عورت ہونا آسان نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں۔ یہ مکمل طور پہ پدرسری معاشرہ ہے۔ جس میں مرد کی مرضی اور حاکمیت پہ چلنا اور اس پہ سر تسلیم خم کرنا عورتوں کے لیے واجب بھی ہے اور ضروری بھی۔ جہاں پہ سر اٹھانے کی کوشش کی۔ اسے فورا کچلنے کی جلدی کی جاتی ہے۔ جیسے سانپ کو سر اٹھانے سے پہلے اس کا سر کچل کے مارنے کی جلدی ہوتی ہے۔ کہ ہمیں ڈس نہ لے۔ حتی کہ عورت کا سر اٹھانا سانپ کے سر اٹھانے جیسا تو نہیں ہوتا۔ اگر وہ سر اٹھائے گی تو اپنے حقوق اور اپنے مسائل کو سمجھ کے اس پہ سوال اٹھائے گی۔ نہ کہ زہر چھوڑے گی یا ڈنگ مارے گی۔ ہر چند کہ عورت کا سر اٹھانا معاشرے کے نزدیک زہر پھینکنے جیسا ہی ہے۔ جس سے معاشرہ خائف ہے۔

بیٹی پیدا ہوئی تو اس کے لیے زندگی عذاب بنا دو۔ یوں مت بیٹھو۔ یوں مت کھاؤ۔ انڈہ مت کھاؤ۔ گوشت کم کھلاؤ۔ کیونکہ ان چیزوں سے وہ جلد جوان ہو جائے گی۔ میں نے ایسی مائیں بھی دیکھی ہیں۔ جن کی بیٹیوں کو پہلے پیریڈذ آئے تو انہوں نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا۔ کہ ہائے ہائے بیٹی جوان ہو گئی۔ اب بس جہیز بنانا شروع کر دو۔ پیریڈذ نہ ہوئے ہوا ہو گیا۔ پہلے ہی سے سو طرح کی پابندیوں کو برداشت کرتی بچی پہ مزید پابندیوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔

بلکہ ایک طرح سے اسے بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب والدین کی عزت اس کے خون بہنے میں ہی ہے۔ اس طرح کی باتیں یا تو نفسیاتی طور پہ بچیوں کے اعتماد میں کمی اور ڈر جیسی کیفیت میں رہنے پہ مجبور کرتی ہیں۔ یا پھر ایک ٹائم پہ وہ بغاوت میں بدل جاتی ہیں۔ دونوں چیزیں ہی نقصان دہ ہیں۔ بچیوں کو اعتماد دینا والدین کی اسی طرح ذمہ داری ہے۔ جیسے بیٹوں کو دیا جاتا ہے۔ بچی نے پڑھ لکھ لیا تو شادی کی تیاری کر دی جاتی ہے۔

اللہ میاں کی گائے جیسی اصطلاح کی لڑکیاں اس معاشرے میں زیادہ ہیں۔ شادی طے کرنے میں بھی جو ہمارے ہاں طریقے رائج ہیں۔ ان کی بھی الگ کہانی ہے۔ پوری فیملی ماسوائے لڑکے تیار ہو کے لڑکی کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ چائے کولڈ ڈرنک و اسنیکس سے انصاف کے بعد لڑکی سے سوالنامہ پوچھا جاتا ہے۔ حتی کہ چل کے دکھاؤ تک کی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ مجھے اس لیے بھی پتہ ہے کہ میں نے بھی شوق شوق میں رشتے کروانے کا کام شروع کیا۔ تین ماہ بعد ڈپریشن ہو گیا۔

کہ مطلب یہ کون لوگ ہیں۔ لڑکی والوں کی آس بھرے انداز میں فون کال کلیجہ کاٹ دیتی۔ جب ان کو یہ بتایا جاتا کہ انکار ہے۔ کچھ کیسز میں لڑکی کے والدین اور لڑکی کی ڈیمانڈز زیادہ تھیں۔ مگر پھر بھی لڑکے والوں کی طرف سے زیادہ ڈیمانڈذ ہوتیں۔ لڑکا چاہے کدو لگتا ہو لیکن لڑکی ان کو دیپیکا جیسی چاہیے۔ کچھ کیسز میں بڑی بہن کو چھوڑ کے چھوٹی لڑکی پسند کر لی جاتی۔ کہ وہ کم عمر اور خوبصورت ہے۔ ظاہر ہے تب انکار لڑکی والوں کی طرف سے ہوتا کہ بڑی چھوڑ کے چھوٹی کو کیسے بیاہ دیں۔

جیسے تیسے کر کے شادی تک بات پہنچ ہی گئی۔ تو یہاں سے ایک نیا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکی پہ ایک پریشر تو یہ ہے کہ اس نے والدین کی لاج رکھتے ہوئے ان کے لائے بر پہ آمین کہنا ہے۔ دوسری جانب جس گھر میں رہی ہے اسے چھوڑ جانے کا دکھ۔ تیسری جانب بالکل نئی جگہ اور نئے لوگوں میں جا کے رہنا۔ اور اففف کیے بنا رہنا ہے کہ والدین نے ڈیمانڈ کی ہے کہ ڈولی اٹھی ہے جنازہ ہی واپس آئے۔ اور جنازے آتے بھی تو ہیں۔

بس ہم اللہ کی مرضی کہہ کے صبر پا لیتے ہیں۔ یہ جانے بنا کہ جانے والی نے کیا کیا نہ سہا ہو گا۔

شادی کے بعد سب سے بڑا امتحان تو شادی کی پہلی رات دینا پڑتا ہے۔ اس میں پاس ہو گئے تو دونوں برادریوں کی ناک اونچی ہو جاتی ہے۔ وہ ناک جس کا کٹ جانا زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال اس امتحان سے گزرنے کے بعد سسرال والوں کی خدمتیں اور شوہر کو خوش رکھنے کی کوشش میں اس لڑکی کی خود کی ذات کہاں جاتی ہے نہیں پتہ۔ سسرال والوں کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ آٹا گوندھتے ہلتی کیوں ہو۔ اس لڑکی کا ہنسنا بولنا آزادی سب ختم ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر کا ختم ہی ہوتا ہے۔ بہت کم ہیں جن کو آزادی ملتی ہے۔ یہ اعتراض پڑھنے والے کریں گے۔ کہ میں پتہ نہیں کون سی دنیا کی بات کر رہی ہوں۔ یہ اسی دنیا اسی معاشرے کی باتیں ہیں۔ بس ہم اپنے اردگرد دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ورنہ آپ کو بھی یہ سب نظر آ جائے۔ جو میں دیکھتی ہوں۔

میری پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ تو مجھے پلید کہہ کے آٹا گوندھنے سے منع کیا گیا۔ مجھے سمجھ نہ آئے کہ باقی سارے کام بھی تو میں ہی کر رہی ہوں۔ حتی کہ روٹی بھی میں ہی پکاتی ہوں۔ تو یہ آٹا گوندھنے سے میری پاکی پلیدی کا کیا تعلق ہے۔ ایسے ہی بیٹی کا رنگ گندمی تھا۔ تو مجھے کہا گیا کہ تم شاید چہرے سے گوری ہو یا بازووں سے۔ ہو سکتا ہے تمہارا جسم گندمی ہو۔ جن کے پیٹ بھی گورے ہوں وہ اصل رنگ ہوتا ہے۔ ثبوت کے طور پہ مجھے پیٹ دکھانا پڑا۔

باتیں ہی تو سینہ چھلنی کرتی ہیں مجھ پہ بیتی ہیں۔ مجھے کیسے بھول جائیں۔ ایسے ہی کیا کچھ سہنا پڑتا ہے اس معاشرے میں لڑکیوں کو۔ میجورٹی مرد سمجھ ہی نہیں سکتے۔ بیوی گھر کے شوکیس میں رکھا مہنگا برتن نہیں ہوتا۔ جسے ہر تہوار پہ نکال کے دھو سنوار کے دوبارہ سجا دیا جائے۔ عورت انسان ہوتی ہے اسے انسان سمجھئیے۔

خوش قسمتی سے چند خواتین کو بہتر یا بہترین مرد مل جاتے ہیں۔ مگر زیادہ تعداد انہی چھوٹے دماغوں والے مردوں کی ہے۔ جن کے نزدیک عورت پاوں کی جوتی ہے۔ پسند نہ آئے یا پاوں پہ لگنا شروع ہو جائے تو بدل لو۔ جب جوتی پاوں پہ لگنے لگے تو کوئی بھی برداشت نہیں کرتا۔ اتار پھینکتا ہے۔ عورت بھی سوال کرنے لگے تو بری لگنے لگ جاتی ہے۔ وہ برداشت نہیں ہوتی۔ اسے یا تو کونے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یا بدل لیا جاتا ہے۔

عورت ہونا آسان نہیں۔ عورت بن کے جینا بھی آسان نہیں۔ اگر عورت جاب کرتی ہے۔ تو جاب کے ساتھ ساتھ اسے گھر اور بچوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ ورنہ اس کی جاب کام نہیں عیاشی تصور کی جاتی ہے۔ یا گھر سے فرار حاصل کرنے کوشش سمجھی جاتی ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ مرد کا لیٹ گھر آنا تو قابل قبول ہوتا ہے۔ عورت کا نہیں۔ مرد کا شادی کے بعد افئیرز چلانا عام ہے۔ عورت کا گناہ ہے۔ اب تو ہمارے رائٹرز نے اسے شرک کے برابر گناہ قرار دے دیا ہے۔ (نعوذ باللہ)

عورت کو انسان سمجھنے اور اسے یہ باور کرانے کی سب سے پہلی ذمہ داری اس کے والدین کی ہے، کہ وہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔ لڑکی کو پڑھا لکھا کے اسے اپنے پاوں پہ کھڑا ہونے میں اس کی مدد بہرحال اس کے والدین کی جانب سے ہونی چاہیے۔ عورت کی معاشی خودمختاری اسے زندگی کے بہت سے فیصلے ڈرے بنا لینے میں مدد کرے گی۔ جب وہ معاشی طور پہ مضبوط ہو گی تو نہ ہی سسرال کی خدمتیں ضروری ہوں گی۔ نہ ہی طلاق کے بعد زندگی کیسے گزرے گی کا ڈر۔ اور نہ ہی اپنے آپ کو قبضہ شدہ چیز سمجھنے کی ضرورت رہے گی۔ کیونکہ قبضے زمینوں پہ ہوتے ہیں، انسانوں پہ نہیں۔

جیئں اور جینے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *