شاہد، شیریں اور درویشوں کا ڈیرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

13 جولائی 2019 ء کی شام شاہد اور شیریں کے ساتھ تھی۔ انھوں نے فیملی آف دی ہارٹ کے لیے عشائیہ اور ایک ادبی نشست کا اہتمام اپنے ہاں مسی ساگا میں کر رکھا تھا۔ یہ محفل ہمارے اعزاز میں تو تھی ہی مگر انہوں نے فیملی آف دی ہارٹ کے مسی ساگا میں میسر ادیبوں، شاعروں اور ارباب ذوق کو بھی دعوت دے رکھی تھی۔ جناب شاہد اخترصاحب اور محترمہ شیریں صاحبہ دو دہائیوں سے کینیڈا میں مقیم ایک خوبصورت جوڑی ہے۔ شاہد۔ ’‘ تنازعات نمٹانے کے سات بہترین اصول ”Seven Cs to Conflict Resolution کے نام سے ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ اس کے علاوہ شاعری سے رغبت ہے۔ خوشگوار طبیعت کے حامل شاہد اٹھتے بیٹھتے کوئی اچھا سا شعر سنانے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

شاہد اور شیریں کے ہاں پندرہ سے بیس ادیب اور شاعر اور آرٹسٹ جمع تھے۔ اپنا اپنا تعارف کروایا گیا۔ مدعوئین میں ٹیبی شاہدہ، ثمر اشتیاق، فوزیہ اشتیاق، ہما دلاور، فیصل، زبیر خواجہ، محمد حفیظ، روبینہ فیصل، عروج راجپوت اور دیگر شامل تھے۔ محترمہ عروج صاحبہ ایک مصورہ اور شاعرہ ہیں اور آج کل ٹورنٹو ہی میں ایک معروف ایف ایم ریڈیو سے منسلک ہیں۔ ہما دلاور بھی آرٹسٹ ہیں اور نثری شاعری کرتی ہیں۔ ان کے قطعات اور نظمیں ادبی محفل کو ترنگ اور نشاط عطا کرتی رہیں۔

ٹیبی شاہدہ صحافی اور مضمون نگار ہیں۔ ثمراشتیاق بچوں کی تعلیم سے منسلک کالم نگار ہیں۔ مگر شاعری میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ورجینیا أ امریکہ سے آئی فوزیہ اشتیاق مصورہ اور شاعرہ ہیں۔ روبینہ فیصل افسانہ نگار اور صحافی ہیں۔ زبیر خواجہ شوسلزم پر گہری نظر رکھنے کے علاوہ اس موضوع خوب لکھتے بھی ہیں۔ خالد سہیل اس ادبی و تخلیقی گلدستے کے روح رواں ہیں۔

عشائیے سے قبل ادبی نشست میں اردو کتاب ”درویشوں کا ڈیرہ“، جس کا ترجمہ راقم نے انگریزی میں کیا ہے اور کتاب کا انگریزی نام: ”Dervishes Inn“ رکھا ہے، زیر بحث رہی۔ اس موقع پر کتاب میں موجود نظم۔ ”بوڑھی آنکھیں“ جس کا ترجمہ Aging Eyes کیا گیا ہے۔ راقم نے محفل میں پڑھ کر سنائی۔ سامعین بہت محظوظ ہوئے۔ اس کے علاوہ شرکاء میں سے ہر ایک نے اپنی ایک تازہ تخلیق پڑھ کر سنائی۔ یہ سلسلہ کھانے کے بعد بھی چلا۔

ہمیں شاہد اور شیریں کے ہاں بہت عزت و توقیر اور حوصلہ افزائی کا احساس رہا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں کی محبت اور اپنائیت کی چاشنی آج بھی محسوس ہوتی ہے۔

اگلے روز یعنی 14 جولائی 2019 ء دونوں کتابوں۔ ”درویشوں کا ڈیرہ“ اور Dervishes ’Inn کی تقریب رونمائی تھی۔ جس کا انتظام و انصرام ڈاکٹر خالد سہیل گزشتہ چار ماہ سے کر رہے تھے۔ پورے کینیڈا میں ہر علاقے کی رہائشیوں کے لیے حکومت نے کمیونٹی سنٹرز بنا رکھے ہیں۔ مناسب معاوضے کے عوض ان کمیونٹی سنٹرز میں موجود ہالز کی بکنگ کروائی جا سکتی ہے۔ مرضی کی تاریخ لینے کے لیے آپ کو کم ازکم تین ماہ قبل اپنی تقریب کی تفصیلات انتظامیہ کو بتانی ہوتی ہیں۔ کھانے پینے کے لوازمات کا انتظام آپ خود کریں گے۔ کمیونٹی سنٹر آپ کوصوتی نظام، ڈائیس، آپ کی پسند کے ہال میں نائیت مناسب فیس کے عوض مہیا کر دے گا۔

زندگی کو ان ممالک کی حکومتوں نے عام لوگوں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر کتنا سہل کر دیا ہے۔ نہ کسی بڑے عہدے دار کی سفارش کی ضرورت اور نہ کچھ دے دلا کر کام چلانے کا چلن۔ پہلے آو پہلے پاؤ۔ برابری اور مساوات۔

تقریب میں ہمارے علاوہ قریب ستّر افراد مدعو تھے۔ ساٹھ سے اوپر حاضرین و مقررین تشریف لائے۔ مقرّرین نے ”Dervishes Inn“ اور ”درویشوں کا ڈیرہ“ پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ یہاں لوگ کتاب پڑھ کر کتاب کی تقریب میں آتے ہیں اور بے باک تبصرے کرتے ہیں۔ بقول شخصے ”انجمن ستائیش باہمی“ طرز کی تنظیموں کا شمالی امریکہ میں کوئی وجود نہیں۔

ٹورنٹو میں مقیم، سینئر افسانہ نگار شکیلہ رفیق صاحبہ بطور صدر محفل مدعو تھیں جو بیماری اور نقاہت کے باوجود تشریف لائی تھیں۔ اچھی بات یہ بھی تھی کہ سامعین پوری طرح ملوث و مشغول ہو کر ساری بات چیت سُن رہے تھے۔

پروگرام 4 بجے سے شام 7 بجے تک چلتا رہا۔ تقریب سے خالد سہیل، شاہد اختر، ثمر اشتیاق، ٹیبی شاہدہ، مس لارا، ہما دلاور اور راقم نے خطاب کیا۔ اور ترجمے پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ترجمے کو عمومی طور پر سراہا گیا۔ مقررین کا خیال تھا کہ لٹریچر کوکسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا ایک دشوار کام ہے۔ اس کام کو احسن طریقے سے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کتاب جو مکتوب نگاری جیسی خوابیدہ صنف کو دوبارہ سے بیدار کرنے جا رہی ہے، انگریزی میں ترجمہ ہو کر اب دنیا بھر کے قارئین کو بھی دستیاب ہوگی۔

کتاب میں موجود تخلیقی و ادبی خطوط میں زیرِبحث لائے گئے موضوعات مثلاً : گرین زون تھراپی، گہری محبت، روحانیت، تخلیقیت، دیوانگی۔ سچ تک پہنچنے کے تین ضابطے، محبت، رومانس، دوستی اور شادی، عورت اور مرد کی غیر روایتی دوستی کے تقاضے اور حُسن۔ مشرقی ومغربی سماج میں تفاوت، ادب، شاعری، فلسفہ اور بہترین زندگی گزارنے کے تقاضے شامل ہیں۔ لوگوں کا خطوط نویسی بارے عمومی رویہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی اور مغربی معاشروں کا تقابلی جائزہ اور مشرقی اقوام کا ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے عوامل جیسے موضوعات نے کتاب کو کسی قدر سنجیدہ بھی بنا دیا ہے۔ اگرچہ دلچسپی برقرار ہے۔

مقررین کا خیال تھا کہ ”درویشوں کا ڈیرہ“ اُبھرتے ہوئے نوجوان شاعروں، ادیبوں اور لکھاریوں کو آپس میں خطوط تحریر کرنے کی تحریک بھی دے گی۔ خطوط کے تبادلے سے نوجوان نسل میں ادیب پیدا کرے گی۔ اور خطوط نگاری جیسی اہم صفت جو ختم ہونے جا رہی تھی دوبارہ جی اُٹھے گی۔

زھرہ نقوی نے رابعہ الربّا کوموبائل فون کی کرامت سے تقریب کی کارروائی براہ راست دکھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ تقریب کے روح رواں پرویز صلاح الدین کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ جنہوں نے چائے کافی اور تصویر کشی سمیت تمام انتظامات اپنے ذمے لے رکھے تھے۔ پرویز پیشے کے اعتبار سے آئی ٹی سپیشلسٹ ہیں، مگر ادب سے گہرا شغف ہونے کی بدولت فیملی آف دی ہارٹ ایسی تقریبات میں بھرپور شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیگر شرکاء میں ہمیں جو نام یاد رہ گئے ہیں وہ لکھے دیتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ علاوہ ازیں شرکاء کرام ہمارے لیے کم اہم ہیں : ممتاز سائنس دان اور دانشور ڈاکٹر نسیم انور، اھم نثر نگارسید حسین حیدر، معروف صحافی حمیرہ شامی، ممتاز انگریزی شاعرہ زھرہ زبیری، مرینہ صاحبہ، ڈاکٹر عبدالحفیظ علوی، محمد حفیظ اور جاوید بخاری نے تقریب رونمائی میں شامل ہو کرمحفل کو چار چاند لگائے اور ہمارے حوصلے بلند کیے۔ حاضرین و سامعین کرام کی محبت اور ذوق وشوق دیکھ کر ہماری آنکھیں عرق تشکرانہ سے ڈبڈبا گیئں۔ ایک صاحب وھیل چیئر پر بھی تشریف لائے۔ ہم ان سے واقف نہیں تھے مگر ہم ان کے بے حد شکر گزار تھے۔

ہمارے تعارفی خطاب کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ کافی دیر چلا۔ سامعین و حاضرین خالد سہیل اور رابعہ الربّا کے بادی النظر میں متضاد نظریات کے باوجود اتنی اچھی اور مفید کتاب لکھ لینے کی کامیابی کے پس پردہ راز سے واقفیت حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ خالد سہیل ایک سیکولر، انسان دوست اور غیر روایتی دانشور ہیں، جبکہ رابعہ کا تعلق ایک روایتی مشرقی اقدار کے حامل خانوادے سے ہے۔ مگر ان کی نہ صرف قلمی دوستی ہوئی بلکہ دونوں ادیبوں نے مل کر ایک کتاب بھی لکھ ڈالی۔

یہ ایک دلچسپ اور خوبصورت بات ہے۔ اور ہمارے لیے ایک متنوع خیال بھی، کہ آپ کا تعلق کسی مذہب، رنگ، نسل یا دیس سے ہو۔ آپ کا سچ کچھ بھی ہو۔ آپ کا عقیدہ و نظریہ جیسا بھی ہو، اگر آپ کے اندر محبت ہے تو ہی دوسروں کو بانٹ سکتے ہیں۔ محبت اور خلوص ایک ایسا جذبہ ہے جو مختلف اقوام اور لوگوں کو بھی یکجا رکھ سکتاہے۔ یوں پوری دنیا کو امن کا گہواراہ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ محبت جغرافیائی لکیروں، عمروں کے فرق، عقائد و رسومات، رنگ و نسل اور قبیلے کو نہیں مانتی۔

ڈاکٹر سہیل نے بتایا کہ آپ دوسروں کو وہی شے دے سکتے ہیں جو آپ کے پاس موجود ہو۔ دوسروں سے محبت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر محبت وافر مقدار میں موجود ہو۔ ہمیں اپنے اندر محبت پیدا کرنی چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے کلینک پر کام کرنے والی Senior Therapist بیٹی ڈیوس Bette Davis مریضوں سے اکثر ایک سوال کرتی ہے :

”اگر آپ سے یہ کہا جائے کہ آپ کی زندگی صرف چند دن باقی ہے اور آپ صرف ایک کام کر سکتے ہیں تو آپ کون سا کام کریں گے؟ “

اس کا جواب اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آپ کے لئے کیا اہم ہے؟

زندگی میں آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟

اور یہ کہ، عموما آپ کس طرح کی زندگی بسر کر رہے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *