پھٹی چاندنی اور اضافت خور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرے مشاعرے کے بعد خان صاحب نے بڑی حیرت سے پوچھا، کیا یہاں ہر دفعہ یہی ہوتا ہے؟ جواب ملا اور کیا! بولے، خدا کی قسم! اس چاندنی پر اتنا جھوٹ بولا گیا ہے کہ اس پر نماز جائز نہیں! ایسے جھوٹے شاعروں کی میت کو تو حقے کے پانی سے غسل دینا چاہیے تاکہ قبر میں کم از کم تین دن تک تو منکر نکیر نہ آئیں۔

چاندنی پر جہاں جہاں شعرائے کرام نے سگرٹ بجھائے تھے وہاں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہو گئے تھے، جنہیں بعد میں فکرِ شعر اور دادِ سخن کے دوران انگلی ڈال ڈال کر بڑا کیا گیا تھا۔ چاندنی کئی جگہ سے پھٹ بھی گئی تھی

خان صاحب نے اس پر نماز کا مسئلہ چھیڑا تو مرزا نے ایک اور ہی فتویٰ دیا۔ کہنے لگے، دریدہ دامنِ یوسف پر تو صرف زلیخا ہی نماز پڑھ سکتی ہے! اس پر خان صاحب بولے کہ زلیخا کے خاوند کے لئے پشتو میں بہت برا لفظ ہے۔

خان صاحب کے لئے شاعروں کا اتنا بڑا اجتماع ایک عجوبہ سے کم نہ تھا۔ کہنے لگے، اگر قبائلی علاقے میں کسی شخص کے گھر کے سامنے ایسا مجمع لگے تو اس کے دو سبب ہو سکتے ہیں۔ یا تو اس کے چال چلن پر جرگہ بیٹھا ہے، یا اس کا والد فوت ہو گیا ہے۔

کبھی کوئی شعر پسند آ جائے، گو کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، تو ”وئی! “ کہہ کر فرط سرور سے آنکھیں بند کر لیتے اور جھومنے لگتے۔ شاعر مکرر پڑھنے لگتا تو اسے ہاتھ کے درشت اشارے سے روک دیتے کہ اس نے ان کے لطف میں خلل واقع ہوتا تھا۔

ایک دن ایک نوجوان شاعر نے دوسرے سے بازپرس کی کہ تم نے میری زمین میں غزل کیوں کہی؟ اس نے کہا، سودا کی زمین ہے، تمہارے باپ کی نہیں! اس شاعر پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ اضافت بہت کھاتا ہے۔ اس پر دونوں میں بہت تلخ کلامی ہوئی۔

شروع میں تو خان صاحب کی سمجھ میں نہ آیا کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ اگر زرعی زمین کا تنازعہ ہے تو زبانی کیوں لڑ رہے ہیں؟

جب ہم نے ردیف، قافیے اور اضافت کا مطلب سمجھایا تو خان صاحب دنگ رہ گئے۔ کہنے لگے ”لاحول ولا۔ میں تو جاہل آدمی ہوں۔ میں سمجھا اضافت خور شاید رشوت یا خنزیر کھانے والے کو کہتے ہیں۔ پھر سوچا نہیں باپ کو گالی دی ہے، اس پر لڑ رہے ہیں۔ فرضی زمینوں پر جوتم پیزار ہوتے ہم نے آج ہی دیکھی ہے! کیا یہ اپنی اولاد کے لیے یہی زمینیں ترکے میں چھوڑ کے مریں گے کہ برخوردارو! ہم تو چلے۔ اب تم ان آبائی مربعوں کی چوکیداری کرنا۔ ان میں قافیوں کی پنیری لگانا اور اضافتوں کا مربا بنا بنا کے کھانا! پشتو میں اس کے لئے بہت برا لفظ ہے۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *