عبید صدیقی: مانوس اجنبی کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیز چھری کے وار کی طرح یہ خبر مجھے کاٹ گئی۔ دہلی سے شمیم حنفی صاحب نے اطلاع دی کہ عبید صدیقی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ صدمے کی شدید لہر مجھے اپنی لپیٹ میں لے کر گھومنے لگی۔ پھر خالد جاوید نے تصدیق کر دی۔ مجھے ایسا لگا کہ خبر یوں ہے__ دہلی میں آصف فرّخی کا انتقال ہوگیا، کراچی میں دوست احباب عبید صدیقی سے تعزیت کرلیں۔

کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ ٹیلی فون کرکے حال احوال پوچھوں گا۔ زیادہ نہیں، ہماری بات کبھی کبھار ہوتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کی خیر خیریت معلوم کرتے رہتے تھے۔ وہ میری پریشانیوں کو سمجھتا تھا کہ وہ ان جاں گداز مراحل سے گزر چکا تھا۔ ہم فیس بک پر تصویریں دیکھتے رہتے تھے۔ خلاف معمول وہ ادھر کئی دن سے خاموش تھا۔ فیس بک پر کوئی نئی پوسٹ بھی نہیں لگی تھی۔ خدا کرے وہ خیریت سے ہو۔ دل میں ایک دھڑکا سا لگا ہوا تھا۔ وہ اندیشے درست ثابت ہوئے۔ میرا دوست چلا گیا، میں اب اپنا حال کس سے کہوں؟ آج بھی پہلے کی طرح اسی سے بات کرتا ہوں۔

میں اس کو ٹیلی فون کرتے ہوئے ڈرنے لگا تھا۔ اس نے جواب میں میرا حال پوچھ لیا تو کیا بتائوں گا؟ وہ ساری نصیحتیں فضیحتیں۔۔۔ وہ پچھتاوے۔۔۔ غم گساری کے جاں گداز لمحے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جائیں تو افسوس نہیں ہوتا۔ عبید نے اپنی پالتو بلّی کی تصویریں فیس بک پر لگائیں۔ میں نے بھی بلّی کی تصویریں بھیجیں جس طرح نوجوان لڑکے شرماتے ہوئے اپنی محبوب ہستیوں کی تصویریں ایک دوسرے کو دکھاتے ہیں۔ دکھ سکھ کے یہ ساتھی بے زبان تھے۔

بھلے دنوں کی بات ہے کہ میرے محترم، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے گھر پر عبید صدیقی نے تعارف ہوا۔ یہ غالباً 1982ء یا 83ء کا زمانہ رہا ہوگا۔ فاروقی صاحب دفتر سے گھر واپس آچکے تھے اور ایک جوانِ رعنا، جو عمر میں مجھ سے چند سال بڑا ہوگا، بڑے جوش اور ادبی اعتماد کے ساتھ ان سے باتیں کررہا تھا۔ اندازہ ہوا کہ اس نے چند غزلیں فاروقی صاحب کو ’شب خون‘ میں اشاعت کے لیے بھیجی تھیں۔ فاروقی صاحب نے تھوڑی بہت کاٹ چھانٹ کے بعد شائع کردیں۔ اس کے بعد ان کو ایک خط موصول ہوا جس میں ان تمام اشعار پر اعتراض کیا گیا تھا جو اصلاح کے عمل سے گزرے تھے۔ فاروقی صاحب کو یہ تعجب تھا کہ ان ہی نکتوں پر اعتراض خود شاعر کے علاوہ بھلا اور کون کر سکتا ہے۔ اس خط کا مقصد یقیناً یہ رہا ہوگا کہ فاروقی صاحب، عبید سے بدظن ہو جائیں اور یہ کام عبید کے کسی واقف حال دوست نے کیا ہو گا۔

گفتگو دل چسپ تھی مگر بحث کا رخ اختیار نہیں کیا۔ فاروقی صاحب سے یہ ملاقات میرے لیے یادگار رہی اور جب میں وہاں سے اٹھ کر چلا تو عبید صدیقی بھی میرے ساتھ ہو لیے۔ فاروقی صاحب کا مکان دلّی کے کاکا نگر میں تھا جہاں سرکاری ملازمین کو فلیٹ ملے ہوئے تھے اور میں بستی نظام الدین میں ہمایوں کے مقبرے کے نزدیک اسکائوٹ کیمپ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ میرے والد حضرت نظام الدین اولیاؒ کے عرس میں شرکت کے لیے آئے تھے اور پاکستانی زائرین کے قافلے کو اسکائوٹ کیمپ میں ٹہرایا گیا تھا۔ عبید صدیقی میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلے۔

تھوڑی دیر میں ہمیں یہ محسوس ہونے لگا کہ ہم ایک دوسرے کو بہت زمانوں سے جانتے ہوں۔ ہمارے حوالے مشترک تھے۔ ان کو یہ جان کر بہت احساس یگانگت ہوا تھا کہ میں سلیم احمد کے حاضر باشوں میں سے ہوں __ انھوں نے اور ان کے دوستوں نے سلیم احمد کے نام اظہار عقیدت کے طور پر خط بھی میرے ہاتھ بھجوایا تھا، جس کو پڑھ کر سلیم احمد بہت خوش ہوئے تھے۔ انھوں نے علی گڑھ کے بارے میں بتایا جہاں سے انھوں نے پڑھا تھا، اپنے دوستوں آشفتہ چنگیزی اور مہتاب حیدر نقوی کا ذکر کیا۔ انھوں نے فرحت احساس کے شعر سنائے جو میرے دل پر نقش ہوگئے۔ انھوں نے قمر احسن اور شمس الحق عثمانی سے ملاقات کروائی۔ پھر جیسے مجھے ایک حلقۂ دوستاں مل گیا۔ اب اس گلدستے کی بندش کی گیاہ ٹوٹ گئی ہے۔

عبید صدیقی ان دنوں دہلی کے ہفتہ وار ’ہجوم‘ سے وابستہ تھے جس کی ادارت جاوید حبیب کے سپرد تھی۔ دہلی کے ادیبوں سے ان کے بہت مراسم تھے۔ ان کے ساتھ میں محمود ہاشمی سے ملا، بلراج کومل سے ملا۔ سب سے بڑھ کر تو خود ان سے ملاقات کا تار بندھ گیا۔ انھوں نے شہریار کا ذکر کیا اور بعد میں مجھے شہریاد سے کئی بار ملاقات کا موقع ملا۔ ہندوستان کے جن ادیبوں کو میں پڑھتا آیا تھا، عبید صدیقی اپنی باتوں سے ان کو اس محفل میں شریک کر لیتے تھے۔ انھوں نے مجھے قرۃ العین حیدر کے بارے میں بتایا جن کو علی گڑھ کے قیام کے دنوں میں انھوں نے قریب سے دیکھا، سنا۔ فاروقی صاحب، شمیم حنفی صاحب اور گوپی چند نارنگ کی کتابوں کا ذکر ہوا۔

عبید نے میرے والد کو بتایا تھا کہ ماہرِ لسانیات ڈاکٹر شوکت سبزواری مرحوم سے ان کی قرابت داری ہے۔ مجھ سے انھوں نے ایک لڑکی کا ذکر کیا تھا جو بیاہ کے بعد کراچی چلی آئی۔ مجھے یقین ہے کہ عبید صدیقی کی خبر سننے کے بعد کراچی میں کسی نانی اماں، دادی اماں نے موٹے شیشوں والی عینک اتار کر دوپٹے سے آنکھیں ضرور پونچھی ہوں گی۔

کبھی خط کے ذریعے کبھی کتابوں کے ذریعے عبید صدیقی سے رابطہ قائم رہا۔ پھر خبر ملی کہ وہ آل انڈیا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ دہلی کے بعد کشمیر گئے اور سری نگر میں کئی سال گزارے وہاں سے خط و کتابت ممکن نہ تھی، دوستوں کے ذریعے حال معلوم ہو جاتا تھا۔ یہ اندازہ ہورہا تھا کہ وہ خوش اور مطمئن ہیں۔

دلّی میں کئی بار کی ملاقات کے علاوہ جس شہر میں ہم ملے وہ لندن تھا جہاں وہ بی بی سی کی اردو سروس میں چلے آئے تھے۔ لندن کا سفر ان کی وجہ سے مزید خوش گوار ہوگیا۔ ان کے ساتھ ساقی فاروقی سے خوب ملاقات رہی، جیتندر بلّو سے ملا۔ اردو مرکز میں افتخار عارف صاحب کے پاس میں خود چلا جاتا تھا اور ایسا لگتا تھا واقعی اردو دنیا کے مرکز میں ہوں۔ بی بی سی کا دفتر بُش ہائوس میں تھا۔ اس تاریخی عمارت میں عبید کے ساتھ ہی گیا اور وہ مجھے اس کے نزدیک اس پرانے ریستوان میں کھانے کے لیے لے گئے جہاں ابتدائی دنوں میں ترقی پسند ادیب مل بیٹھتے تھے۔ لندن میں ان کو میں نے خوش و خرّم دیکھا مگر ذاتی جوہات کی بنیاد پر وہ وہاں سے چلے آئے۔

عبید صدیقی سے تجدید ملاقات دہلی میں ہوئی۔ ان کی گھریلو زندگی کے بارے میں ان ہی سے علم ہو چکا تھا۔ مجھے وہ مضطرب دکھائی دیے مگر قدرے سنجیدہ۔ ادبی انداز میں پختگی آگئی تھی۔ دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں میرا قیام تھا تو اس کے کیفے ٹیریا میں کئی شامیں ساتھ گزاریں۔ سارک کانفرنس کے بلاوے پر ایک مرتبہ گیا تو اس کی روح رواں اجیت کور عبید کے ساتھ یوں پیش آرہی تھیں جیسے وہ باضابطہ ان کی ساس ہوں۔ وجہ عبید کی بیگم تھیں، پریت پال جن سے ملاقات ہوئی۔ وہ انگریزی میں شاعری کرتی تھیں اور ایک ناول بھی لکھا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے والدین کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ ان کے گھر بھی گیا اور ان کے ساتھ دوسرے دوستوں سے بھی ملنا ہوا۔ ہزاروں طوفان اپنے اندر سمیٹے ہوئے عبید صدیقی ایک بھرپور زندگی گزارتے ہوئے نظر آئے۔ اب وہ جامعہ ملیّہ سے وابستہ ہو گئے تھے اور ابلاغِ عامّہ کے استاد تھے۔

عبید صدیقی بھی میری طرح ایک شخص کی محبت میں گرفتار تھے اور اس طرح کہ ہم میں احساسِ رقابت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ اس لیے کہ اس محبوب شخص کا نام تھا انتظار حسین۔ اس التفات کی ایک وجہ یہ تھی کہ میرٹھ عبید صدیقی کا بھی وطن تھا۔ انتظار صاحب نے عبید کا ذکر جب بھی کیا بڑے اچھے الفاظ میں کیا۔ عام بات چیت کے علاوہ انھوں نے اپنی سوانح حیات ’’جستجو کیا ہے؟‘‘ میں عبید کا ذکر کتاب کے آغاز میں ’’کتنے خوابوں کے بعد‘‘ والے سفر میں ذکر کیا ہے کہ اپنی پرانی بستی کے سفر کی سبیل اس طرح بنی کہ عبید نے ذکر کیا کہ آپ کے بارے میں دستاویزی فلم بنانے کا ارادہ ہے اور پوری ٹیم ان کے ساتھ ڈبائی جائے گی۔ سفر کے لیے نکل کھڑے ہوئے مگر راستے میں بارش نے آ لیا۔ اس کے باوجود خوابوں کی اس بستی میں انتظار صاحب گئے اور اس کا بدلہ ہوا نقشہ دیکھا، کچھ پہچانا اور کچھ سمجھا۔

اس فلم اور اس سفر کا ذکر کتاب کے درمیان ایک بار پھر آتا ہے، اور انتظار صاحب سوچنے لگتے ہیں کہ ’’عبید صاحب سے میں نے یاروں کا تعارف کرایا ہے یا نہیں کرایا ہے۔ اگر کرا چکا ہوں تو چلیے قند مکرّر سہی۔۔۔‘‘ اب اس کے بعد کون تجدیدِ تعارف نہیں چاہے گا؟

’’میں نے جب لندن کا پھیرا لگایا تھا تو بی بی سی میں ایک نوجوان سامنے آن کھڑا ہوا، انتظار صاحب، میرا نام عبید صدیقی ہے۔ میں آپ ہی والے کالج میرٹھ کالج کا طالب علم رہا ہوں۔۔۔‘‘

’’واہ واہ سُبحان اللہ۔ بھولی ہوئی منزل کو کہاں آکر یاد دلایا ہے۔‘‘ اس یاد میں حال کا حوالہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔ چند سطروں کے بعد انتظار صاحب لکھتے ہیں۔

’’رفتہ رفتہ پتلا چلا کہ عبید صاحب بہت تُنک مزاج ہیں۔ ناک پہ مکھّی نہیں بیٹھنے دیتے۔ گھڑی بھر میں تن پھن ہو جاتے ہیں۔ ادھر سے شاید کوئی ناانصافی ہوئی، بس بگڑ گئے۔ بی بی سی ایسے ادارے کو لات ماری اور دلّی کی راہ لی۔ اب جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے ماس کمیونی کیشن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دستاویزی فلمیں بناتے ہیں اور اپنے ہُنر کی داد پاتے ہیں۔ بس اسی ریلے میں مجھے بھی نواز ڈالا۔۔۔‘‘

تنک مزاجی کی بات اپنی جگہ درست، مگر عبید صدیقی کسی کو ریلے میں نوازنے والے آدمی نہیں تھے۔ لوگوں کو پہچانتے تھے اور اہل ادب کی قدر کرتے تھے۔ اس کا مظاہرہ کئی بار دیکھا۔

دہلی کے آئی آئی سی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے ہیں اور ایک مشہور پاکستانی شاعر کو موبائل فون پر زور زور سے باتیں کرنے پر ٹوک دیتے ہیں کہ وہاں کے قاعدے کے خلاف ہے۔

ایک اور یاد۔ اسی سینٹر کے لان میں موسم بہار کے پھول کھلے ہیں اور صبح کی دھوپ ہے۔ لان کی روش پر ٹہلتے ہوئے وہ آتے ہیں اور اپنی گاڑی نکلواتے ہیں۔ ’’عبید صاحب کا ڈرائیور۔۔۔‘‘ اعلان ہوتا ہے اور ان کا پرانا ڈرائیور گاڑی لے کر آجاتا ہے۔ وضع قطع سے یو پی والا لگ رہا ہے۔ عبید مجھ سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ دہلی کی سڑکوں پر دیر تک جاری رہتا ہے۔

ملاقاتوں کے اس سلسلے میں وہ مختلف نظر آئے۔ عبید نے ہلکی داڑھی رکھ لی تھی، سر کے بال سفید ہو چکے تھے اور پیٹ آگے نکل آیا تھا جو ان کے چھریرے بدن پر نمایاں ہوگیا تھا۔ وہ ٹیلی وژن پر ایک مقبول عام پروگرام کرتے تھے جس میں ہندوستان کے سماجی مسائل خاص طور پر مسلمانوں کے بارے میں بہت بے لاگ باتیں کرتے تھے۔ ان کا یہ پروگرام کتنا مقبول تھا، اس کا اندازہ ہمیں یوں ہوا کہ وہ کراچی آئے تو لوگ ان کو اس پروگرام کے حوالےسے جانتے تھے اور راستے میں روک کر باتیں کرنے لگتے تھے۔

ہمارے لیے ان کی ادبی شناخت اہم تھی مگر عبید نے کبھی اس پر اصرار نہیں کیا۔ وہ شعر خوب کہتے تھے مگر سنانے میں آگے آگے نہیں آتے تھے۔ مجموعہ بھی بہت عرصے کے بعد شائع ہوا، مجھے بہت پسند آیا اور پھر میں نے اسے کراچی سے شائع کیا۔ کتاب کی پشت پر انتظار صاحب کے تو صیفی فقرے کسی کو بھی سرشار کر دینے کے لیے کافی تھے۔ ’’رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے‘‘ کے نام سے سامنے آئی۔ وہ کتاب کی کراچی سے اشاعت سے خوش ہوئے مگر غیرمعمولی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

عبید صدیقی کراچی آئے آرٹس کائونسل کے زیراہتمام کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے اور وہاں کسی بدانتظامی پر ان کو ناراض دیکھنے کا موقع ملا۔ یوں ان کا جلال و جمال دونوں اس مرتبہ دیکھ لیا۔ کسے معلوم تھا وہ ہماری آخری ملاقات ہے اور ایئرپورٹ جاتے وقت ان کا الوداع آخری سلام ثابت ہوگا۔

عبید صدیقی اچھے شاعر تھے۔ مجھے ان کی شاعری پسند ہے لیکن جانے کیا بات ہے جب سے ان کے انتقال کی خبر سُنی ہے، ناصر کاظمی کے شعر یاد آئے جا رہے ہیں۔

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا

سدا رہے اس کا نام پیارا سُنا ہے کل رات مرگیا وہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *