفاق پر مبنی فیصلہ سازی جو سب کے مفاد میں ہو ہونی چاہیے۔

اس لیے اس کانفرنس میں عدم شرکت کے باعث ہمیں فوری طو رپر کوئی جذباتی رنگ اختیار کرنے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے کہ ہم اس مسئلہ کو جو سامنے آیا ہے کیسے بہتر بنا کر دوبار ہ موثر پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ یقینی طور پر ترکی اور ملائیشیا میں ہماری عدم شرکت کو نہ صرف محسوس کیاگیا بلکہ اسے اچھی نظر سے بھی نہیں دیکھا گیا۔ لیکن ان دونوں ملکوں کو بھی اندازہ ہے کہ ہماری سفارتی اور ڈپلومیسی کی سطح پر کیا سیاسی، انتظامی مجبوریاں ہیں او راس کا اعتراف مہاتیر محمد نے کیا بھی ہے۔ اس لیے ہمیں فوری طور پر اپنی ریاست او رحکومت کے خلاف محاذ بنانے کی بجائے کچھ سنجیدہ انداز میں بھی اپنی فکر کو آگے بڑھانا چاہیے کہ ہم کیسے اعتدال پر مبنی سیاست او رپالیسیوں کو لے کر آگے بڑھ سکتے ہیں جو ہمارے مفادات کو تقویت دے سکے۔

اب بھی ہماری ریاستی و حکومتی پالیسی یہ ہی ہونی چاہیے کہ ہم اس وقت دنیا او ربالخصوص عرب دنیا کے معاملات میں براہ راست کسی کے فریق بننے کی بجائے ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو سب کے درمیان موجود مسائل کو کم کرسکے۔ کیونکہ عرب دنیا میں جو تقسیم مذہب یا فرقوں کی بنیاد پر پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے وہ ہمارے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کانفرنس میں ہماری جانب سے جو عدم شرکت کا فیصلہ کیا گیا اسے بہترطور پر ہم اپنے حق میں ایک مضبوط بیانیہ کے طور پر پیش نہیں کرسکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں میں نہ صرف ہم نے مایوسی دیکھی بلکہ ماحول کو بھی جذباتی رنگ میں ڈالا گیا۔ حالانکہ خارجہ پالیسی کی بنیاد جذباتیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ براہ راست اپنے ریاستی مفاد کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بعض اوقات فیصلہ عملا درست ہوتے ہیں مگر عوامی پزیرائی میں وہ غیر مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم اس کوالمپور کانفرنس میں شرکت کرتے تو یقینی طور پر اس سے ہمارے پاکستان او رسعودی عرب تعلقات میں کچھ مسائل پیدا ہوتے جو ہمارے مفاد میں نہ تھا۔

اس لیے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے باہمی مشورے سے جو فیصلہ کیا وہ یقینی طور پر قومی مفاد ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ ویسے اگر اس کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہمارے سمیت ترکی اور ملایشیا کی سطح پر بھی کچھ خامیاں رہ گئی تھیں اور اگر ہم تینوں ممالک تاریخ کے تعین سے قبل پہلے سعودی عرب کو اعتماد میں لے کران کے تحفظات کو دور کرتے تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی جو ہمیں تنقید کی صورت میں دیکھنے کو ملی ہے۔

اسی طرح افغانستان کے بحران کے حل میں بھی ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے جس انداز سے اپنے کارڈ کھیلے ہیں وہ ہماری اہمیت کو عملا اجاگر کرتے ہیں۔ امریکہ، افغان حکومت، طالبان اور چین سمیت سب سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر افغان بحران کا حل ممکن نہیں ہوگا۔ اس بار ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک مشکل صورتحال میں افغان بحران کے حل میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے جس کی ہر سطح پر تعریف بھی کی جارہی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی جو امن پسندی اور سب کے ساتھ بہتر تعلقات او رکسی کی جنگ میں فریق نہ بننے کے فیصلہ کو بھی پزیرائی ملی ہے۔ بھارت کے جارحانہ اور شدت پسندی پر مبنی پالیسی پر بھی ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے تحمل او ربردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہتر تعلقات کی بحالی او رامن، ترقی و خوشحالی کے باہمی ایجنڈے کو آگے لے جانے کے ایجنڈے کو تقویت دے کر خود بھارت کو عالمی سیاست میں دباؤ کی صورت میں کھڑا کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *