شرم کرو، سرمد سلطان کھوسٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرمد سلطان کھوسٹ، تم کیسی فلمیں بناتے ہو۔ پہلے تم نے فحاشی کا پرچار کرنے والے سعادت حسن منٹو کی زندگی پر فلم بنادی۔ چلو ٹھیک ہے بہت شوق چڑھا تھا تمھیں اس کی زندگی پر فلم بنانے کا تو سیدھا سیدھا اس کی زندگی دکھادیتے، مگر تم نے تو اس کے ”کھول دو“ اور ”ٹھنڈا گوشت“ جیسے فحش افسانے بھی فلما کر دکھا دیے۔ تم پر اگر اس وقت فحاشی پھیلانے کا مقدمہ کر دیا جاتا تو آج تمھاری جرات نہ ہوتی کہ تم ”زندگی تماشا“ جیسی فلم بنانے کا سوچتے بھی۔

جس میں تم نے ایک نیک اور مذہبی انسان کو کس روپ میں دکھا دیا ہے۔ ہمارے ہاں بھلا مذہبی انسان جو کہ نعتیں بھی پڑھتا ہو کب ایسے واہیات کام کر سکتا ہے۔ اب تم ہمیں یاد کرواؤ گے کہ قصور کی ننھی زینب، جس کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھی، اس کو ریپ کر کے مارنے والا عمران بھی تو نعتیں پڑھتا تھا۔ وہ تو ذہنی مریض تھا اور وہ ایک ہی ایسا تھا ورنہ بھائی ہمارے ہاں ایسے مذہبی لوگ اس طرح کا کوئی کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

اور پلیز، مدرسوں میں بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا ذکر بھی مت کرنا۔ وہ سب تو ایسے ہی ہمارے مذہب کے اتنے اچھے ماننے والوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ اس ضمن میں تم مجھے حال ہی میں مانسہرہ کے ایک مدرسے میں ایک بچے کے ساتھ سو سے زائد دفعہ ہونے والی جنسی زیادتی کا حوالہ بھی مت دینا، وہ بھی صرف بچہ مدرسے سے جان چھڑوانا چاہتا تھا اس لیے اس نے ایسی کہانی گھڑ لی۔

اب تم گھروں میں قاری صاحب کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والے بچوں کا ذکر کرو گے تو میرے بھائی یہ سب بھی سرا سر جھوٹ اور ہمارے مذہب کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ اور اس پروپیگنڈہ کو پھیلانے میں یہودو نصاریٰ پیش پیش ہیں۔ تبھی تو دیکھو نہ انھوں نے تمھاری اس بکواس فلم کو ایوارڈ سے نواز دیا ہے۔ جس پر بڑے تم نے شادیانے بجائے ہیں۔

مگر تمھیں کیا لگا تھا کہ جب تم اسلام کی مغرب کے خلاف سازش کے لیے آلہ کار بنتے ہوئے ایسی فلم بناؤ گے تو تمھیں یہاں کوئی نہیں پوچھے گا۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ مذہب کے اتنے رکھوالوں کے ہوتے ہوئے اپنی سازش میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اپنی فلم کی یہاں پر نمائش کروا لو گے۔ ان لوگوں نے تمہیں سمجھا کر فلم کی نمائش روکنے کا بھی کہا مگر تم باز نہیں آئے اور اب دیکھا نہ تم نے کہ تمھاری اس گستاخی کی وجہ سے تمہاری اس بیہودہ فلم پر پابندی لگ گئی ہے۔

اور اب اس کا جائزہ لینے کے لیے پنجاب انفارمیشن اور کلچر منسٹری کی طرف سے جو کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں اس مذہبی تنظیم کا رکن بھی شامل کیا گیا ہے جو ہمارے چیمپین ممتاز قادری کے پیرو کار ہیں۔ اس لیے تمھاری فلم سے مذہب کو بدنام کرنے کے ایسے ایسے نکتے ڈھونڈ کر نکالے جائیں گے کہ تم اس کی نمائش تو اب بھول ہی جاؤ۔ کیونکہ یہی نہیں جو کسر رہ جائے گی وہ اسلامی نظریاتی کونسل والے نکال دیں گے۔

اس سب سے بچنے کے لیے اپنی طرف سے بڑا تم نے وزیرِاعظم کو خط لکھا تھا کہ تمھاری فلم کی نمائش کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی باز پرس کی جائے۔ مگر کتنے تم احمق ہو کہ تم نے اس وزیرِاعظم سے یہ امید لگا لی جس کے ہاتھ میں ہر وقت تسبیح ہوتی ہے اور جو روحانیت کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا حکم دے چکا ہے۔ وہ تمھاری اس بیہودہ اور مذہب کو بدنام کرنے والے فلم کی نمائش پر تمھاری مدد بھلا کس لیے کرے گا۔

اس لیے بھیا تمھاری خلاصی کی تو بس ایک ہی صورت بچی ہے کہ تم کچھ شرم حیا کر کے اس طرح کی فلمیں بنانے پر معافی مانگ لو اور توبہ تائب ہو جاؤ کہ آئیندہ کبھی ایسی فضول اور گھٹیا حرکت نہیں کرو گے۔ اور ہاں اگر فلم بنانی بھی ہو تو صرف ایسی بنانا جس میں عورت کو ہمارے سماج کی سب برائیوں کی جڑ قرار دیا جائے، تم دیکھنا کہ تمھاری یہ فلم ”میرے پاس تم ہو“ جیسے ڈرامے کی مقبولیت کے ریکارڈ نہ توڑ دے تو مجھے کہنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *