خدا، کائنات اور انسان سے متعلق غامدی صاحب کا زاویہ نظر ( 4 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(پیش نظر مضمون جاوید احمد غامدی صاحب کے ساتھ طویل نشستوں میں ہوئی گفتگو کا میرے فہم پر مبنی خلاصہ ہے، جو قسط وار شائع کیا جائے گا۔ یہ نشستیں ”زاویہ غامدی“ کے عنوان سے یوٹیوب پر موجود ہیں۔ ویڈیو ٹرانسکرپشن شاکر ظہیر صاحب نے کی ہے۔ )

عثمان رمزی: غامدی صاحب استخراجی منہج (Deductive Method) کے وہ مقدمات کہاں سے آتے ہیں جنہیں درست مان کر ان سے مزید نتائج اخذ (Infer) کیے جاتے ہیں۔

جاوید احمد غامدی: وہ مقدمات انسان کے باطن میں موجود اضطراری علم سے تشکیل پاتے ہیں۔ خارجی کائنات کا تعلق جب انسان کے باطنی ادراک سے قائم ہوتا ہے تو وہ اس پر حکم لگاتا ہے، یہی حکم استخراجی منہج میں بنیادی مقدمات کا کردار ادا کرتا ہے۔

عثمان رمزی: باطن، باطن کا ادراک، داخل کا حکم، کوئی بھی نام لے دیں مگر یہ سارے تصورات مبہم ہیں۔ ان کی تعیین ممکن نہیں، جبکہ آپ انہیں استخراجی منہج کا بنیادی مقدمہ بتلا رہے ہیں۔ کیا اس سے آپ کی مراد قوت متخلیہ (Imaginative Faculty) ہے؟

جاوید احمد غامدی: انسان کی قوت متخیلہ اور اس کے باطنی ادراک میں فرق ہے۔ قوت متخیلہ سے پیدا ہونے والے تصورات کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خارج سے متعلق بھی ہو جائیں۔ بسا اوقات ہم ایسی چیزوں اور تصورات کا تخیل بھی کر لیتے ہیں جن کا وجود ممکن نہیں۔ مثلا آگ اگلنے والے پرندے کا تصور۔ یعنی جن تصورات کا خارجی اشیا کے ساتھ تعلق قائم نہیں ہو گا وہ تخیل قرار پائیں گے چنانچہ تھوڑا ہی عرصہ گزرے گا کہ انہیں دیومالا یا توہم کہہ دیا جائے گا۔

جبکہ وہ تصورات جو خارجی اشیاء کے ساتھ ایک مرتب تعلق قائم کر لیں گے وہ بنیادی مقدمات (Premises) کی حیثیت اختیار کر لیں گے۔ یہ انسان کا وہ داخلی احساس ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی اس میں موجود ہوتا ہے۔ شیرخوار بچے کو خارج میں موجود دودھ کے ساتھ بھوک کا تعلق سکھانا نہیں پڑتا۔ بلکہ بچہ اضطراری طور پر (Intrinsically) یہ تعلق قائم کرتا ہے۔

عثمان رمزی: جس احساس کو اضطراری علم کہا گیا وہ تو انسان کی ضرورت ہے۔ جیسے آپ نے بھوک اور پیاس کی مثال دی وہ بھی حیاتیاتی (Biological) عمل ہے جسے verify کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس طرح کے کسی احساس کی بنیاد پر جو مقدمات کھڑے کیے جاتے ہیں وہ abstract ہوتے ہیں۔ انہیں verify نہیں کیا جا سکتا۔

جاوید احمد غامدی: دیکھیے بھوک کی تبیین (Description) تو حیاتیاتی طریقے سے کی جا سکتی ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں مگر اسے بطور معلومات (Info) انسان کے دروں پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ازخود پیدا ہوتی ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ دیگر کلیات اور تصورات بھی اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ انہی کلیات کے ادراک کو افلاطون نے عالم مثال کہا تھا مگر غلطی یہ کی کہ اسے کہیں خارج میں تلاش کرنے لگا، حالانکہ وہ انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر سارے گھوڑے باہر ہیں لیکن وہ تصور جو ان تمام جزئیات کو گھوڑے کا نام دے کر ان کا مشترک وجود مان لیتا ہے، انسان کے اندر موجود ہے۔ اسی بنیاد پر انسان خارج میں موجود اشیاء کے مابین تفریق (Differentiation) کرتا ہے۔ کیونکہ گھوڑے کو گھوڑا ماننا بھی انسان کے اندر ہے، اس کی کلیت تلاش کرنا بھی انسان کے اندر ہے اور جب باہر کی چیزوں کے درمیان اشتراک باقی نہ رہے تو فوراً یہ حکم لگانے کا داعیہ بھی انسان کے اندر ہی سے آتا ہے کہ یہ گھوڑا نہیں خچر ہے۔ چنانچہ اس تناظر میں بھوک اور دیگر کلیات کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔

حسنین اشرف: غامدی صاحب ماضی کے انسان کا وہ داخلی علم جو کائنات کے خارج سے متعلق تھا، آج جھٹلایا جا چکا ہے۔ کل کو شاید دوبارہ ایسا ہو جائے تو سوال یہ ہے کہ وہ علم کلیات کی تشکیل کیسے کر سکتا ہے جو حتمی نہ ہو؟

جاوید احمد غامدی: اس بات میں تو دوسری رائے نہیں کہ تجربے و مشاہدے پر مرتب ہونے والی نت نئی معلومات انسان کے داخلی مقدمات میں تصحیح و ترمیم کا سبب بنتی رہتی ہیں۔ یعنی کبھی ایسا ہو گا کہ میں خارج میں موجود کسی شے کو کوئلہ مانوں مگر تجربے سے ثابت ہو جائے کہ وہ کوئلہ نہیں بلکہ ہیرا ہے یا اس کے برعکس، مگر پہلے اور بعد کی اس علمی پوزیشن پر جس چیز نے اعتماد پیدا کیا وہ میرے باطنی اذعان یا دوسرے لفظوں میں داخلی علم کے سوا کچھ نہیں ہے۔

وقاص خان: غامدی صاحب اب تک کی گفتگو سے دو ذرائع علم کی وضاحت ہوئی ہے۔ مشاہدہ و تجربہ اور تعقل۔ کیا کوئی تیسرا اور چوتھا ذریعہ علم بھی پایا جاتا ہے؟

جاوید احمد غامدی: انسان کے پاس چار نہیں تین ذرائع علم ہیں۔ یعنی علم کے لیے تین یا تینوں میں سے کوئی ایک چیز بنائے استدلال () بن سکتی ہے۔ مشاہدہ و تجربہ (Empiricism) ، عقلی استنباط جسے آپ تعقل (Cognitive Faculty) کہتے ہیں، یا مسلمہ تاریخ (Established History) ۔ مسلمہ تاریخ اتنا اہم ذریعہ ہے کہ بعض اوقات اس سے پیدا ہونے والے حقائق (Historical facts) سائنس پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متحجرات و رکازات (Fossils) جب دریافت ہوتے ہیں تو تاریخ کے ان حقائق پر بھی از سر نو غور شروع ہو جاتا ہے جو اس سے قبل درست تسلیم کیے گئے تھے۔

اسی طرح اگر کسی مقام سے ایک کتاب کا قدیم مخطوطہ دریافت ہو جائے تو ہمارے پاس موجود کتاب کا اس کے مطابق ہونا لازم ہو گا وگرنہ اس کی صداقت (Authenticity) ختم ہو جائے گی۔ مسلمہ تاریخ کا اطلاق انتہائی وسیع معنوں میں ہوتا ہے۔ یعنی ماضی کی کسی چیزکا، خواہ وہ جمادات سے متعلق ہو یا نباتات سے، کسی ذریعے سے ہمارے علم میں آ جانا۔ مسلمہ تاریخ کو میں دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ ایک وہ جس کی بنیاد لوگوں کے اجماع اور تواتر پر ہو مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ اجماع اور تواتر از اول تا آخر مسلسل ہو۔

یعنی ایسی روایت جو اپنے آغاز سے تاریخ کی روشنی میں ہو۔ مسلمہ تاریخ کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کی بنیاد آثار قدیمہ پر ہے۔ مثلا کہیں کسی شہر کی باقیات کی دریافت، مخطوطے، برتن یا انسانی استعمال کی دیگر اشیاء کی دریافت کے بعد ان پر کی گئی تحقیق سے جو نتائج سامنے آئیں، ان پر مبنی تاریخ۔ ان تین کے علاوہ کوئی ذریعہ علم میرے علم میں نہیں ہے۔

وقاص خان: علم اور ذرائع علم سے متعلق گفتگو سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ درست طریقے سے اگر چیزوں کو دیکھا جائے تو کائنات کے بڑے سوالوں کا جواب حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ وٹگنسٹائن (Ludwig Wittgenstein) کا کہنا تھا کہ بنیادی مسئلہ اظہار کا ہے، اظہار چونکہ زبان (Carrier) کے ذریعے ہوتا ہے اور وہ ایک ہی ہے، اس لیے مسائل بھی وہی ہیں، جو انسان کو روز اول سے درپیش تھے، سوالات بھی وہی ہیں، اور جوابات بھی۔ یعنی جب تک ہمارے پاس زبان کا دوسرا کوئی خاکہ نہیں ہو گا تب تک ہم یہی سمجھتے رہیں گے کہ انسان نے بنائے استدلال، ذرائع علم اور کائنات کی حقیقتوں کو جان لیا ہے۔ کیا ہوگا اگر زبان کا سٹرکچر تبدیل ہو جائے یا ہم ایک نئے جہاں اور نئی قسم کی زبان سے آشنا ہو جائیں؟

جاوید احمد غامدی: ہم انسانی علم کے دائرے میں بات کر رہے ہیں اس لیے مجبور ہیں کہ انہی ذرائع سے بحث کریں جو انسان کو حاصل ہیں۔ اگر ایک صبح ہم نے جاگ کر دیکھا کہ ہمارا جہاں تبدیل ہو چکا ہے، تو اس دن سے کائنات کی بابت ہمارا مطالعہ کسی دوسری نظر سے شاید ممکن ہو جائے مگر جب تک ایسا نہ ہو تب تک ہمارے پاس نا معلوم سے معلوم تک کا سفر انہی تین ذرائع سے کرنے کے علاوہ چارہ نہیں ہے۔ چنانچہ تبادلہ خیالات کا ذریعہ یہی زبان رہے گی۔

حسنین اشرف: غامدی صاحب یہ عجز کا اعتراف ہے۔ اگر انسانی علم اتنا ہی محدود ہے تو ہمیں کائنات سے ماورا کسی ہستی اور حیات بعد الممات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔

جاوید احمد غامدی: کیا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو عاجز مان کر قناعت اختیار کر لے یا اشیا کا تجزیہ کرے اور تجربے اور مشاہدے کے ذریعے نئے حقائق کی دریافت کی کوشش کرے؟ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی اس کوشش کے نتیجے میں سامنے آئے گا وہ انسانی علم کے دائرے کی چیز ہو گی۔ البتہ یہ امکان اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ انسان کے علاوہ کسی دوسری مخلوق کا اسی کائنات اور انہی اشیاء سے متعلق تجربہ بالکل الگ ہونے کی وجہ سے اس کا علم مختلف ہو۔ لیکن بحیثیت انسان جیسے مجھے بھوک مٹانے کے لیے وہی ذرائع اختیار کرنے ہیں جو انسانی دائرے میں ہیں اسی طرح میرے اندر موجود تجسس کی تسکین کے لیے بھی انہی ذرائع کا استعمال کرنا ہے جو انسان ہونے کے ناتے مجھے حاصل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *