لبرلوں، سیکولروں، اشتراکیوں کی ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک میں تقریباً سارے ہی ذرائع ابلاغ لبرلوں، سیکولروں اور اشتراکیوں کے پنجے میں ہیں۔ تقریباً سارے ہی نام نہاد تجزیہ نگار، کالم نگار، اسکالر وغیرہ جیسے خود ساختہ القابات کے ساتھ ٹی وی پر جلوہ افروز ہونے والے لوگ انہی قبیلوں کے ہیں مگر یہ سب جانتے ہیں کہ یہ اپنے نظریات کا کھل کر اظہار کر نہیں سکتے اس لیے یہ تمام افراد ہی عالمی ایجنڈے کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب اِن کی موافق ہوا چل پڑے اور یہ اپنی حقیقی صورت دکھا سکیں۔

انگریزی اخباروں میں لکھنے والے سب سے کھل کر اپنے حقیقی چہرے دکھاتے رہتے ہیں۔ یہ سارے ہی لبرل، سیکولر یا اشتراکی، مذہب سے شدید بغض رکھتے ہیں اور اِن کو مذہب زیادہ سے زیادہ انفرادی زندگی کی کسی صورت میں ہی معاشرے میں برداشت ہے ورنہ ان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔

مگر کچھ بھی کر لیجیے یہ معاشرہ ابھی تک لبرل یا سیکولر معاشرہ نہ تو بنا ہے نہ بننے پر آمادہ ہے۔ اِس معاشرے میں مذہب سے اقدار اور قوانین برآمد کرنے کا مطالبہ ہمیشہ سے موجود بھی رہا ہے اور قوت بھی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس پورے تناظر میں لبرل، سیکولر اور اشتراکی اپنے نظریات کو چھپانے اور منافقت پر مجبور ہیں۔ یہ بڑے سائنسی انداز میں مذہب کو بدنام کرنے کے اپنے ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ انہوں نے مستقل سعی سے کئی قسم کے واہمے ہمارے سماج میں عام کر دیے ہیں۔ ان واہموں میں سے چند درج ذیل ہیں۔

1۔ اگر معاشرے پر اسلام کا نفاذ ہو گا تو کون سے اسلام کا نفاذ ہو گا؟ شیعہ اسلام، سنی اسلام، اہل حدیث اسلام، دیوبندی اسلام، بریلوی اسلام۔ کون سا اسلام؟ (یعنی اسلام میں تو اتنے فرقے ہیں، اتنے مسالک ہیں تو اس صورت میں نفاذ اسلام کیونکر ممکن ہو گا؟ )

2۔ نفاذ اسلام کی صورت میں فرد کی انفرادی زندگی کا کیا بنے گا؟ مطلب کیا کوئی سپاہی نماز نہ پڑھنے والوں کو پکڑے گا، پردہ نہ کرنے والیوں کو پکڑے گا؟

3۔ نفاذ اسلام کی صورت میں اقلیتوں کے معاملات کیا ہوں گے؟ کیا اُن کو کوئی خاص لباس پہننا ہو گا؟ کیا اُن کا مقام دوسرے درجے کے شہری کا ہو گا؟

4۔ نفاذ اسلام کی صورت میں ہماری معیشت کیا ہو گی؟ کیا ہم سرمایہ داری نظام کا حصہ ہوں گے؟ اگر نہیں تو ہم کیسے جئیں گے؟

5۔ نفاذ اسلام کی صورت میں عورتوں کے حقوق کیا ہوں گے اور کیا انہیں مادام اور آنٹی والی آزادی ہو گی؟

یہ سارے ہی سوالات دراصل جواب پانے کے لئے نہیں اٹھائے جاتے۔ یہ سوال کرنے والوں کو کوئی جواب کبھی مطمئن کر ہی نہیں سکتا۔ یہ سوالات محض ان اذہان کو کنفیوژ کرنے کے لئے اٹھائے جاتے ہیں جو اسلام سے محبت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے معصوم علماء اِن سوالوں میں الجھ جاتے ہیں اور تاریخ اسلام، قرآن، حدیث، سیرت اور تمام اسلامی ماخذوں سے مثالیں لانے لگتے ہیں۔ جواب میں ہمارے لبرل، سیکولر، اشتراکی کسی بم دھماکے، کسی احتجاج میں ہونے والی ہنگامہ آرائی، کسی مولوی کے بیان کو لے آتے ہیں۔

علما بتا بتا کر تھک جاتے ہیں کہ شریعت پر تو شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث میں کوئی بڑا اختلاف ہے ہی نہیں۔ وہ بتاتے بتاتے تھک جاتے ہیں کہ ایک دو سال نہیں تقریباً 1200 سال تک اسلام دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر نافذ رہا ہے۔ اسلامی تہذیب نے دنیا کی صورت گری میں کتنا نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اسلام کوئی مجرد خیال، کوئی Utopia نہیں، ایک ایسی عملی حقیقت ہے جو عملی، روحانی، سیاسی، سماجی الغرض ہر جہت میں ہی دنیا پر غالب رہی ہے مگر ظاہر سی بات ہے کہ آپ اندھوں کو دکھا نہیں سکتے، بہروں کو سنا نہیں سکتے۔ راقم کے پاس لبرلوں، سیکولروں اور اشتراکیوں کے لئے کچھ معصومانہ سے سوالات ہیں۔ بدقسمتی سے راقم خود بھی ایک زمانے میں لبرل اور اشتراکی رہا ہے، اس لیے اِن سب کی رگ رگ سے واقف ہے، سوالات درج ذیل ہیں ؛

1۔ عہد جدید میں یہ تصور کیا گیا تھا کہ مذہب کو انفردی اور اجتماعی حیات سے دیس نکالا دینے کے بعد انسان محض اخلاقیات کے مجرد جھنجھنے سے بہل جائے گا اور اخلاقی وجود بن جائے گا مگر مغرب کے اہل علم اِس بات کا رونا بڑے زور سے رو رہے ہیں کہ سماج سے اخلاق ختم ہوا اور صرف قانون رہ گیا۔ اب لوگ حاکم کے تازیانے سے ڈر کر ہی کسی کام سے رکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اخلاقیات کے بغیر کیا زندگی ممکن ہو گی؟ اور بغیر کسی بھی اخلاقی نمونے کے انسانیت کی بقاء کیسے ممکن ہو گی؟

2۔ مغرب میں ایک نہیں اَن گنت قسم کے نظاموں کے نظریے یا نمونے عہد جدید میں برپا ہوئے، ہمیں یہ سیکولر، لبرل اور اشتراکی بتائیں کہ وہ ہمیں کون سا نمونہ بنانا چاہتے ہیں؟ امریکا جیسا لبرل، روس جیسا لبرل، سوویت یونین جیسا اشتراکی، چین جیسا اشتراکی یا کمبوڈیا کے ’کھمروج‘ جیسا اشتراکی؟

3۔ امریکا میں اشتراکیوں کو اتنی بہیمیت سے چن چن کر کیوں مارا گیا؟ روس میں سرمایہ داری خیالات یا طرز زندگی کی جھلک پر بھی کیوں لوگوں کو مار ڈالا گیا؟ اشتراکیوں نے کمبوڈیا میں محض چشمہ پہننے پر ہی لوگوں کو کیوں جلا کر مار ڈالا؟ چین میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا (Documented) قتل عام اشتراکی ماوزے تنگ نے کیوں کروایا؟ امریکا نے ویت نام، کوریا، افغانستان، عراق اور ان گنت ملکوں پر کیوں حملہ کیا؟ کیوں کروڑوں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا؟ سیکولر جرمنی نے یہودیوں اور جپسیوں کا قتل عام کیوں کیا؟ سفید فاموں نے ریڈانڈین اقوام کا قتل عام کیوں کیا؟

4۔ اہل مغرب کا متفق علیہ معاشی ماڈل آخر ہے کیا؟ کیا مغرب کے مفکروں کا کسی معاشی نظام پر اجماع ہے؟ کسی نظام پر اتفاق ہے؟ کیا یہ سرمایہ داری نظام کا کرشمہ نہیں کہ Oxfam کے مطابق دنیا کی 82 فیصد دولت محض ایک فیصد انسانوں کے پنجے میں ہے؟

5۔ مغرب میں انسانی حقوق کا نمونہ کیا ہے؟ کیا ایک امریکی سرمایہ دار اور ایک افریقی مزدور کے حقوق برابر ہیں؟ کیا حقیقت میں مغرب میں انسانی رشتے باقی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو Devison and Neale کیوں اپنی معروف کتاب Abnormal psychology میں رقم طراز ہیں کہ مغرب میں ذہنی بیماریاں دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک کی نسبت زیادہ ہیں اس لیے کہ خاندانی نظام (family support system) ختم ہو چکا؟

ظاہر سی بات ہے کہ راقم بھی ایک تائب لبرل (اور اشتراکی نما) ہے تو اُسے بھی اِن میں سے کسی بھی سوال کے جواب کی کسی لبرل، سیکولر، اشتراکی سے کوئی ضرورت نہیں مگر بقول غالب ”چھیڑ خوباں سے چلی جائے اسد“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *