ٹرمپ کی متوقع دورۂ پاکستان میں ”ون ون“ بنانے کی خواہش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروٹوکول کے اعتبار سے امریکی وزارتِ خارجہ کی ایلس ویلز کا مرتبہ ہماری وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کے برابر ہے۔ وہ مگر ایک سپرطاقت کی نمائندہ ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کی کیرئیرافسر ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر تعینات نہیں ہوئیں۔ نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں بہت متحرک سفارت کار تھیں۔ ان کی تعیناتی کے دوران جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ اُلٹا تھا۔ وہ 12 اکتوبر 1999 سے کئی ہفتے قبل ہی اپنی ”معصومانہ“ گفتگو سے اس ”واقعہ“ کا انتظار کرتی سنائی دیتی تھیں۔

بطوررپورٹر دوتین بار ان کے گھر ہوئی کھانے کی دعوتوں میں بھی مدعو کیا گیا تھا۔ بہت خوش خلق ہیں۔ ان سے ”خبر“ نکلوانا مگر ناممکنات میں شمار ہوتا تھا۔ پاکستان میں کئی برس گزارنے کے بعد انہوں نے بھارت میں بھی اپنے ملک کی دلّی میں تعینات ہوتے ہوئے نمائندگی کی ہے۔ واشنگٹن کی خارجہ امور سے متعلق اسٹیبلشمنٹ انہیں جنوبی ایشیاء کا ماہر تصور کرتی ہے۔ ہمارے خطے کے بارے میں اُس کی پالیسی کی تشکیل میں ایلس ویلز کا ان پٹ بسا اوقات کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ایلس ویلز ان دنوں اسلام آباد میں ہیں۔ شنید ہے کہ 22 جنوری تک اسی شہر میں موجود رہیں گی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ان کی تفصیلی ملاقاتیں ہونا ہیں۔ خارجہ امور کے بارے میں ان دنوں رپورٹنگ پرمامور میرے کئی دوستوں نے ٹھوس اطلاعات تک رسائی کے بغیر یہ طے کرلیا ہے کہ اپنے قیامِ پاکستان کے دوران ایلس ویلز شاید افغانستان کے حوالے سے زلمے خلیل زاد کے توسط سے ہوئے ممکنہ معاہدہ کو کوئی حتمی شکل دینا چاہیں گی۔

اپنے گھر تک محدود ہوا محض اپنے تجربے اور مشاہدے کی بناء پر لیکن میں یہ دعویٰ کرنے کو مجبور ہوں کہ محترمہ ایلس ویلز کے موجودہ دورۂ پاکستان کا اصل مقصد یہ طے کرنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جنوری کے اختتامی یا فروری کے ابتدائی ایام میں پاکستان آمد کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ مجھے گماں ہے کہ چاہے چند گھنٹوں کو سہی، ٹرمپ ان دنوں میں پاکستان ضرور آئیں گے۔ ان کا اسلام آباد نہ آنا پاکستان کے لئے بہت شرمندگی کا باعث ہوگا۔

ان دنوں میں ”ذرائع“ کی شفقت سے قطعاً محروم ہوں۔ یہ ”خبر“ مگر کئی روز سے امریکی میڈیا میں پھیل چکی ہے کہ صدر ٹرمپ فروری 2020 میں اپنے دورۂ بھارت کی تیاری کررہے ہیں۔ بھارت کے ایک ویب اخبار ”دی پرنٹ“ نے مگر اتوار کی شب یہ دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کا اب جنوری کے آخری ہفتے میں دلّی آنا طے پاچکا ہے۔ اس نیٹ ورک کی رپورٹر نے اطلاع یہ بھی دی ہے کہ فروری کے بجائے جنوری کے آخری دنوں میں بھارت آنے کافیصلہ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ہوئی اس گفتگو کے دوران کیا جو ٹیلی فون کے ذریعے نئے سال کی مبارک دینے کے نام پر ہوئی تھی۔

مذکورہ رپورٹر کو گماں ہے کہ امریکی صدر بھارت کے یومِ جمہوریہ۔ جو 26 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ کے چند ہی دن بعد دلّی آئے گا۔ بھارتی دارالحکومت کے ان دو پنج ستاری ہوٹلوں میں جہاں غیر ملکی سربراہان ٹھہرائے جاتے ہیں۔ ”سکیورٹی“ کے انتظامات شروع ہوگئے ہیں۔ ان ہوٹلوں میں عمومی گاہکوں کو جنوری کے آخری دنوں میں قیام کی بکنگ نہیں دی جارہی۔ اپنی ”خبر“ کے اختتام پر رپورٹر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ”شاید“ صدر ٹرمپ بھارت کے بعد افغانستان اور پاکستان بھی جائیں گے۔

”شاید“ کے استعمال کو میں جبلی طورپر درست قرار نہیں دے سکتا۔ ٹھوس اطلاعات تک رسائی اور ”ذرائع“ کی شفقت سے محرومی کے باوجود بلکہ یہ دعویٰ کرنے کو مجبور ہوں کہ فروری تک انتظار کرنے کے بجائے ٹرمپ نے جنوری کے اختتامی دنوں میں جنوبی ایشیاء کا سفر کرنے کا ارادہ اس لئے باندھا ہے کہ اسے یقین دلوایا گیا ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک طالبان اور زلمے خلیل زاد کے مابین کئی ماہ سے دوحہ میں جاری مذاکرات کی بدولت بالآخر ایک معاہدہ برسرِعام آجائے گا۔

اپنے دورۂ جنوبی ایشیاء کو ”کامیاب اور تاریخی“ ثابت کرنے کے لئے ٹرمپ اسی باعث بھارت سے زیادہ افغانستان اور پاکستان آنے کو بے چین ہوگا تانکہ اسی کی موجودگی میں افغانسان میں قیام امن والے معاہدے پر دستخط ہوں۔ وہ امریکی عوام کے سامنے یہ بڑھک لگاسکے کہ بالآخر اس نے اپنے ملک کی افواج کو افغانستان سے باہر نکالنے کی راہ نکال لی ہے۔ یہ کام کردکھایا تو بہت ہی ”دانشور“ تصور ہوتا اوبامہ اپنی تمام تر خواہش کے باوجود آٹھ سالہ دورِ اقتدار میں بھی حاصل نہ کرپایا۔

بھارت میں قیام کے دوران بھی ٹرمپ مودی سرکار سے ”کچھ“ لیتا ہی نظر آئے گا۔ وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد سے ٹرمپ مسلسل یہ شکایت کیے چلے جارہا ہے کہ اس کے ملک کو باہمی تجارت کے نام پر چین اور بھارت ”چونا“ لگارہے ہیں۔ چین کے ساتھ اس نے ایک تجارتی معاہدے پر کئی ماہ تک پھیلے تناؤ کے بعد حال ہی میں دستخط کیے ہیں۔ بھارت کے ساتھ بھی اب ایسا ہی ایک معاہدہ ہوگا۔ اس پر دستخط کے بعد وہ امریکی عوام کے سامنے یہ بڑھک لگاسکے گا کہ بھارت کی منڈی کو امریکی اشیائے صرف کی فروخت کے لئے تقریباً اوپن کروالیا گیا ہے۔

مودی سرکار بھی اس معاہدے کو ”ون۔ ون“ بناکر پیش کرے گی۔ بھارت کی بے تحاشا مصنوعات پر گزشتہ برس کے اپریل میں ٹرمپ انتظامیہ نے بھاری ڈیوٹی عائد کردی تھی۔ اس کی وجہ سے بھارتی معیشت پر چھائی کسادبازاری میں مزید اضافہ ہوا۔ بھارتی برآمدات کو امریکی منڈی تک رسائی میں سہولت میسر ہوئی تو مودی سرکار اپنے سیٹھ مداحین سے واہ واہ کروائے گی۔ بطورپاکستانی میں فقط یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ٹرمپ اپنے ممکنہ دورۂ پاکستان کے دوران ہمارے ساتھ ”ون۔

ون ”کی کیا صورت بنائے گا۔ طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بارے میں اس کی جانب سے محض ہماری“ تعریف ”اور شکرگزاری کے الفاظ ہماری شادمانی کا باعث نہیں ہوسکتے۔ یہ وعدہ بھی شاید کافی نہیں ہوگا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے میں امریکہ اپنا اثرورسوخ پوری قوت ودیانت داری سے استعمال کرے گا۔

5اگست 2019 کے دن سے 80 لاکھ کشمیری دُنیا کی وسیع ترجیل میں محصور ہوچکے ہیں۔ ان کو موبائل فونز اور انٹرنیٹ تک وہ رسائی بھی میسر نہیں جو دُنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں بھی میسر ہے۔ کشمیر پر نازل ہوئے تازہ ترین عذاب میں کسی ٹھوس نرمی کے بغیر ٹرمپ کی دورۂ بھارت کے دوران مودی سے ”جپھیاں“ درحقیقت یہ پیغام دیں گی کہ ٹرمپ انتظامیہ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والے فیصلے کو بھارت کا ”اندرونی معاملہ“ قرار دیتی ہے۔

ٹرمپ یقینا ایک کاروباری آدمی ہے۔ ”دھندے“ پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ ”انسانی حقوق“ اس کی نظر میں اہمیت کے حامل نہیں۔ اسے بھارت کے ساتھ اپنی ترجیح کے مطابق تجارتی معاہدہ درکار ہے۔ کشمیر مگر 70 برس سے پاکستان کی ”شہ رگ“ ٹھہرایا گیا ہے۔ افغانستان میں امریکی مشکلات کے ازالے میں مدد فراہم کرنے کے بعد ہم پاکستانیوں کا یہ حق اور فریضہ ہے کہ ہم اپنے ”تعاون“ کے عوض 80 لاکھ کشمیریوں کی اذیت میں ازالے کے لئے اب امریکی کردار کا تقاضا کریں۔

کشمیر کے تناظر میں تقاضا ہی کافی نہیں۔ ہماری معیشت فقط ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کی وجہ ہی سے مشکلات کا شکار نہیں۔ ہمارے ہاں بہت شدت سے پھیلتی مہنگائی اوربے روزگاری کا اہم سبب آئی ایم ایف سے ہوا ایک معاہدہ بھی ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے بجلی اور گیس کے نرخوں میں ہر ماہ اضافہ ہوئے چلاجارہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی ”خودمختاری“ بھی ہماری معیشت کا کئی اعتبار سے گلاگھونٹ رہی ہے۔

آئی ایم ایف کی فیصلہ سازی میں امریکی اثرورسوخ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو قائل کیا جائے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے معاہدے کی شرائط کو نرم بنانے کے لئے وہ اپنا کردار ادا کرے۔ ہمیں افغانستان میں ”مثبت کردار“ ادا کرنے کی بناء پرشکرگزاری کے الفاظ ہی سے نہ بہلایا جائے۔ کئی برسوں سے ہم امریکہ سے اپنی مصنوعات خاص کر ٹیکسٹائل کے حوالے سے ویسی ہی سہولتیں طلب کررہے ہیں جوبنگلہ دیش کو میسر ہیں۔

بنگلہ دیش اب جنوبی ایشیاء میں شرح نمو کے حوالے سے نمبر ون ملک بن چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت کمزور ترین نظر آرہی ہے۔ ورلڈ بینک کی کئی رپورٹیں ہماری کمزوری کو ٹھوس اعداوشمار کے ذریعے عیاں کررہی ہیں۔ افغانستان کے ضمن میں ”مثبت کردار“ ادا کرنے کے عوض پاکستان کی معاشی مشکلات کے ازالے کی لہذا امریکہ کو بھی کوئی صورت نکالنا ہوگی۔ ٹرمپ کی محض چند گھنٹوں کے لئے اسلام آباد آمد اس ضمن میں کافی نہیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *