جدید سنیما کا پشاور میں پہلا قدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”فی الحال تو ہم نے ایک ہی سکرین لگائی ہے اگر اس کا رسپانس اچھا رہا تو مستقبل میں ہم مزید بھی سکرینز لگا سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس جگہ بھی ہے اور ریسورسز بھی“ یہ پشاور کے پہلے 3 D سنیما کے ٹکٹ کاؤنٹر پر بیٹھے انتظامیہ کے اہلکار نے ہمارے ایک سوال کے جواب میں کہا۔ اس وقت سنیما کے ٹکٹ ایریا اور ویٹنگ لاونج میں سنیما انتظامیہ اور ہم چند ایک لوگوں کے سوا کوئی بھی موجود نہیں تھا کیونکہ ’شو‘ کوشروع ہوئے قریباً گھنٹہ ہوچکا تھا۔

میں جب بھی ناز سنیما جو کہ اب ترقی کرکے تھری ڈی سنیما میں تبدیل ہوگیا ہے کے پاس سے گزرتا تھا تو اس کے باہر لگے دیوقامت بل بورڈ پہ نظر ضرور ڈالتا تھا کہ شاید کوئی اچھی اردو فلم لگی ہو۔ کیونکہ پشاور کے اکثر سنیماؤں میں صرف پشتو کی ہی فلمیں لگتی ہیں اور ناز سنیما پہ اکثر و پیشتر اردو فلمز کی بھی نمائش ہوتی ہے۔

کئی سال پہلے میں ایک دوست کے ہاں دعوت پر گیا تھا وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ اور بھی کافی دوست مدعو ہیں۔ دوران گفتگو پتہ چلا کہ پشاور کے ناز سنیما میں ”رستم“ انڈین فلم لگی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم صرف چار دوست تیار ہوئے اور فیصلہ کرلیا کہ یہاں سے کھانا کھا کر سیدھے فلم دیکھنے جاینگے اور پھر ایسے ہی کیا، کھانا کھانے کے بعد وہاں سے رخصت ہوئے اور بائیکز دوڑا کر سنیما پہنچ گئے تاکہ 9 بجے کے شو کے ٹکٹ لے سکیں اور ایک بھی سین مس کیے بغیر فلم دیکھ سکیں۔

تیز رفتاری کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم فلم شروع ہونے سے 15۔ 20 منٹ پہلے سنیما پہنچ گئے۔ پہلے مایوسی تو تب ہوئی جب سنیما کے بل بورڈ پر ایک انجانی اردو فلم کا نام لکھا دیکھا۔ سنیما کے بالکل پاس گئے تو اس کی مین انٹرنس کا جنگلا کھینچا ہوا تھا۔ ہم جنگلے کے پاس کھڑے ہو کر اندر جھانکنے لگے تو اندر ڈم لائٹس لگی تھیں جس میں سے دیواروں پہ لگے فلمز کے پوسٹرز دھندلے دکھائی دے رہے تھے، لیکن سنیما کے لاونج کا ایریا مکمل سنسان پڑا تھا، وہاں نہ کوئی بندہ تھا اور نہ بندے کی ذات۔

جب سنیما انتظامیہ کا کوئی بھی بندہ نظر نہیں آیا جس سے بات کرکے فلم کے بارے میں پتہ کرتے تو ہم نے مجبورا آپس میں بات کرنی شروع کردی کہ یہ تو وہ فلم نہیں ہے جس کے لئے ہم کھانا جلدی کھا کر اور موٹر سائیکلیں ہوا کی رفتار سے دوڑا کر آئے ہیں ابھی ہم بات ہی کر رہے تھے کہ بیچ میں کسی نے بنا ایکسیوز کیے بولنا شروع کیا کہ بھائی یہ بھی بہت اچھی فلم ہے۔ اس کی بہت ہی اعلی کہانی ہے، سسپنس سے بھرپور اور ایکشن کے تو کیا کہنے۔

ہم نے اس سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے دیکھی ہے یہ فلم؟ اس نے جواب دیا، ہاں، ایک نہیں بلکہ کئی بار، اس سے پہلے کہ ہم اور کچھ پوچھتے اس نے کہا میں اسی سنیما کا پروجیکٹر آپریٹر ہوں مجھے ہر فلم ان گنت بار دیکھنی پڑتی ہے۔ پھر ہم نے پوچھا شو کتنے بجے شروع ہوگا اس نے کہا جوں ہی آپ لوگ ٹکٹ لے کر بیٹھ جائنگے تو شو شروع ہوجائے گا۔ اب فلم تو ہماری پسند کی تھی نہیں لیکن سنیما آکر بنا فلم دیکھے جانے کا دل نہیں کیا، سو ہم نے ٹکٹ خریدے اور ہال کے اندر جاکر بیٹھ گئے اور یوں شو شروع ہوگیا، پوری ہال میں بس ہم چار لوگ تھے، شروع سے آخر تک۔

فلم ختم ہوئی تو تب تک میں نے فیصلہ کرلیاتھا کہ میں آئندہ کبھی اس سنیما نہیں آؤنگا کیونکہ نہ مجھے فلم پسند آئی، نہ ساؤنڈ اور نہ ہی تصویر کی کوالٹی۔ پھر ہم جب بھی فلم دیکھنے گئے تو جناح پارک راولپنڈی ہی گئے۔ لیکن کچھ دن پہلے جب میڈیا پہ ناز سنیما کی رینویشن کی خبر سنی تو پہلے فرصت میں وہاں پہنچ گیا۔ سنیما کا بیرونی منظر یکسر بدل گیا تھا میں تو دیکھ کر حیران ہی رہ گیا۔ جب اندر داخل ہوا تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں پشاور کے کسی سنیما کے احاطے میں ہوں چند لمحوں کے لئے تو ایسے لگا جیسے میں روالپنڈی آیا ہوں، کیونکہ پشاور میں ایسے انتظامات کا ہونا کسی ناممکن کو ممکن کردینے کے مترادف یے۔

سنیما کے پاس پارکنگ سے لے کر کیفیٹریا، فیملیز اور خواتین کے لئے خصوصی لابی کا انتظام، سب حیران کن تھا۔ اور انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح ہے کہ وہ پشاور کے فلم بینوں کی تفریح کے لئے صرف معیاری اردو اور انگریزی فلموں کی ہی نمائش کریں۔ پشاور میں سنیماؤں کی تعداد تو حقیقتاً کافی کم ہے، لیکن اب تک شہر میں کوئی بھی ایسا سنیما موجود نہیں تھا جس میں بندہ فیملی کے ساتھ جاکر فلم دیکھ سکتا ہو، ناز سنیما ایسی پہلی کاوش ہے اور اس کو جتنا سراہا جائے کم ہے۔

پی ٹی آئی گورنمنٹ کے اولین دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ بات سرکولیٹ ہو رہی تھی کہ موجودہ حکومت پاکستان کے تمام اضلاع میں چھوٹے بڑے تقریباً ہزار سنیما کھولے گی اور یہ واقعی ایک احسن اقدام ہوتا۔ لیکن کچھ ہی دنوں بعد اس وقت کے انفارمیشن منسٹر فواد چوہدری اپنی بات سے مکر گئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش 160 سنیما سکرینز ہیں ایک دوسرے سروے کے مطابق تو صرف 120 سکرینز ہیں، جو آبادی کے لحاظ سے انتہائی کم ہیں۔

ایک کامیاب سنیما انڈسٹری نہ صرف معیاری تفریح مہیا کرتا ہے بلکہ قومی بیانیہ کی ترویج اور روزگار پیدا کرنے کے بھی کام آتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور تو انتہائی کھٹن وقت سے ہوکر نکلا ہے یہاں تو جتنے بھی تفریح کے مواقع پیدا کیے جائیں کم ہیں۔ اور پشاور کے عوام تفریح کی تلاش میں دیگر شہریوں میں بھی جائیں لیکن اپنے شہر میں موجود مواقع سے بھی فایدہ اٹھا کر سرمایا کاروں کا اعتماد بحال کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *