محمد حنیف کے لاپتہ آم، سرمد کھوسٹ کا کھلا خط اور والیِ ریاست کی تسبیح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان نے ہماری روایت پر عمل کرتے ہوئے جب اپنی سیاست کی بنیادوں میں مذہبی انتہا پسندی کا پانی چھوڑنا شروع کیا تو فہمیدہ ریاض نے ایک نظم کہی۔ تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی؟

سید کاشف رضا نے محمد حنیف کے ناول کا اردو ترجمہ کیا تو جنرل ضیا الحق کے فرزند ارجمند کے پلے بھی پڑگیا۔ گیارہ برس لگے جنرل ضیا کو اقتدار سے جاتے جاتے۔ گیارہ ہی برس لگے اعجازالحق کو ناول سمجھ آتے آتے۔ ہوا ہے عشق میں کم حُسنِ اتفاق ایسا۔ برخوردار کے ذوق کو یہ ناول اس قدر بھایا کہ مترجم، ناشر اور مصنف کو ایک ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا۔ ساتھ نصرتِ خداوندی کی ایسی ہوا چلی کہ مکتبہ دانیال سے محمد حنیف کے ناول کے سارے صفحے اڑا اڑاکے کہیں لاپتہ ہوگئے۔ محمد حنیف کو لاپتہ چیزیں ڈھونڈنے کا شوق بھی تو بہت ہے۔ قدرت نے سوچا کیوں نہ ان کے بارودی آم ہی لاپتہ کر دیے جائیں۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

جس شام یہ واقعہ ہوا، اس شام آموں کی بلائیں لینے والے اسداللہ خان غالب کے شہر دلی سے ایک دوست نے تین لنک بھیجے۔ ایک لنک میں پھٹتے ہوئے آموں کا ماجرا تھا، دوسرے میں فہمیدہ ریاض اپنی نظم ”بالکل ہم جیسے نکلے“ سنارہی تھیں، تیسرے لنک میں ہندوستان کے مرحوم صحافی و ادیب خشونت سنگھ کی کتاب بارے ایک خبر دی جارہی تھی۔ اس خبر میں بتایا جارہا تھا کہ سرکار نے خشونت سنگھ کی کتاب پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مختصر سی خبر سے یہ اندازہ تو نہیں ہوسکا کہ کون سی کتاب پر پابندی عائد ہونے جارہی ہے، مگر شرپسند دھیان ان کی مشہور کتاب Women، Sex، Love and Lust کی طرف چلا گیا۔ کسی زمانے میں پڑھا تھا کہ بھارتی ریلوے حکام نے اس کتاب کی کسی بھی پلیٹ فارم پر سرِعام فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔

جارجین دور میں برطانوی لائبریرینز نے فحش نالوں کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ ان کے پیش کیے گئے تحفظات کے پیش نظر حکام نے فیصلہ کیا تھا کہ فحش قرار دیے گئے مواد کو کسی کتب خانے کے شیلف میں نمایاں نہیں رکھا جائے گا۔ خشونت سنگھ کی کتاب سے متعلق بھی ریلوے حکام نے کہا تھا کہ ریلوے سٹیشنوں پر موجود دکانوں میں یہ کتابیں سامنے نظر نہیں آنی چاہئیں۔

بظاہر یہ ایک بری خبر تھی مگر یہ پڑھ کر مجھے ایک طرح کی جلن سی محسوس ہوئی کہ یعنی انڈیا کے ریلوے اسٹیشنوں پر واقعی اتنا ایمان افروز لٹریچر بکتا ہے؟ ایک ہمارے ریلوے سٹیشنوں پر نصب نینشنل بک فاونڈیشن کی دکانیں ہیں جہاں مسواک کی فضیلت، اسلام اور سائنس اور حقوقِ زوجیت جیسی کتابوں کے علاوہ اگر کچھ ملتا ہے تو وہ کشف المحجوب اور بہشتی زیور ہیں۔

پچھلی عید پر کراچی کے کینٹ اسٹیشن میں لگے ایسے ہی ایک کتب خانے کی شیش دیوار سے جھانک کر دیکھا تو اندر کتابوں کے بیچوں بیچ ایک کتا بھی آرام کرتا نظر آیا۔ اشفاق احمد، واصف علی واصف، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی جیسی مقدس ہستیوں کی تصویروں کے بیچ ایک بے نیاز کتے کو یوں سوتا دیکھ کر خود پر گمان ہوا کہ جیسے میں اصحابِ کہف والے واقعے کا عینی شاہد ہوں۔ فورا سرجھٹک کر لاحول پڑھی اور آگے بڑھ گیا۔

اپنے ہندوستانی دوست سے میں نے پوچھا، یہ فہمیدہ ریاض کی نظم کیوں بھیج دی؟ کہنے لگا، جو ہمارے ہاں ہوا وہ تمہارے ہاں ہوتا دیکھا تو اس نظم کا خیال آگیا۔ عرض کیا، دیکھو میاں ہم سے آگے نکلنے کی کوشش ہر گز مت کرنا۔ فہمیدہ ریاض نے یہ نظم تمہارے ہاں ہمارے والے حالات دیکھ کر کہی تھی۔

دوست نے مزید کوئی دلیل دینے کی کوشش کی تو میں نے کہا، بھائی ہم اپنی دنیا میں رہتے ہیں جس کی تاریخ چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے شروع ہوتی ہے۔ ہماری تاریخ شروع ہوئی تو صوبہ سرحد (پختونخوا) میں سُرخ پوشوں کی حکومت تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ڈاکٹر خان کا دھڑن تختہ کیا اور خان عبدالقیوم خان کو اقتدار سونپ دیا۔ یہ وہی عبدالقیوم خان ہیں جو ہماری تواریخ شروع ہونے سے پہلے کانگریس سے تعلق رکھتے تھے۔ تب انہوں نے ایک کتاب Gold and Guns on the Pathan لکھی تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے خان عبدالغفار حضرت باچا خان کو سراہا تھا اور قائد اعظم پر نقد ارزاں کیے تھے۔

ٹکٹ کے معاملے پر سینگ اڑے تو خان صاحب کانگریس سے ناراض ہوکر مسلم لیگ کو پیارے ہوگئے۔ باچا خان کی بساط لپیٹ کر جب قیوم خان کو صوبہ سرحد کی وزارتِ اعلی کے لیے نامزد کیا گیا تو صورتِ حال ”ایماں مجھے روکے جو کھینچے ہے مجھے کفر“ والی ہوگئی۔ ایک نظر اپنی کتاب کو دیکھتے ہیں اور ایک نظر اقتدار کی پالکی کو۔ کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے۔ خان صاحب نے اقتدار کی زمام تھامی، اقتدار کی پالکی میں اترے، قلمدان سے قلم نکالا اور اپنی ہی کتاب پر بقلمِ خود پابندی عائد کردی۔ میری درخشندہ تاریخ کا یہ روشن حوالہ سننے کے بعد دوست نے مزید بحث کرنے سے گریز ہی کیا۔

دوست اگر برتری کے شوق میں بحث جاری رکھنے کی کوشش کرتا تو میں اسے ضرور بتاتا کہ دوست! یہ تو تم جانتے ہی ہوگے کہ فاطمہ جناح رشتے میں ملت کی مادر لگتی تھیں۔ جب ہم ننھے سے ہوتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ قائد اعظم جب گزر گئے تو وہ دل گرفتہ ہوگئی تھیں۔ گرد وپیش سے اتنی مایوس ہوگئی تھیں کہ بھائی کے جانے کے بعد سیاست سے کنارہ کش ہوگئیں۔

جب ہم بڑے ہونے لگتے ہیں تو ہمیں زندگی کے کسی موڑ ہر کچھ شرپسند لوگ مل جاتے ہیں۔ وہ ہمیں ممنوعہ لٹریچر کی کوئی جھلک دکھادیتے ہیں۔ وہ پڑھ کر پہلا سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر فاطمہ جناح بھائی کی وفات پر سیاست سے کنارہ کش ہوگئی تھیں تو جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک چلانے والی اس خاتون کا کیا نام ہے جو شکل سے ہوبہو فاطمہ جناح لگتی ہیں؟

دوست کو اگر میں یہ کہتا کہ بلوچستان کے کتب خانوں میں چھاپہ مار کر نہرو اور گاندھی کی آپ بیتیاں ضبط کرلی جاتی ہیں، تو جواب میں وہ کہہ دیتا کہ یہ تو ایسی کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ یہاں بھی بی جے پی کے رہنما جسونت سنگھ کی کتاب Jinah: India، Partition، Independence پرلگادی گئی تھی جس میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو کہیں کہیں سراہا تھا۔ اگر وہ یہ کہتا، تو میں اس ناہنجار کو بتاتا کہ کمبخت مارے ہمارے ہاں تو سرکار نے فاطمہ جناح کی کتاب My Brother پر پابندی عائد کردی تھی۔ جتنی کتاب اس قوم کو میسر آئی اس میں سب سارے ہی فسانے ملے، حدیثِ دلبری نہیں ملی۔ سرکار اتنی سی بات پر ہتھے سے اکھڑگئی کہ جب قوم قائد کی جائے پیدائش اور آخری ایام کے متعلق پھیلائی گئی غلط بیانیوں پر مطمئن ہے تو چاند پر سوت کاتنے والی بڑھیا نے ٹھیک جائے پیدائش اور واقعات درج کرنے کی کوشش کیوں کی؟

تازہ قصہ یہ ہے کہ سرمد کھوسٹ کی نئی فلم ”زندگی تماشا“ پر عرش کے نمائندے اتاولے ہوگئے ہیں۔ ہندوستان میں یہ روایت پرانی ہے، مگر وہاں کا سینیما بھی تو پرانا ہے۔ ہمارے سینیما نے ابھی پر ہی تولے ہیں کہ نظمِ کائنات میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ یہاں فلم وہی کہلائے گی جو ”ترجمان“ کی سرپرستی میں تخلیق ہوگی۔ جس میں رنگوں محبتوں اور سُر سازوں کی جگہ توپ طیارے ہوں اور بارود کی گھن گرج ہو۔

یہ کوئی اچنبھے کی بات اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان اپنی تقدیر میں الٹے پیر کی چال لکھواکے لایا ہے۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ سرمد کھوسٹ نے خط لکھ کر والیِ ریاست کو متوجہ کرنے کی کوشش کی کہ اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔ سرمد کے خط پر فوری رد عمل دیتے ہوئے والیِ ریاست نے حکم جاری کردیا ہے کہ تصوف کے مضمون کو نصاب میں شامل کردیا جائے۔ اور کوئی حکم؟

اب مزید کچھ بھی کہنے سے پہلے سرمد کھوسٹ کو اس حقیقت پردھیان دینا چاہیے کہ اس وقت اقتدار کے سنگھاسن پر اورنگزیب عالمگیر کے خلیفہ متکمن ہیں۔ آپ کی پکڑ فلم پر ہوئی ہے ناں؟ تاریخ میں آپ سے پہلے آرمینیا کا جو سرمد گزرا ہے اس کی پکڑ ایک رباعی پر ہوئی تھی۔ قادری سلسلے کے مولوی ہی تھے جنہوں نے سرمد کاشانی کے خلاف پرابیگنڈے کا آغاز کیا تھا۔ بہت ممکن ہے مشکل کی اس گھڑی میں سرمد نے اورنگزیب کو پکارا ہو، مگر ہوا یہ کہ اورنگزیب نے ”توہینِ مذہب“ کی پاداش میں سرمد کا سر قلم کروادیا۔ وہ گردن ناپنے کے بعد خاموشی سے ٹوپی سیتے تھے۔ یہ قالین کھینچ کے چپ چاپ بتیس دانوں کی تسبیح پھیرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *