”مراعات یافتہ چوہے اور بدعنوان مراعات یافتہ“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاہ دولہ کے چوہوں سے گجرات، پنجاب کے لوگ تو بخوبی واقف ہوں گے۔ (مزارات کے متعلق میرا نظریہ صرف وہی ہے جو اسلام کا ہے یعنی کچی قبر یا مٹی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ) تو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ شاہ دولہ کے چوہے کہلائے جانے والے یہ بچے یا بڑے جو مائیکرو سیفلی (Microcephaly) کا شکار ہوجاتے ہیں ان کا سر ان کے جسامت و عمر کے مقابلے میں کافی چھوٹا نظر آتا ہے۔ یہ تو بیمار ہیں معاشرے کی زبوں حال صحت مندی دیکھتے ہوئے ممکن نہیں ہے یہ چوہے کبھی چوہے سے انسان ہونے کا سفر و درجہ حاصل کر سکیں گے۔

ان کا ذکر یوں کردیا کہ میں صحت مند اور انحطاط زدہ معاشرے کا فرق تلاش کررہی تھی۔ پتہ چلا ہمارا معاشی نظام دو حصوں میں بٹا ہے۔ میں صرف چلتے ہوئے نظام کی بات کررہی ہوں جی ہاں موجودہ چلتا نظام ( کیونکہ دوسری طرف نہ چلنے والا نظام اعتماد، تنظیم، یقین کا ہوگا جو ابھی بیروزگار یا غیر مراعات یافتہ ہے (اگر مراعات کا حصول ہی نظام کو چلانے کا باعث سمجھ لیا گیا ہے تو، ورنہ مراعات کی بھی چنداں ضرورت نہیں ) ۔ سوچا آپ کے ساتھ شیئر کروں۔

آئیں اب مراعات یافتہ اور بدعنوان کا فرق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مراعات یافتہ جس میں نوکر شاہی سے لے کر ذاتی پسندیدگی اور نوازنے تک کے آخری درجات شامل ہیں۔

اوربدعنوان جس میں حکومتی، اعلی افسران سے لے کر چپراسی و پولیس کا معمولی سا اہلکار بھی شامل ہوسکتا ہے۔

پھر مراعات کیا ہیں؟

پھر ان دونوں گروپوں کو ملنے والی Privileges، اختیارات کس قسم کے ہیں؟

اور ان دونوں میں فرق کیا ہے؟

میں آخری سوال کا جواب لکھوں گی۔ اس سے پہلے دونوں سوالات کی وضاحت ہوجائے گی۔

مراعات یافتہ کسی نظام کو چلانے یا اپنا نظام چلانے کے لئے اپنے من پسند ماتحت نوکر رکھتے ہیں۔

اور بدعنوان پہلے سے موجود شخص کو خرید کر یا اس کے اختیارات اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کے لئے سودا بازی کر لیتے ہیں۔

بظاہر تو اپنے اپنے نظام یا گروپ کو چلانے کے لئے ان دونوں نے اپنے منتخب افراد کا چناؤ کیا ہے۔ اور اپنے اپنے مفادات کے تحفظات کے لئے اپنے من پسند لوگ بھی رکھ لئے۔

پھر دونوں چناؤ میں کوئی فرق کیوں رکھا جائے؟

( ایک کو مراعات یافتہ اور دوسرے کو بدعنوان کیوں گردانا جائے؟ اس سوال کا جواب آپ دیں۔ ) ۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نوکر شاہی نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔

تو دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ادارہ تنزلی کا شکار ہے، کارکردگی انحطاط کا شکار ہے اور مراعات یافتہ اسی طرح کام کر رہے ہیں اور اپنے ماتحت کو اپنے مفادات کے لئے مراعات دے کر خوش بھی رکھا ہوا ہے۔

کتنے ہی لوگ اپنے منہ سے یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں انھیں مراعات نصیب ہیں۔ کتنے ہی افسران و حاکم بالا کو آپ یہ کہتے سنیں گے۔ ”بیٹا تم خوش قسمت ہو ورنہ یہ مراعات یہاں کسے، کتنوں کو نصیب ہیں“۔

کیا واقعی یہ نصیب کاکھیل ہے؟

خوش قسمت ہونا اس کی دلیل ہے؟

پھر سونے کا نوالہ لے کر جو پیدا ہوتے ہیں وہ کون ہیں؟

کیا نوکریاں محض لابی بنانے کے لئے نکالی جاتی ہیں؟

اگر یہ سب ملکی اچھا و برا کاروبار یا معاشی نظام محض اپنے مفادات کا تحفظ ہے تو پھر یہ سسٹم نہیں ہے۔ یہ شاہ دولہ کا مزار ہے جس میں چوہے رکھے جاتے ہیں تاکہ مزار پر لنگر و مانگنے والوں کا لشکر چلتا رہے۔

اسی لئے مانگنے والوں کی تعداد میں کسیر اضافہ ہوا ہے ( گداگر نہیں، معاشی گداگری کہہ لیں )

اس میں فرق صرف اتنا آیا کہ بدعنوان گالیاں کھا نے لگے لیکن مراعات یافتہ کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ آپ شاید ہی کبھی ان کو برا بھلا کہہ کر دل کی بڑاس نکال سکیں، یہاں (موجودہ دور میں ) تعلیم یافتہ، مراعات یافتہ وہ چوہے ہیں جو پرسکون ہیں یہ شاہ دولہ کے چوہوں سے بھی گئے گزرے ہیں (کہ وہ ذہنی کمزوری کا شکار۔ ) ، آپ ان کو صحت مند ہی پائیں گے۔ اس سے پہلے کہ تعلیم یافتہ یہ طبقہ اپنے دماغ تک رسائی حاصل کرے اسے مراعات کی ٹوپی لگ چکی ہوتی ہے اور کچھ خود ہی خوشی خوشی اپنی مرضی سے یہ ٹوپی لگا لیتے ہیں۔

یہ ہمارا چلتا ہوا وہ معاشی نظام ہے جو بدعنوان نہیں ہے۔

اب آپ خود اندازہ لگا لیں ہم کتنے صحت مند معاشرے میں، معاشی مساوات کے ساتھ رہتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *