حزب اختلاف خاموش کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حزب اقتدار کی طرح حزب اختلاف کے ارکان بھی عوام سے رائے لے کر مجلس شوریٰ کے ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ دونوں کی مراعات بھی برابر ہوتی ہیں۔ دونوں طرف سے تعلق رکھنے والے ارکان اپنے حلقے کے لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے منصوبہ بندی اور قانون سازی کریں، جبکہ حزب اختلاف کا کام عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بنائے گئے ان منصوبوں اور قانون پر نگاہ رکھنا ہو تا ہے کہ کہیں کوئی منصوبہ یا قانون عوام کی فلاح کے خلاف تو نہیں اور آئین اور قانون سے متصادم تو نہیں۔

جمہوری معاشروں میں ایوانوں کے اندر جمہور کی حقیقی نمائندہ حزب اختلاف ہی ہوتی ہے۔ اگر حکومت عوام کو سہولیات دینے میں تساہل سے کام لیتی ہے تو عوام کی نظریں حزب اختلاف پر ہوتی ہے۔ عوام کو امید ہوتی ہے کہ حزب اختلاف مجلس شوریٰ میں ان کے حق میں آواز بلند کر یگی۔ اگر حزب اختلاف اقتدار کی ایوانوں میں آواز بلند کرتی بھی ہے لیکن حکومت پھر بھی توجہ نہیں دیتی اور مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی تو پھر بھی عوام کی نظریں ان ہی کی طرف ہو تی ہیں کہ اب وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے اور ہم بھی اس میں شرکت کرکے اپنا فرض پورا کریں گے۔ لیکن مو جودہ دور حکومت میں اگر ایک طرف حکمران عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف بھی عوام مسائل کے حل کے لئے حکومت پر دباؤ بڑھانے میں سنجیدہ نہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں آئے ڈیڑھ برس کا عرصہ ہوا ہے۔ اس دوران بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں کئی مر تبہ اضافہ ہوا۔ بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ عوام کی نظریں حزب اختلاف کی طرف تھیں کہ وہ مجلس شوریٰ میں بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر ہونے والے اس اضافے کے خلاف بھر پور احتجاج کرے گی لیکن عوام کی یہ امید پوری نہ ہوئی۔

حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مجلس شوریٰ میں عوام کا مقدمہ نہیں لڑا۔ انھوں نے اقتدار کی ایوانوں میں اس مسئلے کو عوامی امنگوں اور خواہشات کے مطابق نہیں اٹھا یا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر چکے ہیں۔ ان کی جماعت نہ مجلس شوریٰ میں احتجاج کے موڈ میں ہے اور نہ ہی حکومت کو مجبور کرنے کے لئے سڑکوں پر احتجاج کے لئے تیار ہے۔ پیپلز پارٹی قیادت بھی عوامی مسائل کو مجلس شوریٰ میں اٹھانے سے گھبرا رہی ہے۔

ابھی تک جو صورت حال ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ بھی عوام کو سڑکوں پر لانے سے کترا رہی ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف حکومت عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کیوں عوام کو سہولیات دینے اور ان کے مسائل کے حل کے لئے حکومت پر دباؤ بڑھانے پرخاموش کیوں ہے؟ کیا وہ عوام کی نمائندہ نہیں؟ کیا حکومت کی طرح ان کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ بھی عوام کو سہولیات دینے میں اپنا کردار ادا کریں؟ کیا حکومتی پالیسیوں پر نگاہ رکھنا ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں؟ اگر ان تمام سوالوں کے جوابات ہاں میں ہیں تو پھر حزب اختلاف کیوں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہے؟

موجودہ صورت حال میں عوامی مسائل پر جس طرح حزب اختلاف نے لب سی لئے ہیں اس سے معلوم ہورہا ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے پاس ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں، چاہے وہ اقتدار میں ہو یا حزب اختلاف میں۔ اگر سیاسی جماعتوں کے پاس ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی ہوتی تو آج حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی خاموش نہ ہوتی۔ ان سیاسی جماعتوں کے قائدین انتخابی مہم کے دوران عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے جذباتی تقریریں کرتے ہیں۔

ایک دوسرے پر الزامات لگا کر عوام سے ووٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک اور قوم کے تما م مسائل ان کو زبانی ازبر ہے۔ انتخابی مہم کے دوران وہ خوب اس بات کی تشہیر کرتے ہیں کہ ہمیں تمام ملکی اور قومی مسائل کا مکمل ادراک ہے، لیکن عملی طور پر وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کو ئی بھی منصوبہ بندی نہیں رکھتے، اس لئے حکومت میں آنے کے بعد وہ عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہو تے ہیں۔ دوسری طرف حزب اختلاف میں بیٹھنے کی صورت میں وہ عوام سے انتقام لینا شروع کر دیتے ہیں۔

ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ حکومت کیا کررہی ہے؟ عوام کو ان کا حق مل رہا ہے کہ نہیں؟ ان کو تمام مراعات مل رہی ہوتی ہیں اس لئے وہ عوام کی بات نہیں کرتے۔ ان کو اپنے آپ اور اپنے خاندان کی فکر ہوتی ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین اپنے آپ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ مختلف مقدمات میں ضمانتیں ہورہی ہیں۔ ملک سے باہر جانے کی اجازت مل رہی ہے۔ اس وقت ان کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ اپنا اور اپنے خاندان کی خدمت ہی ان کا منشور ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے ملک واپس آئیں۔ حزب اختلاف کو منظم کریں اور عوامی مسائل کو مجلس شوریٰ میں بھر پور انداز میں اٹھا ئیں۔ اگر حکومت مجلس شوریٰ میں ان کی آواز سننے سے انکاری ہے تو پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے سڑکوں پر عوام کی قیادت کریں تاکہ حکومت نے مہنگائی کا جو بازار گرم کیا ہے اس سے عوام کو نجات ملے۔

سبزیوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ عام آدمی پریشان ہے لیکن کوئی بھی ان کے حق میں آواز بلند کر نے والا نہیں۔ جمہوریت میں اگر حکومت عوام کو سہولیات دینے میں تساہل کرتی ہے تو حزب اختلاف ہی ان کی امید ہوتی ہے کہ وہ ان کی نمائندگی کریں گے اور ان کے حقوق کے لئے حکومت سے لڑیں گے لیکن یہاں تو جس نے عوام کے لئے آواز اٹھانی تھی وہ خود خود ساختہ جلاوطنی پر ملک سے باہر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جو مجلس شوریٰ میں عوام کی آواز بن رہی ہے اور حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کے لئے سڑکوں پر بھی احتجاج کر رہی ہے۔

لیکن اکیلے مجلس شوریٰ میں جماعت اسلامی کے احتجاج کا حکومت پر کوئی اثر ہونا نہیں اس لئے کہ مجلس شوریٰ میں ان کی نمائندگی وہ نہیں کہ حکومت کو مجبور کر سکے۔ لہذا ضروری ہے کہ مجلس شوریٰ کے اندر اور باہر حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں ان کا ساتھ دیں تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ حزب اختلاف میں موجود تمام سیاسی جماعتیں چور ہیں اس لئے وہ سب اپنے آپ کو بچانے میں مصروف ہیں۔ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ حزب اختلاف مجلس شوریٰ عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اٹھائیں اورعوامی احتجاج کی شکل میں عوام کی نمائندہ بن کر سامنے آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *