جھوٹ سے نفرت کرنے والی چیونٹیوں کا قصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان کی نظر آنے والی چیونٹیوں پر جمی ہوئی تھی۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اب کیا ہوگا؟ لیکن جو کچھ ہوا وہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ چیونٹیوں نے آتے ہی اس چیونٹی پر حملہ کیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ایک دن علامہ ابن قیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک چیونٹی کو دیکھا جوکسی کھانے کی تلاش میں تھی۔ اسے ٹڈی کا ایک پر نظر آیا، وہ اس کے پاس آئی اور اس کو اٹھا کر لے جانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئی۔ کئی بار کوشش اور ناکامی کے بعد وہ اپنے بیس کیمپ (بل) کی طرف دوڑپڑی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں سے چیونٹیوں کی ایک فوج نمودار ہوئی۔ ایک چیونٹی ان کے آگے چلتی ہوئی ٹارگٹ تک ان کی رہنمائی کر رہی تھی۔

آخر کار سب چیونٹیاں اس جگہ پہنچ گئیں جہاں وہ پر پڑا ہوا تھا۔ چیونٹیوں کے اس جگہ پہنچنے سے پہلے ابن قیم نے وہ پر اٹھا کر ایک طرف کر دیا۔ سب چیونٹیوں نے اس پر کو تلاش کیا اورجب وہ پر نہ ملا تو باقی تو ساری چیونٹیاں واپس چلی گئیں لیکن ایک چیونٹی واپس نہ گئی اور دائیں بائیں پر تلاش کرنے لگی۔ شاید یہ وہی چیونٹی تھی جس نے پر دریافت کیاتھا۔ جب باقی چیونٹیاں بل میں داخل ہو گئیں تو ابن قیم نے وہ پر دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا۔

جونہی چیونٹی کو پر نظر آیا وہ مدد کے لیے باقی چیونٹیوں کو بلانے ایک بارپھر بل کی طرف گئی لیکن اس بار اس کی کال پر لبیک کہنے والی چیونٹوں کی تعداد پہلے کی نسبت کم تھی۔ ابن قیم نے ان کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ پر اٹھا کر ایک بار پھر غائب کردیا۔ چیونٹیوں نے کافی دیر تک پرتلاش کیا اور نہ ملنے پر واپس چلی گئیں لیکن حسب سابق وہ چیونٹی جسے پر نظر آیا تھا وہ وہیں موجود رہی اور اس پر کو ڈھونڈتی رہی۔ اس سے پہلے کہ وہ بھی واپس جاتی ابن قیم نے ایک بار پھر وہ پر سابقہ جگہ رکھ دیا اوروہ چیونٹی تیسری بار بھی اس پر تک پہنچ گئی۔ جونہی اسے پر نظر آیا وہ دوڑ کر اپنے کیمپ کی طرف گئی تاکہ باقی ساتھی چیونٹیوں کوبلا کر لائے۔

لیکن اس بار مدد کے لیے آنے والی چیونٹیوں کی تعدادصرف سات تھی۔ ابن قیم نے اس بار بھی وہ پر اس جگہ سے غائب کر دیا۔ چیونٹیوں نے کافی دیر تک پر کو تلاش کیا اور جب تلاش بسیار کے بعدبھی وہ پر نہ ملا تو انہوں نے غصے سے اس چیونٹی پر حملہ کیا اوراسے موت کی وادی میں اتار دیا۔ وہ جھوٹ بولنے پر اس سے ناراض تھیں۔ تب ابن قیم نے وہ پر چیونٹیوں کے درمیان رکھ دیا۔ جونہی ان کو پر ملا ساری چیونٹیاں اس مردہ چیونٹی کے پاس جمع ہو گئیں۔

گویا وہ سب ایک بے گناہ کے قتل پر شرمندہ تھیں۔ ابن قیم کہتا ہے کہ یہ دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں نے جاکر یہ واقعہ اپنے استاذابن تیمیہ کو سنایا۔ انہوں نے کہا :اللہ تجھے معاف کرے ایسا کیوں کیا؟ دوبارہ کبھی ایسا مت کرنا۔ جھوٹ سے نفرت فطرت کا حصہ ہے۔ کیڑے مکوڑے تک اس مکروہ دھندے سے نہ صرف نفرت کرتے ہیں بلکہ جس سے یہ جرم سرزد ہو اسے سزا بھی دیتے ہیں۔

آپ نے یہ واقعہ پڑھ لیا۔ اب اس پہلو پر غور کریں کہ پہلی بار مدد کے لیے آنے والی چیونٹوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن دوسری بار آنے والی چیونٹیوں کی تعدادنصف جبکہ تیسری بار صرف سات چیونٹیاں آئیں اور پر نہ ملنے پر انہیں اتنا شدید غصہ آیا کہ انہوں نے بلانے والی چیونٹی کو ہی مار دیا۔ ایسا کیوں تھا؟ آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔ پہلی بار انہوں نے اعتبار کیا لیکن جب پر نہ ملا تو آدھی چیونٹیوں نے پہلی چیونٹی کو جھوٹا سمجھا جبکہ تیسری بار سوائے سات کے کسی نے اس کی بات کر اعتبار نہ کیا۔

اب اس کی روشنی میں اپنے کردار پر غور کریں۔ ہم بھی اپنے گھروں میں ہوتے ہیں کہ الیکشن آجاتاہے، چیونٹی کی طرح کوئی لیڈر آتا ہے جس نے کبھی جمہوریت کا لبادہ اوڑھا ہوتا ہے اور کبھی مارشل لا کی دستار سجائی ہوتی ہے، وہ ہمیں میٹھے خواب دکھاتا ہے، ہم اس کی بات پر اعتبار کرتے ہیں، چیونٹیوں کی طرح اپنے گھروں سے نکلتے ہیں، الیکشن میں اس کی مدد کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اورپھر اس کی قیادت میں وہاں چل پڑتے ہیں جہاں وہ ”پر“ پڑا ہوتا ہے۔

جب کچھ نہیں ملتا تو ہم بھی کہتے ہیں کہ اب اس پر اعتبار نہیں کریں گے۔ لیکن جونہی اگلا الیکشن آتا ہم اسی جوش و خروش سے باہر نکلتے ہیں اورایک بار پھر ہماری آنکھوں میں دھول جھونک دی جاتی ہے۔ ”اب انہیں ووٹ نہیں دیں گے“ کا نعرہ لگاتے ہم گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں لیکن تیسری بار پھر چلے جاتے ہیں۔ ہمارے اعتبار کا یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے۔ اس دوران کئی زلزلے آئے جن میں کئی مضبوط عمارتیں گر پڑیں لیکن ہمارے اعتبار میں دراڑ تک نہ آئی۔

ہم بھی عجیب لوگ ہیں اسی عطار کے لونڈے سے دوا بھی لیتے ہیں، کچے مکان بنا کر بارشوں سے دوستی بھی کرتے ہیں، دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر کرتے ہیں، دودھ کی رکھوالی بلی کو بھی بٹھاتے ہیں اور پچھلے ستر سالوں سے گھوڑے کی گھاس سے دوستی بھی کرا رہے ہیں۔ ہماری حالت اس بس کی سی ہے جس کے بارے میں ضمیر جعفری مرحوم نے کہاتھا :

کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے
نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے

اس بس میں ہم عوام مسافر ہیں اور حکمران ڈرائیور، اور سونے پر سہاگا یہ کہ عوام کی اور ڈرائیوروں کی منزل بھی ایک نہیں ہے۔ ان مسیحاؤں سے تو وہ چیونٹیاں اچھی تھیں جنہیں جھوٹ سے نفرت تھی۔ کیا قوم میں ان چیونٹیوں کے برابر غیرت بھی نہیں کہ انہیں مسترد کر دے؟ اب تو یہ بھی کہاجا رہا ہے ”سکون صرف قبر میں ہے“۔ قبر میں جانے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سکون چاہیے تو مر جاؤ۔ نئے پاکستان میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں۔ عوام مرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اتنا رحم کریں کہ قسطوں میں نہ ماریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *