اسحاق ڈار تختہ مشق کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سے پیوستہ کالم میں چین میں مقیم پاکستانی جو قید کی مدت پوری کر چکے ہیں کا مسئلہ بیان کیا۔ جس وقت گزشتہ ہفتے چینی سفیر نے اپنے گھر دعوت دے کر مجھے بتایا کہ ان کی کانگریس مارچ میں اس پر قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔ امید ہے کہ اب اس انسانی نوعیت کے مسئلے پر مزید کوئی غیر ضروری تاخیر دونوں ممالک کی جانب سے نہیں کی جا ئے گی۔ گفتگو اس بار یہ ہے کہ 2013 ؁ء کے عام انتخابات کے انعقاد کے وقت تک وہ بجلی اور معیشت کے المیہ حالات جو جنرل مشرف سے وراثت سے ملے تھے اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔

اس وقت کی معاشی ٹیم کے انچارج حفیظ شیخ ان معاملات پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے تھے۔ ان حالات میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی اور اسحاق ڈار کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی کہ وطن عزیز کی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ آئی ایم ایف ایک آپشن کے طور پر سامنے تھا۔ میٹنگ روم میں آئی ایم ایف کی ٹیم اور اسحاق ڈار آمنے سامنے بیٹھے۔ قرض کے حصول کے لئے گفتگو کا آغاز کر رہے تھے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم ماضی قریب کی دونوں حکومتوں سے معاملات طے کرتی چلی آ رہی تھی چنانچہ اپنے اس زعم میں اسحاق ڈار سے بھی مخاطب ہوئی اور اپنا بنیادی مطالبہ پیش کر دیا کہ پاکستانی کرنسی کی قیمت کو کم کر دیا جائے۔

کرنسی کی قیمت کو کم کر دیا جائے مگر اس سے کیا فائدہ پاکستانی معیشت کو ہو گا؟ یہ سوال اسحق ڈار نے ان سے کر ڈالا اور ساتھ ہی ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔ اور آپ کے وقت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم ہکا بکا رہ گئی کہ یہ کیا ہوا۔ مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ پاکستان نے روپے کی قیمت گرانے کے حوالے سے ٹکا سا جواب دے دیا تھا۔ آئی ایم ایف اور پاکستان پھر بھی ایک معاہدے پر پہنچ گئے مگر اسحاق ڈار کی اس شرط کے ساتھ کہ روپے کی قیمت کسی صورت کم نہیں کی جائے گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روپے کی قیمت کم ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ ویسے تو گزشتہ کم و بیش ڈیڑھ برس سے جو حالات جاری ہیں۔ اس کی وجہ سے ایک عام پاکستانی اچھی طرح جان چکا ہے کہ کیا ہوتا ہے۔ ہاں خواص روٹی کی جگہ ڈبل روٹی کھانے کے مشورے دینے سے اب بھی نہیں چونک رہے۔ خیال رہے کہ روپے کی اس قدر اور معیشت کو مصنوعی حالات میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ جس کا الزام لگایا جاتا ہے۔ کیونکہ اکنامکس کی دنیا میں مصنوعی معیشت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

کسی معاشی کیفیت کو ہفتے، دو ہفتے تو مصنوعی طور پر سہارا دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ وقت کے لئے یہ ہرگز ممکن نہیں۔ اور اپنے پورے دور اقتدار میں مسلم لیگ (ن) نے معیشت کو اس کی اصل حالت میں ہی رکھا۔ اور پیش کیا۔ اسحاق ڈار کو اسٹاک مارکیٹ 19000 کی سطح پر ملی تھی۔ تمام سٹاک مارکیٹوں کو یکجا کر کے پاکستان اسٹاک بنائے گئے۔ 19000 کا ہندسہ بڑھتے بڑھتے 54000 تک پہنچ گیا۔ شرح ترقی تقریباً 6 فیصد تک پہنچ گئی مگر پھر وہ کچھ ہونے لگا کہ جو نہ ہوتا تو ملک کے لئے بہتر تھا۔

سلیکٹرز خود آگے بڑھتے چلے گئے اور ملک نے واپسی کی راہ اختیار کر لی۔ زیادہ بحث کی ضرورت نہیں جو شرح ترقی 6 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور 7 فیصد کی توقع کی جا رہی تھی۔ وہاں پر اب یہ حالت ہے کہ شرح ترقی 3 فیصد سے کچھ زیادہ رہ گئی اور ستم بالائے ستم کے اگلے سال اس سے بھی گر کر 2 فیصد سے کچھ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اسی دوران جب بقراطوں نے روپے کی قدر میں کمی کی اور پاکستانی کرنسی گرا دی تو ایکسپورٹ تو کیا بڑھتی مہنگائی بہت رفتار سے بڑھنے لگی جو دھم ہی نہیں رہی ہے۔

آٹے کا بحران، گیس کا بحران پوری قوت سے ٹکرا رہا ہے۔ لوڈ شیڈنگ منتخب ہے کہ پوری طاقت سے گرمیوں میں اپنے جلوے دکھائے مگر حکومتی صفوں سے سوائے بی گریڈ تھیٹر کی تھکی ہوئی جگتوں کے اور کچھ نہ دکھائی دے رہا ہے اور نہ سنائی دے رہا ہے۔ جب یہ سطور تحریر کر رہا تھا تو خیال آیا کہ اس کی مخالفت میں مقدمات کا ذکر ہو گا کہ فلاں مقدمہ اور فلاں مقدمہ۔ اسحاق ڈار کو ہی ٹیسٹ کیس بنا لیتے ہیں۔ مشرف کا دور مسلم لیگ (ن) کے لئے کتنا پر آشوب تھا دلائل کی ضرورت نہیں۔

اس دور کو کسوٹی بنا لو کہ مقدمات کی کیا حقیقت ہے۔ 2000 ؁ء میں اسحاق ڈار کے خلاف نیب نے انکوائری کا آغاز کیا۔ شوکت علی نامی افسر کو تفتیش سونپی گئی۔ اپنی تفتیش کے اختتام پر شوکت علی نے قرار دیا کہ کیس میں کچھ نہیں رکھا۔ لہٰذا بند کر دیا جائے۔ 10 اپریل 2001 ؁ء کو یہ رائے دی تو کیس بند کرنے کی بجائے ایک اور افسر ابوذر سبطین کو 24 اپریل 2001 ؁ء کو تفتیش سونپ دی گئی۔ مگر جولائی میں اس نے بھی یہی رائے دی کہ کیس میں کچھ نہیں ہے لہٰذا بند کر دیا جائے۔

2000 ؁ء سے 2016 ؁ء تک نیب میں 7 تفتیشی افسران تبدیل کیے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام نے تفتیش کے اختتام پر یہی رائے دی کہ کیس بند کر دیا جائے کچھ نہیں رکھا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ نیب نے 2008 ؁ء میں اسحاق ڈار کے اثاثوں کی 1985 ؁ء سے 1999 ؁ء تک کے دوران آمدن سے مقابلہ کیا اور اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ آمدن سے زیادہ اثاثوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ جو اس دوران انہوں نے خرچ کیا وہ اس سے زیادہ خرچ کر سکتے تھے کیونکہ اس کی آمدن اس سے زیادہ تھی۔

آپ نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد شاہد خاقان عباسی، خواجہ برادران، احسن اقبال، کامران مائیکل اور مفتاح اسماعیل کے کیسوں کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ اسی نوعیت کے حالات سامنے آئیں گیا۔ اور انہی حالات کے سبب سے آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہو جانے والے اسحاق ڈار کی گھر کی نیلامی کا آرڈر آ گیا ہے کہ آخر مہنگائی روکی تو روکی کیوں۔ اس سے تو جمہوری حکومتوں کا قد بڑھتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *