انصاف کی دیوی کی گمشدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

باباعبداللہ کی عمر سو سال سے اوپر ہے۔ لیکن انہیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اپنے پاوں پر کھڑے ہیں۔ گھر کے صحن میں چہل قدمی کرتے رہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہیں۔ ظاہر ہے سو سال سے اوپر کا آدمی پھرتی اور تیزی کے ساتھ چلنے سے تو رہا۔ دن کے وقت نظر بالکل ٹھیک کام کرتی ہے تاہم رات کے وقت انہیں تھوڑی دقت ہوتی ہے۔ یادداشت کچھ کچھ متاثر ہوئی ہے۔ لیکن پانچوں کی وقت کی نماز نہیں بھولتے۔ یہ ان کے پچپن کا معمول ہے۔ گاؤں کے مولوی کے سعادت مند بیٹے جو ٹھہرے۔ قرآن بھی والد صاحب سے ہی پڑھا۔ اذان نہ سن سکیں تو اپنے کمرے سے نکل کر آواز دے کر بچوں سے تصدیق کرلیتے ہیں۔

اوہ! میں یہ بتانا تو بھول گیا کہ بابا عبداللہ کون ہیں اور میں انہیں کیسے جانتا ہوں۔ دراصل وہ برسوں سے ہمارے پڑوسی ہیں۔ میر بچپن ان کے گھر میں کھیلتے گزرا ہے۔ بابا عبداللہ کے پوتے میرے پچپن کے دوست ہیں۔

ہوسکتا ہے آپ سوچ رہے ہوں کہ میں یہ سب آپ کو کیوں بتا رہا ہوں۔ یہ تو ایک طرح سے ذاتی معاملہ ہے۔ دراصل میں آپ کو ان کی ایک عجیب پریشانی سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو اب میرے پریشانی بنتی جارہی ہے۔ مجھے خطرہ ہے کہیں یہ میرے بچوں کی پریشانی بھی نہ بن جائے۔ نماز پنجگانہ کے علاوہ یہی ایک بات ہے جو ان کے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوتی۔

انہیں انصاف کی دیوی کی تلاش ہے۔ جو ان کی جوانی میں لاپتہ ہوگئی تھی۔ آپ کہیں گے کہ میں کیا پہلیاں بجھا رہا ہوں۔ ایک ایسا شخص جس نے بچپن سے نماز، روزہ نہ چھوڑا ہو وہ کیسے دیوی دیوتاوں کی موجودگی پر یقین رکھ سکتا ہے۔ آپ اپنی جگہ بالکل صحیح ہیں۔ بابا عبداللہ الحمدللہ ایک سچے اور پکے مسلمان ہیں۔ لیکن غلط میں بھی نہیں کہہ رہا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ذرا ماضی کا سفر کریں گے لیکن اس سے پہلے یہ بتادوں محلے والے انہیں باباعبداللہ کہتے ہیں جبکہ ہم انہیں باباسائیں کہتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ہاں بزرگ و محترم ہستیوں کو احتراماً سائیں کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ صرف اللہ نہیں کہتے اللہ سائیں کہتے ہیں۔ اس سے عزت و احترام کے ساتھ محبت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ خیر یہ ایک ضمنی بات تھی۔

بابا سائیں اپنے گاؤں سے ہجرت کرکے جب کراچی آئے تو یہ ان کی نوجوانی کا دور تھا۔ ان کے گاؤں اگر آج آپ جائیں تو نیشنل ہائی وے کے ذریعے دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں، اس میں یہ سفر چند گھنٹوں کا نہیں تھا۔ ان کے والد گاؤں کے مولوی ضرور تھے لیکن مولوی ہونا ان کے روزگار کا ذریعہ نہیں تھا۔ ان کی تھوڑی بہت زرعی زمین اور کچھ بھینسیں تھیں۔ انگریز سرکار کی مہربانی سے ساحلی علاقوں تک موثر نہری نظام پہنچا تو یہ زرعی زمین جیسے سونا بن گئی تھی۔

یہ باتیں انہوں نے خود ہمیں بتائیں۔ گاؤں کی خوشحال زندگی کے باوجود نہ جانے کیا ہوا کہ انہوں نے گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ کراچی میں بھی انہوں نے ساحلی بستی ابراہیم حیدری کا رخ کیا جہاں ان کے چچا اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ حالانکہ چاہتے تو ملیر جیسے سرسبز زرعی علاقے میں بھی جاسکتے تھے جہاں ان کا ننہیالی گاؤں تھا۔

خیر یہ ان کی ہجرت کے اسی اوائلی دور کی بات ہے جب ان کی انصاف کی دیوی سے محبت پیدا ہوئی۔ ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنے چچا کے ہمراہ ابراہیم حیدری سے صدر گئے۔ واپسی پر چچا انہیں فریئر ہال لے گئے۔ اس کے لان پر قدم رکھتے ہی ان کی پہلی نظر انصاف کی دیوی پرپڑی۔ انصاف کی دیوی۔ سنگ مرمر کی مورت، یک بڑے سے چبوترے پر براجمان تھی۔ اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور ہاتھوں میں ترازو تھا۔ اس کی دونوں جانب پیتل کے دو ببر شیر بیٹھے تھے۔ گاؤں سے آئے عبداللہ، جن کے لیے یہ نئی دنیا جیسے ایک جادونگری تھی، شیروں کے قریب گئے تو انہیں ایسا لگا جیسے یہ ابھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس خیال نے ان کے جسم میں سنسنی دوڑادی۔

مجھے نہیں معلوم اس صورتحال کو آپ کیا نام دیں گے لیکن فریئرہال میں پہلی مرتبہ جانا اور انصاف کی دیوی سے ملاقات جیسے ان کے ذہن میں نقش ہوگیا۔ حالانکہ ان دنوں فریئرہال میں دیکھنے کو بہت کچھ ہوگا۔ اس کی برٹش طرز تعمیر کی خوبصورت عمارت، وسیع لان میں پھیلی ہریالی اور گھنے درخت، ان پر بیٹھے طرح طرح کے پرندے اور ان کی بولیاں، فطرت کے حسین رنگ۔ لیکن باباعبداللہ کی توجہ کا مرکز ہمیشہ انصاف کی دیوی ہی رہی۔

میں اسے انصاف کی دیوی کا مجسمہ نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے لگتا ہے ان کے لیے یہ معض ایک پتھر کی مورت ہی نہیں تھی۔ انصاف کی دیوی کے علاوہ دیگر مناظر کی طرف ان کی توجہ شاید اس لیے نہیں گئی کہ سرسبز کھیت، باغات، گھنے جنگل، خوبصورت چرند وپرند تو و ہ اپنے گاؤں میں ہی دیکھ دیکھ کر بڑے ہوئے تھے۔ کراچی ان کے لیے واقعی ایک نئی دنیا تھی۔

انصاف کی دیوی سے اس پہلی ملاقات کے بعد جب بھی ابراہیم حیدری سے صدر جانا ہوتا وہ فریئرہال ضرور جاتے۔ کئی مرتبہ انہوں نے انصاف کی دیوی کے جبوترے میں نماز بھی پڑھی تھی۔ بعد میں جب وہ ابراہیم حیدری سے لیاری منتقل ہوئے تو بھی ان کے فریئرہال جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر یوں ہوا کہ کراچی میں عجیب ہوائیں چلنا شروع ہوئیں۔ ایسی باتین ہونے لگیں جو کراچی کے اس عام محنت کش عبداللہ کے لیے حیرت انگیز تھیں۔ انگریزوں کی غلامی سے نجات اور اپنے آزاد وطن کی باتین۔ مجھے یاد ہے وہ جب ہمارے ساتھ اس دور کی یادیں تازہ کرتے تو آزادی کے ذکر پر ان کی آنکھیں چمکنے لگتی تھیں لیکن پھر اداسی کی ایک لہر انہیں لپیٹ میں لے لیتی تھی۔

آخر کار انگریز کے جانے کا وقت بھی آہی گیا۔ دور غلامی ختم ہوا۔ آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ سینکڑوں مانوس چہرے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ سرحد کھنچنے کے بعد دوسری طرف سے لٹے پٹے قافلے روشن صبح کی تلاش میں پہنچنے لگے۔ کراچی والوں نے اپنے بھائیوں کے لیے دلوں کے دروازے کھول دیے۔ ان کی مدد کرنے والوں میں عبداللہ بھی شامل ہوگئے اور اپنی بساط کے مطابق جو کرسکتے تھا کیا۔ اس افراتفری میں عبداللہ کو فریئرہال جانے کا موقع ہی نہیں ملا۔

اسی دوران شہر نے پہلی مرتبہ فسادات کا بھی مشاہدہ کیا۔ ایک ہنگامہ سا تھا جو ہرطرف برپا تھا۔ خیر جب یہ ساری گرد بیٹھی توعبداللہ کو موقع ملا اور وہ فریئرہال پہنچ گئے۔ لیکن لان پر پاوں رکھتے ہی جیسے ان کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ چبوترا خالی تھا۔ انصاف کی دیوی غائب تھی۔ فرش پر پیتل کے ببر شیروں کے سر پڑے تھے۔ یوں لگتا تھا ان میں جان پڑگئی اور انہوں نے انصاف کی دیوی کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن مزاحمت میں مارے گئے۔ آزادی مل گئی۔ انصاف کی دیوی لاپتہ ہوگئی۔

وہ منظر باباسائیں یعنی باباعبداللہ کے ذہن سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کراچی میں گزاری ہے۔ شہر کی کئی عمارتوں کی بنیادوں میں ان کی محنت، مہارت اور پسینہ شامل ہے۔ آزادی مل گئی۔ لیکن ان کی زندگی تبدیل نہیں ہوئی۔ وہ پہلے بھی آزادی سے نماز پڑھتے تھے، آج بھی پڑھتے ہیں۔ پہلے بھی مزدوری کرتے تھے اور بعد میں بھی مزدوری ہی کرتے رہے۔ فرق یہ پڑا کہ پہلے وہ ایک عام مزدور تھے بعد میں مہارت اور تجربے کی بنا پر ایک اچھی ساکھ والے راج مستری بن گئے۔ ساتھ ہی اپنے بچوں کو اچھی تعلیم بھی دلائی، جنہیں مزدوری کی مشقت سے گزرنا نہیں پڑا۔

لیکن انصاف کی دیوی سے خالی چبوترے اور پیتل کے ببر شیروں کے فرش پر پڑے سروں کا منظر ان کی زندگی کی حصہ بن گیا۔ بعد میں بابا عبداللہ ہرسال چودہ اور پندرہ اگست کو ضرور فریئرہال جاتے۔ لیکن انہیں انصاف کی دیوی کبھی نظر نہیں آئی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *