ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس کا آنکھوں دیکھا حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو سال قبل جنوری 2018 میں ورلڈ اکنامک فورم کی میڈیا کوریج کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کے انتہائی سرد اور دلکش مناظر سے بھرپور شہر ڈیووس جانے کا موقع ملا۔ زیورخ ایئرپورٹ سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع اس پہاڑی علاقے کی تمام چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی ہیں اور درجہء حرارت بھی تقریباً منفی بارہ ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ دن نکلنے میں چند ہی منٹ باقی تھے کہ جب ہم اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈیووس کے لئے روانہ ہوئے راستے میں دن کے اجالے میں اضافہ ہوا تو ارد گرد برف کی چادر اوڑھے پہاڑی سلسلہ دکھائی دینے لگا اور چند ہی لمحوں بعد وہ پہاڑ اور پوری وادی سورج کی روشنی سے چمکتی دکھائی دینے لگی۔

دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم کافی اونچائی تک پہنچ چکے تھے اور اب گاڑیوں کی آمد و رفت بھی بڑھ چکی تھی اتنے میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر شناخت کروانے کے بعد جب ہم ڈیووس کی حدود میں داخل ہوئے تو وادی کا منظر تبدیل ہو چکا تھا ڈیووس کی اونچائی پر پہنچ کر ساری وادی اور پہاڑی سلسلہ کا دلفریب نظارہء کیا جا سکتا ہے اس سلسلے کو سوس ایلپس کہا جاتا ہے۔

ڈیووس کی خوبصورتی ایک طرف لیکن وہاں پر جاری ورلڈ اکنامک فورم نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ یو این اجلاس سمیت ورلڈ اکنامک فورم دنیا کے اہم ترین اجلاسوں میں شامل ہے۔ سنہ 1971 میں جب ورلڈ اکنامک فورم ( ڈبلیو ای ایف) کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا مقصد ’دنیا کو معیشت سمیت جن چیلنجر کا سامنا ہے ان پر تبادلہ خیال کرنا ہے تاکہ ممالک کے آپس میں تجارتی معاملات سمیت دیگر تعلقات میں بہتری لائی جا سکے۔

ہر سال ورلڈ اکنامک فارم کی تقریب ڈیووس کے الپائن ریزارٹ میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس کانفرس کے ذریعے کاروباری سربراہان کو ایک ایسی جگہ اکٹھا کیا جاتا ہے جہاں سیاست، شوبز اور تقریباً تمام شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑے نام موجود ہوتے ہیں۔ ڈیووس میں دنیا کے کئی مقبول ترین ہوٹلز بھی قائم کیے جا چکے ہیں جہاں ورلڈ اکنامک فورم کی تقریبات کے باعث تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی۔ اس کے علاؤہ ہوٹلز کے ساتھ بازار بھی قائم ہے جہاں کانفرنس پر آئے مہمانوں کے لئے سوئٹزرلینڈ کی ثقافت سے متعلق سوئنیرز اور مختلف برانڈز کی اشیاء بھی دستیاب ہوتی ہیں

ورلڈ اکنامک فورم ( ڈبلیو ای ایف ) میں تقریباً تین ہزار لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ان میں ایک تہائی افراد کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ یہاں شرکت کرنے کے لیے آپ کو دعوت نامہ درکار ہوتا ہے جس کی کوئی قیمت نہیں اور اگر آپ ڈبلیو ای ایف کے رکن ہیں تب بھی آپ اس تقریب کا حصہ بن سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے آپ کو چار لاکھ 80 ہزار پاؤنڈز دینے ہوتے ہیں۔

دنیا کے بڑے رہنماؤں کے علاوہ یہاں اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت تمام اہم ممالک کے سربراہان موجود ہوتے ہیں جبکہ اس تقریب میں بڑی کمپنیوں ایپل، کوکا کولا، ہواوے، مٹسوبشی اور آئی بی ایم کے مالکان بھی شرکت کرتے ہیں۔ اس فورم میں دلچسپ، سود مند اور تعمیراتی بحث مباحثوں کے سیشنز سمیت سائڈ لائنز ملاقاتیں بھی کروائی جاتی ہیں جہاں باہمی دلچسپی کے امور زیر غور لائے جاتے ہیں۔

اس تقریب میں با اثر کاروباری اور سماجی شخصیات بل گیٹس، جیک ما فیس بک کے بانی مارک ذکربرگ عالمی شہرت یافتہ میڈیا اینکرز اور شوبز افراد باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں اور انہیں ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے بھی نوازا جاتا ہے۔

تمام شرکا کے لیے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے بعد اندر رسائی کے مختلف طریقہ کار ہوتے ہیں۔ شرکا کو رنگ برنگے بیج دیے جاتے ہیں تاکہ اس بات کا خیال رہے کہ کون کس سے مل سکتا ہے۔

لوگوں کی فہرست میں سب سے اول درجے کے مہمانوں کو سفید رنگ کا بیج دیا جاتا ہے جس پر ایک خاص نشان ہوتا ہے۔ اس سے انھیں تمام جگہوں میں جانے کی رسائی مل جاتی ہے۔

اس تقریب کے کچھ نمایاں پہلوؤں میں کانفرنس کی پرکشش جگہ، یہاں ہیلی کاپٹرز میں مہمانوں کی آمدورفت اور اشرافیہ کی پر تعیش دعوتیں ہوتی ہیں۔ ان باتوں کی وجہ سے ’امیر ترین لوگوں کی محفل‘ کا یہ دعویٰ بھی مضبوط ہو جاتا ہے اور یہاں شرکت کرنے والوں کو ”ڈیووس مین“ کہا جاتا ہے

لیکن ڈبلیو ای ایف کا مؤقف ہے کہ یہاں صرف بڑے رہنماؤں کو دنیا میں جاری بحرانوں سے نمٹنے اور ان کے حل کے لیے اکٹھا کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے بزنس رپورٹر ڈینیئل تھومس کے مطابق اخبار فائنینشل ٹائمز میں معاشی مبصر مارٹن ولف کہتے ہیں ”اشرافیہ ہمیشہ نئی معلومات سے بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ ان کی فطرت ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ دنیا ان کے بغیر چل سکے۔ یہ ضروری ہے کہ ان لوگوں کی باقاعدگی سے ملاقاتیں ہوں تاکہ انھیں معلوم ہو سکے کہ باقی کیا سوچ رہے ہیں“

ورلڈ اکنامک فورم کا انعقاد ہر سال اکیس جنوری سے چوبیس جنوری تک ایگزیکٹو چیئرمین کلوز شواب کی سربراہی میں ڈیووس میں ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *