پرائی جنگ اپنی کیسے بنتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بار پھر ہم سن رہے ہیں کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم نہ تو کسی پرائی جنگ کا پہلے کی طرح حصہ بنیں گے اور نہ اپنی سرزمین کو کسی پراکسی جنگ کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔

پرائی جنگ اپنی کیسے بنتی ہے؟ اس کے لیے میں آپ کو بہت دور تک نہیں بس اکیاسی برس پیچھے لے جاؤں گا جب ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کردیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ باقی ممالک کہتے کہ بھئی یہ تو پولینڈ اور جرمنی کا آپس کا معاملہ ہے، ہمارا اس سے کیا تعلق۔ پرمعلوم نہیں کیوں پولینڈ پر حملے کے دو دن بعد ہی فرانس اور برطانیہ نے ہٹلر کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔

جب کہ اسٹالن اس مغالطے میں رہا کہ یہ دنیا کا خون چوسنے والی سامراجی چمگادڑوں کی باہمی لڑائی ہے ہم کیمونسٹوں کا اس سے کیا لینا دینا۔ چنانچہ اسٹالن نے ہٹلر سے عدم جارحیت کا معاہدہ کرلیا۔ مگر جب ہٹلر نے پورے مغربی یورپ پر قبضہ کرلیا تو پھر اس نے مشرق کا رخ کیا اور سوویت یونین پر حملہ کردیا۔ یوں اسٹالن کی پرامن بقائے باہمی کی ساری تھیوری دھری کی دھری رہ گئی اور اسے ہٹلر کے مخالف خون چوس چمگادڑی سرمایہ دار ممالک کی مدد لینی پڑ گئی۔

جو سوچ اسٹالن کی تھی کم و بیش یہی سوچ اس دور کی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بھی تھی۔ اس نے بھی یہی سمجھا کہ لڑائی تو یورپ میں ہورہی ہے سانوں کی۔ لیکن جب ایک دن جاپانیوں نے پرل ہاربر پر ہلا بول کر پورا بیڑہ تباہ کردیا اور امریکا کے منہ پر رکھ کے چپیڑ پڑی تب ہڑبڑاتے روز ویلٹ کی بوڑھی سمجھ میں آیا کہ یہ جنگ دو ممالک یا دو اتحادوں یا دو نظریات سے زیادہ کی لڑائی ہے۔ یہ جرمن، اطالوی، جاپانی فاشزم بمقابلہ باقی دنیا کی جنگ ہے۔ حتی کہ چین میں برسرِپیکار قوم پرست چیانگ کائی شیک اور کیمونسٹ ماؤزے تنگ بھی آپسی دشمنی ایک طرف رکھ کے جاپانی استعمار کے خلاف عارضی طور پر متحد ہوگئے۔ اگر یہ نا ہوتا تو ہوسکتا ہے آج واشنگٹن سے ماسکو اور بیجنگ سے دلی تک جرمن اور جاپانی اور کہیں کہیں اطالوی زبان بولی جارہی ہوتی۔

اسرائیل اور عربوں میں انیس سو اڑتالیس سے آج تک جتنی بھی جنگیں ہوئیں ان میں سے کوئی جنگ عربوں نے یک سو ہو کر نہیں لڑی۔ کبھی ایک روٹھ گیا تو کبھی دوسرا نیم دل ہوگیا تو کبھی تیسرے نے بروقت محاذ کھولنے میں تاخیر کردی تو کبھی دو نے سمجھ لیا کہ تیسرا جانے اور اسرائیل جانے۔ نتیجہ؟ آج تک اسرائیل اپنے سے چالیس گنا عربوں کو سیاسی و عسکری لحاظ سے دوڑا دوڑا کے مار رہا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اسرائیل امریکا کے بھروسے یہ سب حرکتیں کررہا ہے۔ مگر امریکا تو آدھے سے زیادہ مسلمان ملکوں اور ان کی اسٹیبلشمنٹس کا بھی پشتی بان تھا اور ہے۔

دور کیوں جائیں۔ جب سوویت یونین نے کابل میں فوجیں اتاریں تو وہ بھی افغانوں اور روسیوں کی جنگ تھی۔ پاکستان، امریکا، سعودی عرب، ایران اور اسرائیل سمیت باقی دنیا کو یہ پرائی جنگ گلے لگانے کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ پھر بھی نا جانے اس پرائی جنگ کے لیے پاکستان کی مذہبی جماعتیں کیوں ہلکان ہوئی جارہی تھیں۔ اس وقت کیوں ان میں سے کسی نے نہیں کہا کہ برادر ضیا الحق تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔ اس وقت بھی تو ولی خان جیسے چند سرپھرے یہی کہہ رہے تھے جو بعد میں منور حسن، عمران خان اور فضل الرحمان کہتے رہے کہ پاکستان پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑا کے بہت بڑی غلطی کررہا ہے۔ بھینسوں کی لڑائی میں صرف گھاس کچلی جائے گی۔

لیکن اس وقت ولی خان اور ان کے ہمنوا نظریہ پاکستان کے دشمن غدار روسی ایجنٹ قرار پائے۔ اس وقت روس بقول امریکی بلاک بلوچستان کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا لہذا اس کو اجتماعی طور پر روکنا بقول ریگن و مارگریٹ تھیچر پوری آزاد دنیا کی اجتماعی ذمے داری قرار پائی اور پھر پوری سرمایہ دار اور مسلمان دنیا نے مل کر روس کو پسپا کرنے میں اپنی اپنی بساط کے مطابق یا اوقات سے بڑھ کے حصہ ڈالا۔ تو کیا آج طالبان اور القاعدہ کا ایجنڈا اس وقت کے روس سے مختلف ہے؟ اور کیا امریکا اس وقت اپنا عالمی ایجنڈا دنیا پر تھوپنے سے باز آگیا تھا؟

کیا دوسری عالمگیر جنگ ضروری تھی؟ ہٹلر سے بات چیت بھی تو ہوسکتی تھی؟ کیوں تین کروڑ لوگ فنا ہوگئے؟ سوویت یونین سے بھی تو مذاکرات ہوسکتے تھے کہ وہ افغانستان سے نکل جائے؟ کیوں دس لاکھ افغان مرگئے اور چالیس فیصد بے گھر ہوگئے؟ اسرائیل سے بھی بات چیت ہو تو رہی ہے نا سن نوے سے؟ پھر کیا نتیجہ نکل رہا ہے اس تیس سالہ بات چیت کا؟

جب محلے میں شعلے بلند ہورہے ہوں تو پہلے آگ بجھائی جاتی ہے یا یہ بحث زیادہ ضروری ہوتی ہے کہ فلاں گھر میں بجھا دو کیونکہ دوست ہے اور ساتھ والے گھر کو رہنے دو کیونکہ دشمن ہے۔ اور جب تک یہ نا طے ہوجائے کہ آگ زید نے لگائی کہ بکر نے تب تک کوئی بھی احتجاجاً پانی کی بالٹی نا بھرے؟

یہ کیسے ممکن ہے کہ انڈیا، چین، افغانستان یا خلیجی ممالک میں سے کسی کو زکام ہو جائے اور آپ کو چھینک تک نہ آئے۔

ویسے دنیا کی ایسی کون سی آگ اور جنگ ہے جو کسی نا کسی کی غلطی یا غلط فہمی سے شروع نا ہوئی ہو؟ تو چونکہ آپ اس میں ابتدائی فریق نہیں تھے لہذا آپ کا پائنچہ اور دامن پکڑنا اس آگ کو اخلاقاً زیب نہیں دیتا؟ کیا جنگ اور آگ اپنے پرائے کو پہچانتی ہے؟ ہاں شاید ایسا ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے آگ اور جنگ کا یکسوئی سے سامنا کرنا پڑتا ہے اور سامنا کرنے کے لیے حوصلہ چاہیے اور حوصلہ ”چونکہ چنانچہ“ سے نہیں آتا۔ ویسے بھی اب تک کوئی بندوق ایجاد نہیں ہوئی جس میں تاویل کا کارتوس پڑتا ہو۔
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *